علم حقیقت کے ماخذ
سید تنظیم حسینعلمِ حقیقت کے مأخذ اخوان الصفاء کے رسائل ہیں ان رسائل کے متعلق ہم آئندہ باب میں گفتگو کریں گے یہاں صرف اتنا کہیں گے کہ آج تک یہ فیصلہ نہ ہو سکا کہ یہ کس نے ترتیب دیئے ہیں ان کے زمانے میں بھی اختلاف ہے بہرحال ان کو اسماعیلی تسلیم کیا گیا ہے اور یہ کہ ان کا زمانہ تیسری صدی ہجری کا کہا جا سکتا ہے قریب قریب ہر محقق نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان رسائل کے مندرجات یونانی ہندی محبوسی اور عیسائیوں کے فلسفوں پر مبنی ہیں۔
علمِ حقیقت سے متعلق محققین اور مستشرقین کے تاثرات سے قبل ہم "اخوان الصفاء" کے اخلاقی نظام سے ایک ٹکڑا پیش کرتے ہیں جس سے ظاہر
ہوگا کہ ان کے فلسفہ کے اعتبار سے ایک اکمل با اخلاق انسان کون ہو سکتا ہے انسان وہ ہے جو مشرقی ایرانی نسل سے ہو عربی دین رکھتا ہو عربوں کا ساز و فہم ہو چال چلن سے مسیح کے پیروں کا سا ہو خلق زہد اور ورع میں مثل شامی درویشوں ابدالو کے ہو اہلِ یونان کی طرح علوم سے باخبر ہو اہلِ ہنود کی طرح کشف و اسرار پر قدرت رکھتا ہو اور بلا آخر خصوصیت کے ساتھ اس کی کل زندگی روحانی صوفی کی سی ہو دنیا اسلام میں ہم کسی شخص کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس معیار پر پورا اترتا ہے؟
علمِ حقیقت کے دیو مالائی انداز کے ثبوت میں مندرجہ بالا ٹکڑا ہی کافی ہے اور اس پر طرفہ تماشایہ کہ اخوان الصفاء کے رسائل میں جگہ جگہ اخفاء کی ہدایت ملتی ہے الشخص الفاضل بار بار یہ کہتا نظر آتا ہے کہ ہم صراحت سے بیان نہیں کر رہے اخفاء کی ایک حیرت انگیز مثال یہ ہے کہ اخوان الصفاء کے رسائل کے لیے ایک سری کتابت ایجاد کی گئی ڈاکٹر زاہد علی لکھتے ہیں:
ان رسالوں میں کتابت سریہ یعنی مخفی تحریر استعمال کی گئی ہے حروف کی بجائے علامتیں لکھی گئی ہیں مثلاً "العلقاء" جو خاص اسماعیلی اصطلاح ہے اس کی جگہ "2 لم 8 ہے 2" گویا 2 علامت ہے الف کی اور لم علامت ہے لام کی اس طرح ہر حرف کے لیے ایک علامت مقرر کی گئی ہے تاکہ غیر اسماعیلی اصرارِ دعوت پر مطلع نہ ہو سکیں اسماعیلیہ کے علومِ خصوصی کو سمجھنے کی کوشش کرنے والے جب اس سٹیج پر پہنچتے ہیں تو ہمت جواب دیتی نظر آتی ہے مغربی متحققین لائق تحسین ہیں کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری مگر وجوہات کی وضاحت بھی کی ہے VATIKIOTIS لکھتا ہے:
تاریخوں میں مطلق ذکر نہیں ہے کہ کب اور کس نے اسماعیلی دعوت کی ابتداء کی دوسری طرف اسماعیلی اور فاطمی دعوت کے متعلق میں اس فرقے کی عجیب و غریب خصوصیات سے تاریکی میں اضافہ ہوتا ہے پہلی تو اس تحریک کا انداز ہی مخفی ہے دوسری ستر اور تقیہ اسماعیلیہ کے یہاں اصول دین و الایمان ہیں کشف المستور کو ایمان کا ضعف اور کمزوری سمجھا جاتا ہے۔
یہ صورتِ حال اب تک جاری ہے جس کا ذکر ہم پہلے ہی کر آئے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے علم حقیقت میں ہندی فلسفہ کی نشاندہی:
1: ڈاکٹر زاہد علی علمِ حقیقت کے مطابق مختلف ادوار دورِ کشف دورِ فطرت اور دورِ ستر کے متعلق لکھتے ہیں:
ان ادوارِ ثلاثہ کا مقابلہ ہندی فلسفہ کے چار یوگوں 1: کریتا یوگا 2: تریتا یوگا 3: کالی یوگا سے کیا جا سکتا ہے پہلے یوگا میں محض خیر ہی ہوتا ہے گھٹتے گھٹتے کالی ہوگا میں خیر کا صرف چوتھا حصہ رہ جاتا ہے یعنی شر خیر پر غالب ہو جاتا ہے پھر کریتا یوگا شروع ہوتا ہے اور اس طرح عالم کا نظام جاری رہتا ہے۔
2: عقول کی ایک درجے سے دوسرے درجے پر ترقی اور پھر واپسی کے متعلق ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:
ہندو فلسفہ کے مطابق تمام روحیں ترقی کے مدارج طے کر کے بلائے آخر برہما میں داخل ہو جاتی ہیں جہاں سے وہ کبھی واپس نہیں ہوتیں۔
(تاریخ ہندی فلسفہ: صفحہ، 80 مطبوعہ جامعہ عثمانیہ)
3: گناہ گاروں کے انجام یعنی سحیق کی ہندی فلسفہ سے مطابقت اس طرح بتلائی ہے:
جن لوگوں نے خیرات کے کام کیے مثلاً کنواں کھدوانا وغیرہ مرنے کے بعد ان کی روح پہلے دھوئیں میں داخل ہوتی ہے پھر اندھیری راتوں سے گزرتی ہوئی چاند تک پہنچتی ہے اور جب تک اس کے نیک کام باقی رہتے ہیں وہاں مقیم رہتی ہے پھر اس کے بعد پتھر ہوا دھواں لہر بادل بارش نباتات غذا اور تخم سے ہوتی ہوئی انسان کی غذا کے مطابق سے رحم مادر میں داخل ہوتی ہے اور پھر پیدا ہو جاتی ہے-"
( تاریخ ہندی فلسفہ ازرائے شو موہن لال: صفحہ، 80 مطبوع جامعہ عثمانیہ)