اسمعیلیت کی ابتداء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسمعیلیت کی ابتداء

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 3

یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ ظلم و ستم شیعوں کو متحد رکھ سکے گا لیکن گو سب اس امر پر متفق تھے کہ خلافت، امارت اہلِ بیتؓ کا حق ہے ان میں سے بہت سے خاندان کے مسلمہ سربراہوں ائمہ اہل بیتؓ سے علیحدہ ہو گئے اور اپنے آپ کو خاندان کے دوسرے افراد سے وابستہ کر لیا یعنی دیگر افراد کو امام تسلیم کر لیا۔

(2: صفحہ، 360 The Spirti Of Islam)  

سید امیر علی کی ان چار سطور میں ڈھائی سو سال کے واقعات پوشیدہ ہیں بہر حال چند اہم اختلافات کا ذکر کیا جاتا ہے کیوں کہ اسماعیلیت کی ابتداء سمجھنے کے لئے ان سے واقفیت اشد ضروری ہے۔

پہلا اختلاف:

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اہلِ بیتؓ کے عقیدت مندوں کے ایک گروہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت علی السجاد زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کو امام تسلیم کیا جب کہ ایک گروہ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ایک اور زوجہ محترمہ کے بیٹے محمد بن الحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کو امام تسلیم کر لیا ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس وقت موجود سب سے بڑے بیٹے محمد بن الحنفیہ کا حق ہے۔

(1: ظاہر ہے کہ یہ گروہ امامت کو صرف بنی فاطمہ کا ہی حق نہیں سمجھتا تھا سیدنا محمد بن حنفیہ کا انتقال 95ھ میں ہوا)

 یہ لوگ کیسانیہ، ہاشمیہ کہلائے آگے چل کر اس سلسلہ کی بیعت حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پڑپوتے محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس رحمۃ اللہ علیہ کو 98، 99ھ 718ء میں منتقل ہو گئی جس کے نتیجہ میں 132ھ 750ء میں عباسی خلافت وجود میں آئی۔

دوسر اختلاف:

جس گروہ نے حضرت علی السجاد زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ بن حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو امام تسلیم کیا تھا ان میں تھوڑے ہی عرصہ بعد حضرت علی السجاد زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کی جانشینی کے سلسلہ میں اختلاف ہوا اس گروہ کے ایک ٹکڑے نے سیدنا محمد باقرؒ پانچویں امام کی جگہ ان کے بھائی سیدنا زید شہید رحمۃ اللہ کو پانچواں امام تسلیم کر لیا۔ یہ وہ حضرات تھے جو اگر ضرورت ہو تو بزورِ شمشیر اپنا حق تسلیم کرانے کو جائز سمجھتے تھے ان میں حسنی سادات پیش پیش تھے جب کہ سیدنا زین العابدینؒ اور ان کے بیٹے سیدنا باقرؒ نے خاموشی کا راستہ اپنا لیا تھا سیدنا زید شہید رحمۃ اللہ اموی فوجوں کے مقابلہ میں شہید ہوئے۔

(1: اموی فوجوں سے مقابلہ میں سیدنا زید شہید کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرح چھوڑنے والے ان کے الفاظ کے مطابق روافض کہلائے اور بیشتر مؤرخین نے شیعوں کو روافض لکھا ہے اور شیعوں میں اسماعیلیوں کو ان کی باطنی تعلیم کی وجہ سے روافضِ باطنیہ کہا گیا ہے)

ان کے متبعین زیدیہ کہلائے زیدیہ 

(2: تاریخِ تفسیر و مفسرین: صفحہ، 485 The Spirti Of Islam صفحہ 321)

نوٹ: زیدیہ نظریہ امامت بہت اہم و معنیٰ خیز ہے اس پر ایک الگ باب میں گفتگو کی گئی ہے۔

کے نظریہ امامت سے متعلق چند نکات قابل ذکر ہیں:

1: امتِ مسلمہ کو بنی فاطمہ میں سے خود اپنا قائد مقرر کرنے کا اختیار ہے۔

2: افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی امامت جائز ہے۔

3: امام ایسا شخص ہونا چاہیئے جو اپنا حق حاصل کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔

زیدیہ عصمتِ ائمہ کا عقیدہ نہیں رکھتے اسی کے تحت وہ حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کو جائز قرار دیتے ہیں اور ان سے اظہار برأت نہیں کرتے انکا ایک فرقہ جارودیہ ملتِ کے سربراہ کے تقرر کیلئے انتخاب کو درست قرار دیتا ہے۔

تیسرا اختلاف:

اس گروہ میں جس نے سیدنا زین العابدینؒ کے بعد سیدنا محمد باقرؒ کو اور ان کے بعد سیدنا جعفر صادقؒ کو چھٹا امام تسلیم کیا تھا دوسرا اختلاف سیدنا جعفرؒ کے جانشین کے سلسلہ میں ہوا سیدنا جعفر صادقؒ نے ابتداء میں اپنے بیٹے سیدنا اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا جانشین یعنی ساتواں امام نامزد کیا تھا یا شیعی اصطلاح میں سیدنا اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ پر نص کی تھی لیکن سیدنا اسماعیلؒ 133ھ میں سیدنا جعفر صادقؒ کی زندگی ہی میں انتقال کر گئے۔

(1: حضرت اسماعیل بن جعفر صادقؒ کے متعلق متعدد اور دلچسپ روایات ہیں)

 سیدنا جعفر صادقؒ نے سیدنا اسماعیلؒ کے انتقال کے بعد اپنے تیسرے بیٹے سیدنا موسیٰ الکاظمؒ کو اپنا جانشین امام نامزد کیا سیدنا جعفر الصادقؒ کے متبعین اس موقع پر دو حصوں میں بٹ گئے ایک گروہ کا یہ خیال تھا کہ ایک مرتبہ کی ہوئی نص واپس نہیں ہوتی لہٰذا اگر سیدنا اسماعیلؒ کا انتقال ہو گیا ہے تو چونکہ نص باپ سے بیٹے پر منتقل ہوتی ہے ساتواں سیدنا اسماعیلؒ کے بیٹے سیدنا محمدؒ کو ہونا چاہیئے اس دلیل کے بعد انہوں نے سیدنا اسماعیلؒ کے نو عمر بیٹے سیدنا محمدؒ کو امام تسلیم کر لیا اس طرح سیدنا اسماعیلؒ پر کی ہوئی نص برقرار رہی اور یہ لوگ سیدنا اسماعیلؒ بن سیدنا جعفر الصادقؒ کی نسبت سے اسماعیلی:

(1: اسماعیلیہ کے اور بھی نام ہیں۔

نوٹ: امامیہ اثناء عشریہ نے نص کی تبدیلی کا جواز اپنے عقیدہ بداء کے تحت پیش کیا ہے بداء کا عقیدہ یہ ہے کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ موقع و محل کے اعتبار سے اپنا ارادہ تبدیل کر دیتا ہے)

 کہلائے اور آئندہ امامت کا سلسلہ سیدنا محمد بن اسماعیلؒ کی اولاد میں جاری ہوا جو حکومت کے حصول کے بعد امام محمد بن اسماعیلؒ کے خلفاء کہلائے اور عباسی خلفاء کے مقابل ان کو فاطمی خلفاء کہا گیا۔

اس موقع پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ جن لوگوں نے سیدنا موسی الکاظمؒ کو ساتواں امام تسلیم کیا وہ "موسویہ" کہلائے اور 260ھ 873ء میں بارہویں امام محمد المہدی کی غیبت کے بعد اثناء عشری (Twelvers) کہلائے اور ان کےمقابل اسما عیلی سبعیہ (Seveners ) کہلائے۔

(1: سبعیہ کہلانے کی اور بھی وجوہات ہیں ایرانی انقلاب: صفحہ، 28)

نوٹ: ان روایات کے جن میں نبی کریمﷺ یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بارہ اماموں کے نام معہ تفصیلات زندگی نقل کئے گئے ہیں بعد میں وضع شدہ ہونے کے لیے اس غیر یقینی کیفیت سے بہتر ثبوت کی ضرورت ہی نہیں رہتی جو امامیہ میں مسلسل تفریق در تفریق منتج ہوئی کیونکہ اس کیفیت میں نہ تو راہ عمل کا تعین ہو سکا اور نہ یہ کہ کسی کی پیروی کی جائے

(شیعانِ ہند جوہن نارمن ہوسٹر: صفحہ، 80)

صفحہ 2 از 3