اسمعیلیت کی ابتداء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسمعیلیت کی ابتداء

  سید تنظیم حسین

صفحہ 3 از 3

اس باب کی تکمیل سے قبل یہ ضروری ہے کہ امامیہ اثنا عشری عقیدہ امامت بھی اجمالی طور پر بیان کر دیا جائے تاکہ ناظرین کے سامنے پورا منظر ہو۔

عقیدہ امامت اثناء عشری کا اجمالی بیان:

1: حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد ان کے جانشین و خلیفہ امام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء و مرسلین جن کا انتخاب امت یا قوم نہیں کرتی کی طرح مقرر اور نامزد ہوتے ہیں۔

2: وہ نبی ہی کی طرح معصوم ہوتے ہیں۔

3: دنیا کبھی امام سے خالی نہیں ہوتی خواہ وہ ظاہر ہو یا غائب۔

4: انبیاء و مرسلین ہی کی طرح ان کی اطاعت امت پر فرض ہوتی ہے۔

5: ان کا درجہ رسول اللہﷺ کے برابر اور دوسرے سب نبیوں سے بالا تر ہوتا ہے۔

 6: وہی امت کے دینی و دنیوی سربراہ اور حاکم ہوتے ہیں۔

7: امت پر بلکہ ساری دنیا پر حکومت کرنا ان کا اور صرف ان کا حق ہے۔

 8: ان کے علاوہ جو بھی حکومت کرے وہ غاصب و ظالم اور طاغوت ہے۔

9: امامت بغیر نص کے قائم نہیں ہوتی۔

10: امام وقت کا جاننا واجب ہے۔

11: امام حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے سکتا ہے۔

اسماعیلیہ کا عقیدہ امامت:

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے امامیہ اثنا عشری اور امامیہ، اسماعیلیہ میں شخصیتوں کی بنیاد پر اختلاف ہوا اس وجہ سے ان دونوں کے یہاں سیدنا جعفر صادقؒ کے بعد امامت کے سلسلے مختلف ہو گئے لیکن عقیدہ امامت میں گو کوئی بنیادی فرق نہیں ہوا مگر اس کو علمِ حقیقت عالمِ روحانی و عالِم جسمانی کی ابتداء و انتہاء کے ساتھ ایسا وابستہ کر دیا کہ اسماعیلیہ کا امام اثنا عشریوں کے امام سے بلند ہو کر الوہیت کے درجہ پر پہنچ گیا جیسا کہ "باب اسماعیلی عقائد" میں بیان کیا جائے گا۔

اسماعیلیہ کے مختلف نام:

اسماعیلی: اسماعیل بن جعفر الصادقؒ کو امام تسلیم کرنے کی وجہ سے اسماعیلی کہلائے۔

باطنیہ: اسماعیلیہ نے آگے چل کر قرآنِ پاک کے مطالب و معانی کے متعلق یہ عقیدہ پیش کیا کہ آیاتِ قرآنی کے ایک معنیٰ ظاہری ہیں اور ایک باطنی باطنی معنیٰ کا علم صرف امام کو ہوتا ہے اس وجہ سے اسماعیلیہ کو باطنیہ کہا گیا دوسرے یہ لوگ خفیہ طریقے سے گھروں میں چھپ چھپ کر دعوت دیتے تھے اس لئے بھی باطنی کہلائے۔

سبعیہ: سات کو ماننے والے اسماعیلیوں کے یہاں سات کا عدد خصوصی اہمیت رکھتا ہے جیسا کہ آگے چل کر اسماعیلی عقائد کے باب میں بیان کیا گیا ہے اس کے علاوہ ان میں سے ایک گروہ کے عقائد کی رو سے سیدنا اسماعیل رحمۃ اللہ یا ان کے بیٹے محمد المکتوم ساتویں امام ہیں لہٰذا یہ لوگ سبعیہ یعنی (seveners) کہلائے اور ان کے مقابل اثناء عشری (twelvers) کہلائے سبعیہ کہلائے جانے کی اور بھی وجوہات بتلائی گئی ہیں۔

محمره: بابک خرّمی (بابک خرّمی نے تیسری صدی ہجری کی ابتداء میں بغاوت کی) کی بغاوت کے دور میں یہ لوگ سرخ لباس (ان میں مزد کی یعنی اشتراکی فکر کا بھی غلبہ تھا ہوسکتا ہے موجودہ دور میں اشتراکیوں کا سرخ لباس "محمرہ " سے مستعار ہو بہرحال فی زمانہ اشتراکیوں کا طریقہ کار بھی اسماعیلیوں کے نظامِ دعوت سے ملتا جلتا ہے) 

 پہنتے تھے اس لئے محمرہ کہلائے بابک خرّمی نے تیسری صدی ہجری کی ابتداء میں بغاوت کی تھی۔

تعلیمیہ: مخلوق کو امام معصوم کی تعلیم کی طرف بلانے کی وجہ سے ان کو " تعلیمیہ" کہا گیا۔

میمونیہ: حمدان قرمط کے بھائی میمون نے فارس میں اسماعیلی دعوت دی لہٰذا قرامطہ کو فارس میں میمونیہ بھی کہا گیا۔

  بعض مؤرخین نے اسماعیلیہ کا ذکر "روافضِ باطنیہ" کے عنوان سے کیا ہے بعض نے ملاحدہ کے تحت کیا ہے تاریخوں میں اور بھی کئی نام آتے ہیں۔

اسماعیلیہ اقتدار کے مختلف ادوار:

اسماعیلیوں میں مزید فرقوں میں تقسیم اور عقائد میں رد و بدل سمجھنے کے لئے اسماعیلیوں کے دنیاوی اقتدار کے مختلف ادوار پیش کئے جاتے ہیں:

1: مغربی افریقہ مصر شام و مجاز 297ھ 567ء 909ء 1172ء اس دور کو فاطمی دورِ خلافت کہا جاتا ہے اسماعیلیوں نے سیاسی اقتدار کے حصول کے بعد اپنے امام کو خلیفہ بھی کیا اور عباسی خلفاء کے بالمقابل فاطمی خلفاء کہلوایا کیوں کہ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ صحیح النسب فاطمی ہیں انہوں نے اپنے القاب بھی عباسیوں کے طرز پر رکھے۔

2: شمالی ایران اور ملحقہ علاقہ 483ھ 654ھ 1090ھ 1256ءـ

3: محدود علاقوں میں مختصر مدتوں تک بالخصوص یمن میں ، عراقی پہاڑیوں اور

شام کے ساحلی علاقوں میں۔

4 - 450ھ 1058ء میں بغداد پر ایک سال تک اسماعیلی فاطمی قبضہ رہا۔

فاطمی امام خلیفہ:

1: ابو محمد عبد اللہ المہدی بااللہ 297ھ 909ء

2: ابو القاسم محمد القائم بامر اللہ 322ھ 934ء

3: ابو طاہر اسماعیل المنصور بااللہ 334ھ 945ء

4: او تمیم معد المعز لدين اللہ 341ھ 952ء

5: ابو منصور نزار العزيز بااللہ 365ھ 975ء

6: ابو علی الحسین الحاكم بامر اللہ 386ھ 996ء

7: ابو معد علی الظاہر لا عزاز دین اللہ 411ھ 1020ء

8 ابو تمیم معد المستنصر اللہ 427ھ 1035ء

9: ابو القاسم احمد المستعلی باللہ 487ھ 1095ء

10: ابو علی منصور الآمر باحکام اللہ 495ھ 1102ء 524ھ 1130ء

امام طیّب کے نائبین 

ابو الميمون عبد المجيد الحافظ لدین اللہ 524ھ 1130ء

ابو منصور اسماعیل الظافر لا عداء اللہ 544ھ 1149ء

ابو القاسم عیسی الفائز بامر اللہ 549ھ 1154ء

ابو محمد عبد الله العاضد لدین اللہ 555ھ 1160ء 567ھ 1172ء

نوٹ: فاطمیوں کو عبید اللہ المہدی کی نسبت سے "مہدویہ" بھی کہا گیا۔

عباسیوں کے سیاہ لباس کے مقابل سفید لباس اختیار کرنے کی وجہ سے مبیضہ بھی کیا گیا۔


صفحہ 3 از 3