سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں
علی محمد الصلابیجب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ پہنچے اور مناسک حج سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنے پاس بلایا اور فرمانے لگے: ابن عمر! آپ تو کہا کرتے تھے کہ میں امیر کے بغیر ایک رات بھی گزارنا پسند نہیں کرتا۔ میں تمہیں امت کی وحدت پارہ پارہ کرنے سے خبردار کرتا ہوں اور میں تمہیں لوگوں میں فساد کھڑا کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ مگر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے انہیں خلفائے راشدینؓ کی بیعت کے طریقہ سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ اس وقت ان کے ایسے بیٹے بھی موجود تھے جو یزید سے بہت بہتر تھے مگر انہوں نے اپنے بیٹوں میں وہ چیز نہیں دیکھی جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یزید میں دیکھ رہے ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے اس امر کی بھی وضاحت کر دی کہ وہ مسلمانوں کی وحدت کو ختم نہیں کرنا چاہتے اور یہ کہ امت محمدیہ جس چیز پر اتفاق کرے گی وہ بھی اس سے موافقت کریں گے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس بات نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سینہ ٹھنڈا کر دیا اور وہ کہنے لگے: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ۔
(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 214، 215۔ صحیح سند کے ساتھ۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یزید سے اس شرط پر بیعت کرنے کا وعدہ کیا تھا اگر اس کی بیعت پر مسلمانوں کا اجماع ہو جائے تو (الفقہاء و الخلفاء: و سلطان خالد: صفحہ 58)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے ایک لاکھ درہم بھیجے اور پھر جب انہوں نے انہیں یزید کی بیعت کے لیے بلایا تو وہ کہنے لگے: تمہارا خیال ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما یہی کچھ چاہتے تھے؟ پھر تو میرا دین بڑا سستا ہے۔
(الطبقات: جلد 4 صفحہ 182)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک بیعت کے بدلے میں درہم وصول کرنا جائز نہیں تھا، اس لیے کہ یہ بات رشوت کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر بیعت حق ہے تو ان کے لیے حق کی اجرت لینا جائز نہیں ہے اور اگر وہ باطل ہے تو پھر مال کے بدلے اس شخص سے بیعت کرنا جائز نہیں ہے جو اس کا استحقاق نہ رکھتا ہو۔
(موسوعۃ فقہ عمر رضی اللہ عنہ: صفحہ 153 قلعجی)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا مؤقف یہ تھا کہ حکومت وراثت کے انداز میں منتقل نہیں ہوتی اور نہ ہی مال کے بدلے بیعت لینا جائز ہے۔
(الفقہاء و الخلفاء: صفحہ 59)