دنیا میں 68 بہترین اشخاص اور صاحب جثۂ ابداعیہ
سید تنظیم حسینبہترین انسان سراندیپ لنکا میں پیدا ہوئے جن کی تعداد 68 ہے ان میں سے ایک شخص کو بغیر کسی تعلیم اور الہام کے قابل غور ہے کے بغیر کسی تعلیم اور الہام کے اپنے خالق کا خیال پیدا ہوا یہ باقی 67 کا سردار بنا یہ 67 اولو العلم کہلائے اسماعیلی دعوت کے بھی 67 ارکان ہیں جن کا ذکر ہم آگے کریں گے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے اب تک بیان کیا ہے اگرچہ وہ حد درجہ مختصر ہے اس کے باوجود اس قدر نامانونس ہے کہ اس سے ناظرین کی طبیعتوں پر گرانی ہوئی ہوگی لہٰذا صاحبِ جثۂ ابداعیہ سے آگے سلسلہ کو منقطع کر کے حضرت آدم علیہ السلام تک پہنچنے کے لئے علمِ حقیقت کے اعتبار سے مختلف ادوار کا ذکر کرتے ہیں:
دور کشف: صاحبِ جثۂ ابداعیہ کے زمانہ سے جو دور شروع ہوتا ہے وہ دورِ کشف کہلاتا ہے اس دور میں امام ظاہر ہوتا ہے تمام زمین پر اس کی حکومت ہوتی ہے علم باطن چھپایا نہیں جاتا بلکہ کھلم کھلا بیان کیا جاتا ہے لوگ متقی اور پرہیزگار نکلتے ہیں اس دور کی مدت پچاس ہزار سال ہے اس دور میں جو امام ظاہر ہوتا ہے وہ جثۂ ابداعیہ کی نسل سے ہوتا ہے اور متعقر امام کہلاتا ہے۔
دور فترت: دورِ کشف کے ختم پر دین میں آہستہ آہستہ کمزوری آتی جاتی ہے ائمہ کے اضداد کا غلبہ ہوتا جاتا ہے تقریباً تین ہزار سال یہی صورت رہتی ہے یہ دورِ فترت کہلاتا ہے۔
دورستر: دورِ فترت کے بعد دورِ ستر شروع ہوتا ہے اس میں امام مخفی ہو جاتا ہے اس کے دشمن اس کا حق چھین لیتے ہیں فسق و فجور بڑھ جاتا ہے یہ دور سات ہزار سال رہتا ہے اس دور میں کبھی کبھی مستقر امام بھی ظاہر ہو جاتا ہے اس دور کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی جو اس دور یعنی دورِ ستر کے پہلے نبی ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی حقیقت:
دورِ فترت میں متعقر امام نے مخالفانہ حالات دیکھ کر خود کو بھی چھپایا اور علمِ باطن کو بھی عام لوگوں سے چھپایا اور اپنی دعوت کے ارکان کے جن کا ذکر ہم آگے کریں گے ایک رکن کو جس کی مثال مٹی سے دی گئی ہے اپنا نائب بنایا اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ ظاہری شریعت کی طرف لوگوں کو بلائے لیکن علمِ باطن سوائے محققوں کے کسی کو نہ بتائے یہی تفسیر حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کی ہے حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے دشمن شیطان کی ترغیب پر علمِ باطن کے چند نکتے بیان کر دئیے اس جرم کی سزا میں وہ جنت سے نکال دیئے گئے اور آنے والے دورِ ستر میں ظاہری دعوت کے صدر مقرر ہوئے۔
دور ستر میں مستود عین یعنی انبیاء کا قیام:
دورِ ستر میں مستقر امام تھا خدا کے الہام سے حسبِ ضرورت اپنی جگہ پر اپنے نائب کو مقرر کرتا ہے جس کو مستودع یعنی نبی کہا جاتا ہے اور خود عوام کی نظروں سے پوشیدہ رہتا ہے جب مناسب سمجھا جاتا ہے تو خود کبھی کبھی ظاہر ہوتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام مستقر امام بھی تھے اور نبی بھی وہ ظاہری شریعت کے علاوہ علمِ باطن کے بھی مالک تھے ان کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں مستقر اماموں کا سلسلہ عبد المطلب تک پہنچا ان کے دو فرزند ہوئے ایک حضرت عبداللہ اور دوسرے ابو طالب حضرت عبداللہ کو عبد المطلب نے جو مستقر امام تھے ظاہری دعوت کا صدر بنایا اور حضرت ابو طالب کو باطنی صدر بنایا حضرت عبداللہ کے قائم مقام حضرت محمدﷺ اور حضرت ابو طالب کے قائم مقام حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہوئے گویا رسولِ خدا شریعتِ ظاہری کے مالک اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ دعوتِ باطنی کے صدر قرار پائے لہٰذا ان ہی کی نسل سے قیامت تک ائمہ قائم ہوں گے آخری امام قائم القیامہ ہو گا جو دورِ کشف کا پہلا امام ہو گا اس کے بعد پھر دورِ فترت اور اس کے بعد دورِ ستر واقع ہو گا جب تک کہ جسمانی عالم کے تمام گناہ گار نفوس نجات نہ پا جائیں گویا دنیا کے ختم ہونے تک پہلے انسان یعنی صاحبِ جثۂ، ابداعیہ ہی کی نسل میں امامت کا سلسلہ باقی رہے گا۔
نبوت سے متعلق بیان کے بعد ہم ارتقائے نفوسِ مطیعہ نیکوکار اور انحطاطِ نفوس عاصیہ گناہ گار یعنی نیکوں اور گناہ گاروں کے انجام کے متعلق صرف اتنا کہیں گے کی وہ بہت حد تک ہنود کے فلسفہ تاریخ سے ملتا جلتا ہے دوسری بات یہ کہ یہ بیان کافی طویل ہے ہم اس میں صرف گناہ گاروں کا انجام بیان کرتے ہیں:
گناہ گار کا نفسِ انتقال کے وقت جسم سے علیحدہ نہیں ہوتا بلکہ جسم میں شائع جاتا ہے یعنی پھیل جاتا ہے دفن کے بعد اس کے جسم کے اجزاء عناصرِ اربعہ میں جاتے ہیں مدیرِ عالم ان کی حفاظت کرتا ہے پھر یہ خار کی شکل میں اوپر چڑھتے ہیں اور پانی بن کر برستے ہیں ان سے نباتات پیدا ہوتے ہیں ان کو ایسے آدمی کھاتے ہیں جو وحشی ہوتے ہیں اور جن میں تہذیب کم ہوتی ہے پھر یہ آدمی مرتے ہیں ان کے اجسام مٹی میں تحلیل ہو کر برے حیوانات نباتات اور معدنیات کے مختلف برازخ جمع برزخ طے کرتے ہیں پھر ترقی کرتے کرتے معدنیات سے نباتات، نباتات سے حیوانات اور حیوانات سے انسان بنتے ہیں یہ سب عذاب کے قمیص یعنی لباس کہے جاتے ہیں انسان بننے کے بعد پھر یہ ایمان کی طرف بلائے جاتے ہیں اگر انہوں نے ایمان کی دعوت قبول کی تو خیر ورنہ انہیں پھر وہی پرانا عذاب بھگتنا پڑتا ہے۔
اس طریقہ کا نام "سحیق" اور "مزاج" و "ممتزج" رکھتے ہیں۔
ائمہ کے اوصاف بالخصوص خدا کے اوصاف سے متصف ہونا:
1: امام علمِ خدا کا خازن اور علمِ نبوت کا وارث ہے۔
2: اس کا جوہر سماوی اور اس کا علم علوی ہوتا ہے۔
3: اس کے نفس پر افلاک کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ اس کا تعلق اس عالم سے ہے جو خارج از افلاک ہے۔
4: اس میں اور دوسرے بندگانِ خدا میں وہی فرق ہے جو حیوانِ ناطق اور غیر حیوانِ ناطق میں ہے۔
5: ہر زمانے میں ایک امام کا وجود ضروری ہے۔
6: امام ہی کو دنیا پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔
7: امام معصوم ہوتا ہے اس سے خطا نہیں ہو سکتی۔
8: ہر مؤمن پر امام کی معرفت واجب ہے۔
9: امام کی معرفت کے بغیر نجات نا ممکن ہے۔
10: باری تعالیٰ کے جو اوصاف قرآنِ مجید میں وارد ہیں ان سے حقیقت میں ائمہ موصوف ہیں۔
11: ائمہ کو شریعت میں ترمیم و تنسیخ کا اختیار ہوتا ہے۔
قائم القیامہ اور اس کا ظہور:
صاحبِ جثۂ ابداعیہ کا نفس انتقال کے بعد عقلِ عاشر مدیرِ عالم جسمانی کا خلیفہ بنتا ہے عقلِ عاشر عقلِ تاسع کی جگہ لے لیتی ہے اس طرح سات عقول ترقی پاکر منبعثِ اول کے دائرے میں داخل ہوتی ہیں صاحبِ جثۂ، ابداعیہ کے ترقی پانے کے بعد اس کا بیٹا اس کا قائم مقام ہوتا ہے اس بیٹے کا نفس اور اس کی نسل سے جتنے امام ظاہر ہوتے ہیں ان کے نفوس صاحبِ جثۂ، ابداعیہ کے ضمن میں ٹھیرتے ہیں اور مختلف مراحل طے کر کے عقلِ عاشر بنتے جاتے ہیں اس طرح ہر دس ہزار برس میں ایک قائم القیامہ کا ظہور ہوتا ہے جو انتقال کر کے عقلِ عاشر کا خلیفہ بنتا ہے اور آئندہ ترقی پاتا ہے۔