اسماعیلیہ کی شاخیں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسماعیلیہ کی شاخیں

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 2

فاطمیوں میں دوسرا اور شدید اختلاف ان کے امام المستنصر بااللہ کے انتقال کے وقت487ھ میں ہوا المستنصر کے بیٹوں اور مستعلی میں حقِ امامت سے متعلق اختلاف ہوال اس کشمکش میں نزار اور ان کا ایک بیٹا قتل ہوئے جب کہ نزار کے ایک بیٹے الہادی یا المبتدی کو مشہور حسن بن صباح پوشیدہ طریقہ سے ایران لے آیا ایران میں اس کی پرورش ہوئی نزار اور اس کے بیٹے کے متعلق بہت سی روایات ہیں اور اختلاف کی نوعیت یا ایسی ہی ہے جیسی کہ سیدنا جعفر صادقؒ کے زمانہ میں حضرات اسماعیل موسیٰ کاظمؒ میں ہوئی تھی بہرحال نزار اور اس کے بعد اس کی اولاد میں امامہ سلسلہ جاری رہنے کا ل "نزاری" کہلائے اور ان کا مرکز ابر قلعہ الموت (یہ قلعہ قزوین کے شمالی میں ضلع ردوہار میں واقع تھا اس کو "شکرے کا گھونسلہ کہا جاتا تھا بعض نے اس کو گدھ کا گھونسلہ بھی کہا ہے) ہو گیا ایران سے شام میں بھی اسماعیلی نزاری دعوت سلسلہ جاری رہا اور شام میں بھی نزاریوں کی خاصی تعداد رہی اگرچہ وہ آگے چل کر ایرانی مرکز سے علیحدہ ہو گئے ایرانی نزاریوں میں بھی کچھ عرصہ کے بعد اختلاف ہوا ساتویں صدی ہجری تیرہویں صدی عیسوی میں نزاری امام شمس الدین محمد کے زمانہ امامت میں نزاری دو حصوں میں بٹ گئے کچھ نزاریوں نے امام شمس الدین کے بیٹے قاسم شاہ کو امام تسلیم کیا اور باقی نزاریوں نے قاسم شاہ کے بھائی مؤمن شاہ کی اولاد میں محمد شاہ کو امام مانا پہلا گروہ قاسم شاہی کہلایا اور دوسرا محمد شاہی ناری امامت قاسم شاہی کا سلسلہ ایران میں جاری رہا ان کی دعوت کے مراکز آذربائیجان بابک، کہک، الجدان، کرمان، یزد اور محلات رہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں اس سلسلہ کے امام حسن علی خان المعروف بہ آغا خان اول 1258ھ 1842ء (تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ: جلد، چہارم صفحہ، 25 آغا خان کا خطاب امام حسن علی خان کو ایران کے حکمراں فتح علی شاہ قاچار نے دیا تھا) میں افغانستان ہوتے ہوئے ہندوستان آئے ان کا حلقہِ اثر ممبئی و نواحی علاقوں میں رہا۔ آج کل اس سلسلہ کے 49 ویں امام کریم الحسینی المعروف به آغا خاں چہارم ہیں نزاریوں کے حاضر امام صاحب الزماں کہلاتے ہیں۔

خوجے:

ایران کی نزار امامت کے داعیوں نے ایران و شام کے علاؤہ شمالی ہندوستان کے صوبوں کشمیر پنجاب نیز گجرات میں بھی سرگرمی دکھلائی اس سلسلہ میں کئی نام آتے ہیں مثلاً نور الدین شاہ جو "نورست گردو" کے نام سے مشہور ہوئے پیر شمس سبزواری (جن کا مزار ملتان میں ہے) اور پیر صدر الدین اور ان کے بیٹے جنہوں نے ہندوؤں کے اصول اختیار کئے ان داعیوں کی کوششوں سے جو لوگ اسماعیلی ہو گئے ان کو خواجہ کیا گیا جو بجا کر "خوجہ" یا "کھوجہ" ہو گیا ان لوگوں میں سے بیشتر نے آگے چل کر یا تو اہلِ سنت کے عقائد اختیار کر لئے یا اثناء عشریوں میں شامل ہو گئے جو باقی رہ گئے ان میں سے اکثر پنجاب سندھ اور شمالی پاکستان میں موجود ہیں مگر یہ لوگ ممبئی و نواح کے خوجوں سے بالکل مختلف ہیں 

(آبِ کوثر شیخ محمد اکرام: صفحہ، 350، 351 ایضاً)

مستعلویہ یا اسماعیلیہ طیّبی:

فاطمیوں کے وہ افراد جنہوں نے 487ھ 1095ء میں نزار کی بجائے المنتصر بااللہ کے دوسرے بیٹے احمد المستعلی بااللہ کو امام و خلیفہ تسلیم کیا وہ نزاریہ کے مقابل مستعلویہ کہلائے آگے چل کر مستعلویوں کے آخری امام خلیفہ ابو علی منصور الآمر باحکام اللہ کو اس اختلاف کی بنا پر جو چلا آرہا تھا نزاریوں نے قتل کر دیا اور اس کے کمسن بیٹے کو غائب کر دیا گیا یا مستعلی اصطلاح میں اس نے غیبت اختیار کر لی اس طرح مستعلویہ میں دوبارہ دور ستر شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے مستعلویہ میں بھی انتشار پیدا ہوا اور فاطمی خلافتِ مصر کے خاتمہ سے قبل ہی ان کو اپنی دعوت کا مرکز یمن منتقل کرنا پڑا ان میں اگر چہ امام غیبت (امام کی غیبت میں مصر میں نائبین نے 524ھ سے 527ھ 1130ء سے 1172ء تک حکومت بھی کی) میں ہے لیکن دعوت کا سلسلہ داعیوں کے ذریعہ جاری ہے ان کا اعتقاد ہے کہ اگرچہ امام طیب غائب ہو گئے ہیں لیکن ان کی اولاد میں امامت کا سلسلہ برابر جاری ہے اگرچہ وہ امام وقت ہم کو نظر نہیں آتے مستعلویہ کو یمن میں مختصر مدت کے لئے اقتدار بھی ملا لیکن وہ قریباً پانچ سو سال تک یمن میں خاموش زندگی گزارتے رہے ان کی دعوت کو اس درمیان میں ہندوستان میں کامیابی ہوئی اور ان کا مرکز 946ھ 1540ء میں احمد آباد گجرات منتقل ہو گیا ہندوستان میں پہلا داعی یوسف بن سلیمان ہے احمد آباد میں 26 ویں داعی داؤد بن عجب شاہ کے انتقال کے وقت 999ھ 1591ء میں مستعلویہ دو حصوں میں بٹ گئے ان کی اکثریت نے داؤد من قطب شاہ کو 27 واں داعی مانا داؤد بن قطب شاہ کو داعی تسلیم کرنے والے "داؤدی" کہلائے جب کہ سلیمان بن حسن کو داعی تسلیم کرنے والے سلیمانی کہلائے یمن میں سلیمانی داعی موجود ہے اسی طرح برصغیرِ ہند و پاک میں 52ویں داؤدی داعی سیدنا ہرہان الدین ہیں یہ لوگ کلیتہ تجارت سے متعلق ہیں اس لئے بوہرے کہلاتے ہیں بوہرہ کے معنیٰ تاجر کے ہیں ان میں داؤدی و سلیمانی بوہروں کے علاوہ علیہّ اور مہدی باغ والے بھی ہیں ان کی زبان گجراتی ہے اس باب کا زیادہ تر حصہ تاریخِ فاطمینِ مصر: حصہ، دوم فصل، 31 سے لیا گیا ہے۔

نزاریوں آغا خانیوں میں حالیہ اختلاف:

1957ء میں نزاریوں کے 48 ویں امام سلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کے انتقال کے بعد ان کے جانشین کے سلسلہ میں اختلاف ہو گیا ایک طبقہ نے جو باپ کے بعد بیٹے کی امامت کے قائل ہیں کریم الحسینی کو جو آغا خان سوئم کے پوتے ہیں 49 واں امام تسلیم کرنے سے انکار کر دیا یہ گروہ آغا خان سوئم کے بعد ان کے بیٹے علی سلمان خان کو جو شہزادہ علی خان کے نام سے مشہور تھے 49 واں امام مانتا ہے اور ان کے انتقال کے بعد ان کے دوسرے بیٹے امین احسینی کو پچاس واں امام مانتا ہے واضح رہے کہ اس اصول کو قائم رکھنے کے لئے نزاری حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بجائے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو امام مانتے ہیں۔


صفحہ 2 از 2