اسمعیلیت کی ابتداء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسمعیلیت کی ابتداء

  سید تنظیم حسین

صفحہ 1 از 3

اسماعیلیت جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہوگا شیعہ کا ایک فرقہ ہے لہٰذا اسماعیلیت کی ابتداء کے ذکر سے پہلے شیعیت کا سمجھنا ضروری ہے۔

اسلام میں شیعیت کا آغاز:

1: اس کا پشتر حصہ ایرانی انقلاب: صفحہ، 104، 107 سے لیا گیا ہے۔

جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ عہدِ نبوی میں قریب قریب پورا جزیرة العرب اسلام کے زیرِ اقتدار آگیا تھا۔ عہدِ صدیقی اور خلافتِ فاروقی میں اسلامی دعوت اور عسکری فتوحات کا سلسہ تیزی سے جاری رہا یہی صورت قریب قریب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی رہی اس مدت میں مختلف ملکوں، علاقوں، قوموں اور طبقوں کے بے شمار لوگ اپنے قدیم مذاہب و ادیان کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئے یہ عام طور سے وہی تھے جنہوں نے اسلام کو دینِ حق اور وسیلہ نجات سمجھ کر دل سے قبول کیا تھا لیکن ان میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے منافقانہ طور پر اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو مسلمانوں میں شامل کیا تھا۔

اور ارادہ یہ تھا کہ جب بھی کوئی مناسب موقع ملے گا مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں گے اس طبقہ میں سے ایک یہودی عالم عبداللہ ابنِ سبا تھا۔ 

1: کہا جاتا ہے کہ ابنِ سبا نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو انت انت کہا تھا یعنی تم خدا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے مدینہ منورہ سے شہر بدر کر کے مدائن بھجوا دیا کیونکہ یہ یہودی تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصی یوشع بن نون کے متعلق یہی عقیدہ رکھتا تھا عبد اللہ بن سبا کے پیرو سبائیہ کہلائے سبائیہ کا ایک عقیدہ یہ بھی تھا کے امام عام طور پر غیبت اختیار کر سکتا ہے لیکن وہ ایک روز ظاہر ہوگا۔

(تاریخِ فاطمییّنِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 274) 

بعد میں اس کے کردار سے یہ واضح ہوا کہ وہ اسی ناپاک ارادے سے اسلام لایا تھا اس نے سابقہ امتوں کی گمراہی سے یہ سبق سیکھا تھا کہ کسی مذہبی گروہ کو صراطِ مستقیم سے ہٹانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی نظر میں مقدس و محبوب ترین شخصیت کے بارے میں غلو اور افراط کا رویہ اختیار کیا جائے اس نے پہلے تو نبی اکرمﷺ کا تقابل حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کیا اور یہ خیال پیش کیا کہ حضورﷺ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اس خیال کی جو قرآنی تعلیم کے بالکل خلاف تھا پذیرائی حجاز، شام اور عراق میں نہ ہو سکی تو وہ مصر چلا گیا مصر اس کام کے لئے موزوں نکلا حضور نبی کریمﷺ کے بعد اس نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ دی اور ان سے رسالتِ مآبﷺ سے قریبی تعلق و قرابت کی بنیاد پر آپ کے ساتھ غیر معمولی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ایک مافوق البشر ہستی باور کرانے کی کوشش کی اور تدریجی طور پر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھنے والے معتقدین کا حلقہ پیدا کر لیا اور پھر ایک مرحلہ پر ان کا یہ ذہن بنا دیا کہ رسول اللہﷺ کے بعد خلافت و امامت و حکومت کی سربراہی دراصل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حق تھا کیوں کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوا اور وصی ہی نبی کے بعد اس کی امت کا سر براہ ہوتا ہے رسول اللہﷺ کے وصی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تھے مگر ان کو ان کا حق نہ مل سکا یہ صورتِ حال اس وقت شروع ہوئی جب حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے نظم و نسق کے متعلق شکایات ہو رہی تھیں اس طرح ابنِ سبا کی سازش کے لئے یہ وقت سازگار تھا آگے چل کر اس گروہ کی ریشہ دوانیوں سے جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک تکلیف دہ باب ہے بہر حال سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے متعلق اختلافات ختم نہ ہو سکے خود ان کی مظلومانہ شہادت ہوئی جنگِ جمل اور جنگِ صفین ہوئیں ہزاروں افراد کام آئے پھر حضرت علیؓ بھی شہید ہوئے یہاں تک کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے خلافت سے دستبردار ہونے کے بعد حالات میں کسی قدر ٹھراؤ پیدا ہوا اس دور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حقوق سے متعلق جو دعوت و تحریک خفیہ طریقوں سے چلائی جا رہی تھی اس کے داعی جس سے جو بات اور جتنی بات کہنا مناسب سمجھتے وہی کہتے اور اتنا ہی کہتے اگر وہ قبول کر لیتا تو بس وہی اس کا عقیدہ بن جاتا اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس تحریک کی ابتداء میں بغضِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی دخل تھا ان میں سے ایسے بھی تھے جو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نامزد امام اور وصی رسول مانتے تھے اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کی اولاد کو خلافت اور امامت کا حقدار سمجھتے تھے۔ کیونکہ ان کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کی طرح رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد امامت کا سلسلہ قائم فرما دیا ہے تاکہ بندوں کی ہدایت و رہنمائی اور سربراہی کیلئے ان پر حجت قائم ہو سکے لیکن اس وقت تک یہ نظریہ امامت کچھ لوگوں کے ذہنوں میں پرورش پا رہا تھا کوئی ایک بات کہتا کوئی دوسری اس نظریہ امامت کا جو بعد میں کیسانیہ، ہاشمیہ یا زیدیہ امامیہ اثنا عشری یا امامیہ اسماعیلیہ نے تشکیل دیا مطابقاً کہیں وجود نہ تھا اس پس منظر میں حضرت امیرِ معاویہؓ نے اپنے بیٹے کو اپنی جانشینی کیلئے آگے بڑھایا ہو سکتا ہے ان کو اسکی ترغیب نسبی بنیاد پر حقِ خلافت، امارت، امامت کے دعویٰ سے ہوئی ہو اس کی ابتداء حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام میں ہوئی یہ سلسلہ قریب دس سال جاری رہا اس مدت میں نام نہاد محبانِ اہلِ بیت کو زرین موقع ملا اور انہوں نے بنی ہاشم میں اقتدار سے محرومی کا احساس پیدا کر دیا جیسا کے بعد کے حالات و واقعات سے ظاہر ہوتا ہے۔

(1: بنی ہاشم میں افراد کی تعداد کافی ہے جنہوں نے اموی عباسی دورِ خلافت میں امامت کا دعویٰ کیا اور لوگوں نے اس کو تسلیم بھی کیا خروج کرنے والوں میں قریب قریب گیارہ حسنی اور سات حسینی ہیں)

 61 ه‍ 680ء میں واقعہ کربلا پیش آیا اس واقعہ نے سازشیوں کو اپنی تحریک پُر اثر بنانے کیلئے ایک اور بنیاد فراہم کی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ کربلا کے میدان میں تو حضرت علی المرتضیٰؓ کی فاطمی اور غیر فاطمی اولاد سب شریک تھیں لیکن اس کے بعد ان میں ہی نہیں بلکہ حسنی و حسینی سادات میں بھی اتفاق نہ رہا۔

شیعی مؤرخ سید امیر علی لکھتے ہیں:

صفحہ 1 از 3