Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں

  علی محمد الصلابی

ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس سے باہر گئے تو انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا لیا اور ان سے اس موضوع پر گفتگو شروع کر دی، مگر انہوں نے انہیں بات کرنے سے روک دیا اور انہیں بڑے سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وہ یزید کی بیعت کا راستہ روکیں گے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ یہ فیصلہ شوریٰ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جنگ کی دھمکی بھی دی، پھر جب وہ اٹھ کر جانے لگے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا اللہ! تو جس چیز کے ساتھ چاہے مجھے ان سے کفایت کر، معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ حوصلہ مندی کا مظاہرہ کریں اور اہل شام کے سامنے بیعت کا اعلان نہ کریں ورنہ وہ انہیں قتل کر دیں گے۔ جب لوگ یزید سے بیعت کر لیں تو اس کے بعد ان کی جو بھی رائے ہو اس کا اظہار کر لیں۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 214۔ تاریخ ابی زرعۃ: جلد 1 صفحہ 299۔ صحیح سند کے ساتھ)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے زیادہ مناسب یہی تھا کہ وہ اہل شام سے یہی چاہتے کہ جو ان کی مخالفت کرے اہل شام اس سے تعرض نہ کریں۔