Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

یزید کی ولی عہدی کی تجویز کی تاریخ

  علی محمد الصلابی

یزید بن معاویہ کو ولی عہد کب نامزد کیا گیا؟ اس بارے مصادر کا مندرجہ ذیل اختلاف ہے:

1۔ خلیفہ بن خیاط (تاریخ خلیفۃ: صفحہ 213)

اور ذہبی (تاریخ الاسلام (عہد معاویہ): صفحہ 147)

ذکر کرتے ہیں کہ یہ 51ھ کی بات ہے۔

2۔ ابن عبد ربہ (العقد الفرید: جلد 4 صفحہ 338)

ذکر کرتے ہیں کہ یہ 55ھ کا واقعہ ہے۔

۳۔ طبری (تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 219)/،

ابن جوزی (المنتظم: جلد 5۔صفحہ 285)

ابن الاثیر (البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 305)

اور ابن کثیر (الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 508)

بتاتے ہیں کہ یہ 56ھ کا واقعہ ہے۔

مذکورۃ الصدر تاریخوں کا جائزہ لینے کے بعد 51 ہجری میں یزید بن معاویہ کی ولی عہدی کے لیے نامزدگی مندرجہ ذیل اسباب کی بنا پر غلط قرار پاتی ہے: 

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 450)

الف: اسی سال یعنی 51 ہجری میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات ہوئی تھی اور نامزدگی کی قرارداد پیش کرنے کے لیے وقت کی ضرورت تھی تاکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس کا جائزہ لے سکتے اور اس بارے مشاورت کر لیتے۔ مزید برآں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے فوراً بعد نامزدگی کی قرار داد کا اعلان حکمت پر مبنی نہیں تھا۔

ب: 51 ہجری ہی میں حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا، لہٰذا اس وجہ سے بھی یزید کی ولی عہدی کی نامزدگی کا اعلان دانش مندانہ نہیں تھا، اس لیے کہ لوگ اس قسم کی جرأت مندانہ قرارداد کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھے، جبکہ لوگوں کے سامنے اس کے اعلان کے لیے وقت کا انتخاب اس کی کامیابی کا اہم ترین عامل تھا۔(صحیح بخاری بمع فتح الباری: جلد 8 صفحہ 439)

ج: یزید کی ولی عہدی کے لیے نامزدگی حجاز پر

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 452۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 123)

مروان بن حکمؓ کی حکومت کے دوران ہوئی اور وہ بلاشک اس کی حکومت کا دوسرا عرصہ ہے جو کہ 54 ہجری سے 57 ہجری کے درمیان ہے اور یہ اس لیے کہ مروانؓ کی ولایت کا پہلا عرصہ 42، 49 ہجری کو محیط ہے۔

اب یزید کی ولی عہدی کی نامزدگی کے اعلان کے لیے دو ہی تاریخیں باقی رہ جاتی ہیں اور وہ ہیں ۵۵ ہجری اور ۵۶ ہجری۔ یہ دونوں تاریخیں ایک دوسری کی تکمیل کرتی ہیں۔ جیسا کہ آگے چل کر اس کی وضاحت کی جائے گی۔ مگر اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی وجہ ہے جس نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے بیٹے یزید کی ولی عہد کے طور پر نامزدگی کے اعلان کو ۵۵ ہجری یا ۵۶ ہجری تک موخر کرنے کے لیے مجبور کیا، جبکہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما ۵۱ ہجری میں وفات پا گئے تھے۔ اس سوال کا جواب ۵۵ ہجری میں وقوع پذیر ہونے والے ایک اہم واقعہ کی معرفت میں پنہاں ہے اور وہ یہ کہ اس سال ان چھ حضرات میں سے آخری شخص سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے جنہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلافت کے لیے نام زَد کیا تھا۔