اسماعیلیہ کے اعتقادات ابتدائی دور میں
سید تنظیم حسین(یہ پورا باب تاریخِ فاطمینِ مصر: حصہ، دوم کے ابواب 32، 33، 34 اور 35 سے لیا گیا ہے)
اسماعیلیہ کے اعتقادات ابتدائی دور میں:
اگرچہ اس تالیف کا مقصد اسماعیلیہ کا تاریخی نقطہ نظر سے تعارف کرانا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اسماعیلیوں کے اعتقادات کا ذکر بھی ضروری ہے تاکہ ان کے تاریخی کردار کا پسِ منظر بھی سامنے آ سکے اس غرض سے ہم تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے صرف اہم ترین امور پر اکتفا کریں گے ان امور میں سب سے پہلے اسماعیلی علوم آتے ہیں جن سے ان کے عقائد اس حد تک وابستہ ہیں کہ ایک کو دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔
اسماعیلی علوم:
علم تاویل: شرعی احکام کی تاویل کو علمِ تاویل کہتے ہیں اس علم کی بنیاد اس فکر پر ہے کہ تمام انبیاء کی شریعتیں رموز و مثولات پر مبنی ہیں جو تاویل میں بیان کی جاتی ہیں یعنی جو شریعت کوئی نبی وضع کرتا ہے اس کے احکام میں ایسے امور کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو اس کا مقصودِ اصلی ہوتا ہے تاویل کو شریعت کی حکمت دین کا راز اور علمِ روحانی اور علمِ باطنی بھی کہتے ہیں نبی کا فریضہ ہے کہ وہ لوگوں کو شریعت کے ظاہری احکام بتائے اور وصی کا کام یہ ہے کہ وہ ان کو ان کی تاویلوں سے آگاہ کرے تاویلات کا علم اللہ تعالیٰ کے علاؤہ ان علماء کو بھی ہوتا ہے جو علم میں راسخ ہوتے ہیں یعنی انبیاء اوصیاء اور ائمہ تاویلات میں یکسانیت ضروری نہیں یعنی ایک حکم کی تاویلات ایک سے زیادہ بھی ہو سکتی ہیں کیوں کہ تاویلات بیان کرتے وقت سامع کی لیاقت تقاضائے وقت اور حدِ امکان کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے اس لئے علمِ تاویل خاص درجہ والوں کو سکھایا جاتا ہے ہر ایک کو نہیں۔
تاویل کے چند نمونے:
نماز ظاہر یا مثل: باطن یا ممثول
1: نماز پڑھنا: داعی کی دعوت میں داخل ہونا یا رسولِ خداﷺ کا اقرار کرنا کیوں کہ صلوٰۃ اور محمدﷺ میں چار چار حروف ہیں۔
2: قبلہ کی طرف متوجہ ہونا: امام کی طرف متوجہ ہونا۔
3: ظہر کی نماز: رسولِ خداﷺ کی دعوت میں داخل ہونا کیونکہ آپ کے نام محمدﷺ میں چار حرف ہیں اور ظہر کی بھی چار رکعتیں ہیں۔
4: عصر کی نماز: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ یا صاحب القیامہ کی دعوت میں داخل ہوتا۔
5: مغرب کی نماز: آدم کی دعوت میں داخل ہوتا کیونکہ لفظ آدم میں تین حرف ہیں اور مغرب کی بھی تین رکعتیں ہیں۔
6: عشاء کی نماز: چار نقیبوں کی دعوت میں داخل ہونا جو بارہ نقیبوں میں بڑی فضیلت والے ہیں۔
7: فجر کی نماز: امام مہدی اور ان کی حجت کی دعوت میں داخل ہوتا۔
8: تکبیرۃ الاحرام یعنی دونوں ہاتھوں کو چہرے کے مقابلے میں لاتا جس میں ساتھ منافذ ہیں: امام حجت اور سات ناطقوں کا اقرار کرنا اور ان کے درمیان فرق نہ کرنا۔
9: قیام کی حالت میں ارسال الیدین ہاتھ پر ضم نہ کرنا: حجت کو امام سے نہ امام کو حجت سے چھپانا
10: رکوع و سجود: حجت اور امام کی معرفت اور اطاعت۔
لا الہ الا اللہ کی تاویل:
1: لا اله فصل اول: حدودِ سفلیہ اس لئے کہ اس میں نفی ہے۔
2: الا اللہ فصل دوم: حدودِ علویہ اس لئے کہ اس میں اثبات ہے۔
3: لا کلمہ اول: اساس۔
4: اله کلمہ دوم: ناطق۔
5: الا کلمہ سوم: لوح۔
6: اللہ (کلمہ چہارم): قلم
7: سات فصلیں لا ا لہ ا لا ا للہ: سات ناطق یا امام
محمد رسول اللہﷺ کی تاویل:
1: تین کلمے: محمد رسول اللہﷺ اسرائیل، میکائیل، جبرئیل یا امام حجت لاحق۔
2: چھ فصلیں: چھ ناطق جو اولو العزم ہیں حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرتﷺ۔
3: باره حروف: بارہ لواحق یعنی حجتیں جو زمین کے بارہ جزائر میں بھیجے جاتے ہیں۔
م، ح، م، د، ر، س، و، ل، ا، ل، ل، ه
جس نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہا اس نے تمام دعوت کے حدود، ارکان کا اقرار کر لیا۔
داعی، امام، حجت، ناطق، اساس، لاحق وغیرہ اسماعیلی دعوت کے ارکان ہیں ان سے متعلق نقشہ آئندہ صفحات میں دیا جا رہا ہے اسی طرح لوح و قلم کا تعلق علمِ حقیقت سے ہے جس کا ذکر اسی باب میں کیا گیا ہے۔
نوٹ: اسماعیلیہ مکمل قرآنِ پاک کی تاویلات مرتب نہ کر سکے کیوں کہ ایسا ممکن ہی نہ تھا۔
(تاریخ تفسیر و مفسرین: صفحہ، 463 تاریخ تفسیر و مفسرین میں اسماعیلیہ، باطنیہ سے متعلق پورا باب مطالعہ کے قابل ہے)
اسماعیلی تاویلات کے مأخذ:
تاویلات جن کے نمونے اوپر پیش کئے گئے ہیں وہ اسماعیلی داعیوں کی مرتب کردہ کتابوں میں محفوظ ہیں اس سلسلہ میں کئی کتابوں کا ذکر ملتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ کتابیں تیسری اور چوتھی صدی ہجری کی ہیں بعض کے صرف حوالے ملتے ہیں بعض موجود ہیں ان کتابوں کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ ان کو بِلا اجازت امام نہیں پڑھا جا سکتا تھا۔ فارسی زبان میں حکیم ناصر خسر و علوی جو مشہور اسماعیلی داعی تھا کی کتاب "وجہ دین" تاویلات ہی سے متعلق ہے دراصل اس کتاب سے ہی اسماعیلی تاویلات کا علم ہو سکا ورنہ یہ علم بھی ائمہ کی طرح مستور ہی رہتا کیوں کہ اسماعیلیہ کے یہاں کشف المستور کو ایمان کی کمزوری سمجھا جاتا ہے۔
تاویلات سے متعلق "ایوانو" کی رائے:
اسماعیلی تاویلات سے متعلق ایک معروف کتاب "اساس التاویل" ہے اس کے متعلق ایوانو نے لکھا ہے:
It is Remorkable For Its Monotony And Lack Of Origi Nality۔
ترجمہ: اس کی خصوصیت تکرار ہے اور اس میں ندرت کا فقدان ہے ایک اسماعیلی فاضل خود اقرار کرتا ہے۔ (تاریخِ فاطمینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 192)
This sort of hair splitting which they call tawil and Haqiqat is inattractive and incomprehen sible for a European reader۔
ترجمہ: اس قسم کی موشگافیاں جس کو وہ تاویل اور حقیقت کہتے ہیں یورپی ناظرین کے لئے کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں اور ان کے لئے ناقابلِ فہم ہیں۔ اسماعیلی فاضل کے اس اعتراف سے تاویلات کی نوعیت اور جو چیز سمجھ سے بالاتر ہو اس کی افادیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
تاویلات کے اثرات خود اسماعیلیوں پر:
اگرچہ تاویلات بیان کرنے کے لئے یہاں تک احتیاط برتی جاتی تھی کہ داعیوں کو یہ ہدایت تھی کہ ابتداء میں رمز و اشارہ سے کام لیا جائے اس کا اصطلاحی نام حد الرضاع تھا تاکہ آہستہ آہستہ مقاصد کی تصریح کی جاسکے لیکن اس کے باوجود تاویلات کا علم جیسے ہی لوگوں کو ہوا تو انہوں نے ظاہری اعمال ترک کر دیئے مثلاً جب یہ معلوم ہوا کہ "جنت" سے مراد "دعوت" ہے اور اعمال شریعت کے ممثولات "دعوت" کے ارکان ہیں تو ارکان کو تسلیم کر کے ظاہری اعمال سے فراغت حاصل کرلی اس اثر سے خود اسماعیلی داعی بھی محفوظ نہ رہ سکے ڈاکٹر زاہد علی دو معروف داعیوں کے متعلق لکھتے ہیں۔
(تاریخِ فاطمینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 194)
کہ جب ان کو شراب کے باطن کا علم ہوا تو انہوں نے شراب کو حلال سمجھ لیا مختصراً تاویلات کی صحیح حیثیت کے اخفاء سے خود اسماعیلی کئی فرقوں میں بٹ گئے۔
(تاریخِ فاطمینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 194)
تاویلات کی حیثیت:
اوپر بیان کیا گیا ہے کہ اسماعیلی اعتقادات کے اعتبار سے نبی کا کام صرف ظاہری شریعت بیان کرتا ہے اور تاویل بیان کرنا وصی یا ائمہ کا کام ہے لہٰذا صاف واضح ہے کہ ائمہ کی اپنی حیثیت سے بیان کردہ تاویلات کی سند براہِ راست احادیثِ نیوی میں تلاش کرنا عبث ہے اس صورت میں ایک سیدھے سادے مسلمان کے لئے بھی اسماعیلی تاویلات کی حیثیت کے تعین میں کوئی مشکل نہیں رہتی۔
علم حقیقت:
عالمِ روحانی اور عالمِ جسمانی کی ابتداء، انتہاء، رسالت، وصایت، امامت، قیامت، بعثت و حشر سے متعلق بیان کو علمِ حقیقت کہتے ہیں ان حقائق کا اختصار قریب قریب ناممکن ہے کیوں کہ ایک بیان دوسرے بیان سے اس طرح وابستہ ہے کہ جب تک پہلی بات تفصیلی طور پر سمجھ میں نہ آئے دوسری بات کا سمجھ میں آنا ناممکن ہے دوسرے اس میں اس قدر پیچ در پیچ ہیں کہ ان کو ذہن نشین کرنا ہی مشکل ہے اس مقصد کے لئے ایک علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے لیکن ہم کوشش کریں گے کہ مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر چند چیزوں سے متعلق حقائق پیش کر کے علم حقیقت کا تعارف کرا سکیں۔
عالم روحانی کی ابتداء:
عالم ابداع: مبدع تعالیٰ نے ابتداء میں اپنی قدرت سے بے انتہا نورانی صورتیں آنِ واحد میں پیدا کیں جو حیات، علم، قدرت میں یکساں تھیں ان کا جلال، شرف، فضل و کمال انتہائی تھا ان صورتوں کا نام "عالم ابداع" ہے۔
عقلِ اول: ان میں ایک صورت نے بغیر کسی تعلیم اور الہام بغیر کسی تعلیم اور الہام کے قابل غور ہے کے اپنے مبدع کی وحدانیت کی گواہی دی اور اسے "علمِ ماکان و یکون" کی دولت مل گئی عقلِ اول کے دوسرے نام مبدع اول۔ سابق، قلم ہیں۔
عقلِ ثانی و ثالث یا عقلِ عاشر:
دو اور صورتوں نے پہلی صورت عقلِ اول کو دیکھ کر یکے بعد دیگرے وحید کا اقرار کیا ان دو صورتوں میں پہلی صورت کو سبقت کی وجہ سے علم وما کان و یکون مل گیا اس کے نام منبعث اول یا نفسِ کلی اور لوح ہوئے تیسری صورت میں دو میں سے دوسری نے عقلِ ثانی کی سبقت کا اعتراف نہ کیا یہ گناہ ہوا لہٰذا اس کو کوئی درجہ نہ ملا اس کو عقلِ ثالث کہا گیا لیکن گناہ کے اعتراف کے بعد عقلِ عاشر کہلائی۔
دوسری سات عقلیں:
عقلِ اول اور ثانی کی دعوت پر سات عقلوں نے دعوت کا جواب دیا ہر عقل کے ساتھ صورتوں کی ایک بڑی جماعت ان کی پیروی کرتی تھی۔
ہیولیٰ اور جسمِ کلی:
عقلِ عاشر نے معافی گناہ کے بعد ان صورتوں کو توحید کی دعوت دی جو اس کے اتباع میں گمراہ ہوئی تھیں ان گمراہ صورتوں کا نام ہیولیٰ اولیٰ ہے مگر یہ گمراہ صورتیں راہِ راست پر نہ آئیں اور ان میں تاریکی بڑھتی گئی ان کی پہلی، دوسری اور تیسری حرکت سے ان کی ذات میں طول و عرض و عمق پیدا ہوا اور یہ صورتیں مجسم ہو کر جسمِ کلی کی صورت میں ظاہر ہوئیں یہ سب کچھ عقلِ عاشر کے ارادے سے ہوا اس لئے عقلِ عاشر کو عالمِ طبیعت کا مدبر کہتے ہیں۔
تخلیق زمین و آسمان و شخص بشریٰ کو ظہور:
عقلِ عاشر نے ان گناہ گار صورتوں سے افلاک و کواکب بنائے ان ہی سے عناصر یعنی پانی، مٹی، ہوا اور آگ تیار کی اور ان صورتوں کے ایک گروہ سے صحرہ بنایا جو بہت سخت پتھر کا گولہ ہے اور افلاک کا مرکز ہے جس کے گرد وہ گھومتے ہیں۔ صحرہ کو ہم زمین کہتے ہیں افلاک و سیاروں کی حرکت سے عناصر میں تبدیلیاں ہوئیں اور موالید ثلاثہ یعنی معدنیات نباتات اور حیوانات ظہور میں آئے ہر سیارے کے دور میں لوگوں کے خمائر جمع خمیر تیار ہوئے تقریباً پچاس ہزار سال میں انسان وجود میں آیا وہ اس طرح کہ مختلف مراحل سے گذر کر دو قسم کے پانی ملنے سے 9 ماہ بعد ایک شئی بن گئی جو انسان کہلایا ابتداءً نر بچے تیار ہوئے پھر مادہ بچے پیدا ہوئے اور دنیا کے تمام جزیروں میں انسان پیدا ہونے لگے۔