اُمّ المُومنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا
جعفر صادقاُمّ المُؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییؓ
اجمالی خاکہ
نام صفیہ
والد حُیی بن اخطب
والدہ حزہ بنت سموئیل
سن پیدائش بعثت نبوی سے 2 سال بعد تقریباً
قبیلہ بنو نضیر
زوجیت رسول اللہﷺ 7 ہجری
سن وفات 50 ہجری
مقامِ تدفین جنت البقیع مدینہ منورہ
کل عمر 65 سال
نام و نسب
صفیہ نام تھا، سلسلۂ نسب کچھ اس طرح ہے: صفیہ بنت حُیی بن اخطب بن سعید بن عامر بن عبید بن خزرع بن ابی حبیب بن نضیر۔جبکہ والدہ کا نام” برہ” یا” ضرہ“تھا۔ جو قبیلہ بنو قریظہ کے سردار سموئیل کی بیٹی تھیں۔
ولادت
آپؓ کی ولادت نبی کریمﷺ کے اعلانِ نبوت سے تقریباً 2 سال بعد میں ہوئی۔
خاندانی پس منظر
سیدہ صفیہؓ کا قبیلہ بنو نضیر تھا، یہ یہود کا بہت ممتاز قبیلہ تھا، آپؓ اللہ عنہا کے والد حُییح پر پیش اور ی کو دو بار پڑھنا ہے پہلی بار زبر کے ساتھ اور دوسری پر جزم قبیلہ بنو نضیر کے سردار تھے۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ اولاد نبی اور قبیلہ کے سردار ہونے کی وجہ سے آپ کو معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ والدہ کی طرف سے بھی آپؓ کے خون میں سرداری کے اوصاف پائے جاتے تھے۔
پہلا نکاح
آپؓ کی عمر جب 14 برس کی ہوئی تو آپ کی شادی سلام بن مشکم القرظی سے کر دی گئی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد سلام بن مشکم نے آپؓ کو طلاق دے دی۔ سلام بن مشکم اپنے قبیلہ بنو نضیر کا سردار تھا، اسلام کی دشمنی میں بہت سرگرم رہا کرتا تھا۔ غزوہ بدر کے بعد جب قریش مکہ کے رئیس ابو سفیان اپنے مقتولین بدر کا انتقام لینے کے لیے دو سو اونٹ سواروں کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھے تو سیدھے اسی سلام بن مشکم قرظی کے پاس آئے تھے۔ انہوں نے ابو سفیان کا پر جوش استقبال کیا، اعلیٰ قسم کے کھانے کھلائے، شراب پلائی اور حملہ کرنے کے لیے مدینہ طیبہ کے مخفی راز بھی ابو سفیان کو دیے۔
نوٹ: یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت ابو سفیانؓ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے۔ بعد میں آپ ایمان لے آئے اور جلیل القدر صحابی بنے۔
مدینہ سے جلا وطنی
جب آپﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے، اسلام کی دعوت دی، لوگوں نے اسلام کو قبول کیا، مدینہ میں پہلے سے موجود مذہبی اثر رسوخ کے مالک یہود کے مذہبی وقار میں خاطر خواہ کمی آنے لگی۔ بت پرست مشرکوں میں تسلسل کے ساتھ پھیلتی ہوئی یہودیت، سکڑ گئی۔دوسری طرف مکہ کے قریشی بدر میں ہلاک ہونے والے اپنے سرداروں کا انتقام لینے اور اسلام کو ختم کرنے کے لیے مدینہ کے یہودیوں کو اپنے ساتھ ملا رہے تھے۔ گویا مشرکین مکہ اور یہود مدینہ دونوں اسلام کو مٹانے کے لیے اکٹھے ہو گئے۔
سیدہ صفیہؓ کے قبیلے بنو نضیر نے ایک بار سازش کر کے آپﷺ کو پتھر گرا کر قتل کرنا چاہا۔ لیکن آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس سازش کی اطلاع کر دی۔ آپﷺ دوسرے راستے سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ دوسری بار قریش مکہ کے کہنے پر بنو نضیر نے آپﷺ کو قتل کرنا چاہا اور چال یہ چلی کہ آپﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ تین آدمی لے کر ہمارے پاس تشریف لائیں۔ ہم بھی تین علما کو ساتھ لے کر آتے ہیں۔ آپ اسلام سمجھائیں اگر ہمارے علماء نے آپ کی دعوت کو تسلیم کر لیا تو ہم بھی ایمان لے آئیں گے۔ آپﷺ نے اسے منظور فرمایا۔راستے میں آپﷺ کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ تلواریں باندھ کر آپ کو قتل کرنے کے درپے ہیں۔ تب آپﷺ نے ان کا محاصرہ کیا۔ کئی دن تک یہ محاصرہ جاری رہا۔ لشکرِ اسلام نے ان کی معاشی قوت کے استیصال کے لیے ان کے باغات تک جلا دیے۔ جب یہ ہر طرف سے بے بس ہو گئے تو انہوں نے صلح کی درخواست کی۔ بالآخر بنو نضیر کو مدینہ سے جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا وہ اس شرط کے ساتھ راضی ہوئے کہ جس قدر مال و اسباب اونٹوں پر لے جا سکیں، لے جانے دیں تو ہم مدینہ سے نکل جائیں گے۔ چنانچہ جلا وطنی پر مجبور ہونے والوں میں سیدہ صفیہؓ کے والد حیی بن اخطب اور سلام بن ابی الحُقیق، کنایہ بن الربیع کے علاوہ چند دیگر لوگ بھی بنو نضیر سے خیبر کی طرف چلے گئے، وہاں لوگوں نے ان کا اس قدر احترام کیا کہ خیبر کا سردار تسلیم کر لیا۔
دوسرا نکاح
خیبر پہنچ کر آپؓ کے والد نے آپ کا نکاح کنانہ بن ابی الحُقیق سے کر دیا۔ کنانہ خیبر کے سردار ابو رافع کا بھتیجا تھا اور خود بھی خیبر کے قلعہ القموص کا حاکم تھا۔
جنگ کی تیاریاں
آپؓ کے والد حیی بن اخطب جب خیبر آئے تو یہاں اسلام کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے کی تیاریاں شروع کیں۔ آس پاس کے قبائل کو اس کے لیے تیار کیا۔ یہاں تک کہ ایک بڑا لشکر جنگ کے لیے تیار کر لیا۔
غزوہ ذی قرد
یہود نے قبیلہ غطفان کو بھی لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ عیینہ بن حصن فزاری نے چند افراد کے ساتھ مل کر یہ شرارت کی کہ مقام ذِی قَرد)چراگاہ کا نام ہے جہاں آپﷺ کی اونٹنیاں چر رہی تھیں ان پر حملہ کر دیا۔ اونٹنیوں کی حفاظت پر مامور حضرت ابوذرؓ کےبیٹے کو قتل کر دیا۔ ان کی بیوی کو گرفتار کر لیا اور 20 اونٹنیاں ساتھ بھگا لے گئے۔ حضرت سلمہؓ بن الا کو ع رضی اللہ عنہ کو اس حملے کا علم ہوا تو انہوں نے تیز رفتاری سے پیدل دوڑ کر حملہ آوروں کو جا لیا۔ ابھی وہ ایک جگہ پر اونٹنیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ حضرت سلمہؓ نے ان پر اتنی پھرتی سے تیر برسائے کہ تمام حملہ آور زخمی ہو کرفرار ہو گئے، حضرت سلمہؓ تمام اونٹنیاں واپس چھڑا لائے۔ اس کے تین دن بعد غزوہ خبیر ہوا۔
غزوہ خیبر
مدینہ کے شمال مغرب میں خیبر نامی ایک شہر آباد تھا یہ نہایت زرخیز مقام تھا یہاں پر یہودیوں نے چند قلعے بنا رکھے تھے۔ یہود دیگر قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر مدینہ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک عرصے سے جنگی اسلحہ جمع کر رکھا تھا۔ قبیلہ بنو غطفان اور قبیلہ بنو اسد کو نصف کجھوروں کے باغات کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا چکے تھے۔
آپﷺ کو ان کی تیاریوں اور اسلحہ جمع کرنے کا علم ہوا تو آپﷺ نے حضرت سباع بن عرفطہ غفاریؓ رضی اللہ عنہ کو حاکم مدینہ مقرر فرمایا اور خود 1400 افراد پر مشتمل صحابہ کرامؓ کے قافلے کے ہمراہ خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ادھر رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی نے کسی طریقے سے یہودیوں کو خفیہ طور پر مسلمانوں کی روانگی کی اطلاع دے دی۔پہلے تو یہود نے کھلے میدان میں لڑنے کا فیصلہ کیا اور ایک میدان میں نکل آئے ان کا خیال یہ تھا کہ مسلمانوں کو خیبر پہنچنے میں کچھ دن لگ جائیں گے،چند دن بعد آپﷺ نے مقامِ رجیع میں فوجیں اتاریں، خیمے، مستورات اور بار برداری کا سامان یہاں اتار دیا گیا جبکہ اصل لشکر نے خیبر کا رخ کیا۔
مقام صہباء پر پہنچ کر نمازِ عصر ادا کی گئی اور اس کے بعد آپﷺ نے باقی صحابہ کرامؓ کے ساتھ ستو نوش کیے۔ رات ہوتے ہوتے لشکر خیبر کے قریب پہنچ گیا تھا اور عمارتیں نظر آنے لگیں، آپﷺ نے رکنے کا حکم دیا اور یہاں رک کر دعا فرمائی۔دوسرے دن خیبر پہنچے۔ یہود ایسی بزدل قوم تھی جب انہوں نے اہلِ اسلام کی جنگی تیاریاں دیکھیں تو کھلے میدان کے بجائے قلعہ بند ہو کر لڑنے لگے۔
قلعہ قموص کی فتح
خیبر کی آبادی دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک حصے میں پانچ قلعے تھے۔
1:قلعہ ناعم
2:قلعہ صعب بن معاذ
3:قلعہ زبیر
4:قلعہ اُبی
5: قلعہ نزار
ان میں سے مشہور تین قلعوں پر مشتمل علاقہ نطاۃ کہلاتا تھا اوربقیہ دو قلعوں پر مشتمل علاقہ شق کے نام سے مشہور تھا۔
خیبر کی آبادی کا دوسرا حصہ کتیبہ کہلاتا تھا۔ اس میں صرف تین قلعے تھے۔
1:قلعہ قموص یہ بنو نضیر کے خاندان ابوالحقیق کا قلعہ تھا
2:قلعہ وطیح
3:قلعہ سلالم۔
یہودیوں نے اپنی خواتین اور بچے قلعہ قموص اور نطاۃ میں جبکہ دیگر سامان و اسلحہ وغیرہ قلعہ ناعم میں محفوظ کرلیا اور ہر قلعے پر تیر انداز تعینات کردیے۔ مسلمانوں نے پانچ قلعوں کو ایک ایک کر کے فتح کیا جس میں 50 مجاہدین زخمی اور ایک شہید ہوئے۔
قلعہ قموص سب سے بنیادی اور بڑا قلعہ تھا جو ایک پہاڑی پر بنا ہوا تھا۔ آپﷺ نے اس قلعے کو فتح کرنے کے لیے چند صحابہ کرامؓ کو بھیجا لیکن یہ فتح نہ ہوا۔ اس کے بعد آپﷺ نے ارشاد فرمایا:” کل میں اسے علم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ شکست کھانے والا اور بھاگنے والا نہیں ہے۔ خدا اس کے ہاتھوں سے فتح عطا کرے گا۔“یہ سن کر صحابہ کرامؓ خواہش کرنے لگے کہ کاش یہ سعادت انہیں نصیب ہو۔
دوسرے دن آپﷺ نے سیدنا علیؓ کو طلب کیا۔ آپﷺ کو بتلایا گیا کہ انہیں آنکھ کی تکلیف ہے اس کے باوجود سیدنا علیؓ تشریف لائے توآپﷺ نے اپنا لعابِ مبارک ان کی آنکھ پر لگایا آپؓ کی آنکھ کی تکلیف بالکل ختم ہو گئی۔
دوسرے دن سیدنا علیؓ میدان میں اترے تو یہودیوں کے مشہور پہلوان مرحب کا بھائی حارث مسلمانوں پر حملہ آور ہوا مگر سیدنا علیؓ نے اسے ایک ہی وار میں قتل کر دیا اور اس کے ساتھی بھاگ گئے۔ اس کے بعد مرحب رجز جنگی اشعارپڑھتا ہوا میدان میں اترا۔ اس نے زرہ اور خَود پہنا ہوا تھا۔آپؓ نے بھی جواب میں رجز پڑھا اور مرحب کے سر پر اتنے زور سے تلوار کا وار کیا جس سے خَود دو ٹکڑے ہو گئی اور مرحب دو دھڑوں میں کٹ گیا۔
زِرَّہ: لوہے کا بنا ہوا جنگی لباس جس کے ذریعے تیر و تلوار وغیرہ کے حملوں سے جسم کو بچایا جاتا ہے۔
خَوْد: خ کو زبر کے ساتھ پڑھنا ہے۔ لوہے کی بنی ہوئی جنگی ٹوپی۔
اس کی ہلاکت کے بعد باقی یہودی خوفزدہ ہو کر قلعہ میں جا گھسے۔ سیدنا علیؓ نے قلعہ کا دروازے کو دونوں ہاتھوں سے پورا زور سے اکھاڑ لیا۔ اس کے بعد آپ نے اس دروازے کو قلعہ قموص کے آگے والے گڑھے پر رکھا تا کہ اسلامی فوج گھوڑوں سمیت قلعہ میں داخل ہو سکے،اسلامی فوج داخل ہوئی، یہودی سہم گئے انہوں نے اپنے ہتھیار ڈال دیے اور قلعہ قموص بھی فتح ہو گیا۔ اس پورے غزوے میں 93 یہودی ہلاک ہوئے جبکہ 15 مسلمان شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔
خیبر کی نصف پیدا وار
فتح کے بعد خیبر کی زمین تقسیم کی گئی لیکن اہل خیبر نے گذارش کی کہ زمین ایسے ہی رہنے دی جائے ہم پیداوار کا نصف ادا کیا کریں گے۔ آپﷺ نے منظور فرمایا اور کاشت کے وقت آپﷺ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو بھیج دیتے جو فصل کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد اہلِ خیبر سے کہتے کہ ان میں سے جو حصہ چاہو لے لو۔
خیبر میں قیام
آپﷺ فتح کے بعد کچھ عرصہ تک خیبر میں مقیم رہے، تمام تر امن و امان کے باوجود بھی یہودیوں کی اسلام دشمن سازشیں ختم نہ ہوئیں۔ اسی دوران ایک واقعہ پیش آیا جب آپﷺ اور صحابہ کرامؓ کو مرحب کی بھابھی زینب نے کھانے کی دعوت دی اور کھانے میں زہر ملا دیا۔
آپﷺ نے ایک نوالہ لینے کے بعد کھانے سے ہاتھ روک لیا جبکہ ایک صحابی حضرت بِشرؓ نے پیٹ بھر کر کھایا۔ زہر کی وجہ سے حضرت بشرؓ شہید ہو گئے۔ بعد میں زینب نے جرم کا اقرار کیا، آپﷺ نے اسے ذاتی طور پر معاف فرمایا لیکن وہ حضرت بشرؓ کے قصاص میں قتل کر دی گئی۔
مالِ غنیمت کی تقسیم
غزوہ خیبر میں کئی نامور پہلوان جنگ جو اور یہودیوں کے سردار مارے گئے۔ حضرت صفیہؓ کے خاندان کے سارے افراد اسی غزوے میں قتل کر دیے گئے یا جنگی قیدی بنا لیے گئے۔ جنگ کے بعد تمام قیدی اور مال غنیمت ایک جگہ جمع کئے گئے۔
اسی دوران سیدہ صفیہؓ اور ان کی ایک رشتہ دار خاتون کو حضرت بلالؓ پکڑ کر لائے۔ راستے میں مقتولین کی لاشیں خاک و خون لتھڑی ہوئی پڑی تھیں۔ ان میں سیدہ صفیہؓ کے والد، بھائی، شوہر اور خاندان کے بعض دوسرے لوگوں کی بھی کی لاشیں بھی تھیں۔ سیدہ صفیہؓ نے ان لاشوں کو دیکھا لیکن بالکل تحمل کا دامن نہیں چھوڑا۔ جبکہ آپ کے ساتھ قید ہونے والی دوسری خاتون نے جب لاشیں دیکھیں تو بے قابو ہو کر رونا پیٹنا شروع کیا۔ آپﷺ کو جب اس عورت کے رونے کا علم ہوا تو آپﷺ نے حضرت بلالؓ کی تربیت کرتے ہوئے فرمایا:’’بلال تمہارے دل میں رحم پیدا نہیں ہوا کہ ان عورتوں کو اس راستے سے لائے ہو جہاں ان کے باپ اور بھائی خاک و خون میں لتھڑے پڑے ہیں۔“
دحیہ کلبیؓ کا انتخاب
سیدہ صفیہؓ قیدیوں کے پاس بیٹھ گئیں۔ جب مالِ غنیمت تقسیم ہونے لگا تو حضرت دحیہ کلبیؓ نے سیدہ صفیہؓ کو اپنے لیے پسند فرمایا۔
صحابہ کرامؓ کا مشورہ
بعض صحابہ کرامؓ نے سیدہ صفیہؓ کی حیثیت کا خیال فرماتے ہوئے آپﷺ سے عرض کیا:’’ یارسول اللہﷺ! صفیہؓ بنی قریظہ اور بنو نضیر کی رئیس زادی ہے، خاندانی وقار کے پیشِ نظر وہ ہمارے سردار محمد رسول اللہﷺ کے لیے زیادہ موزوں ہے۔‘‘
سیدہ صفیہؓ کو اختیار
رسول اللہﷺ نے یہ مشورہ قبول فرما لیا۔اور دحیہ کلبیؓ کو دوسری لونڈی عطا فرما کر سیدہ صفیہؓ کو آزاد کر دیا اور یہ اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو اپنے گھر چلی جائیں اور اگر چاہیں تو آپﷺ کے نکاح میں آجائیں۔
قبولِ اسلام
اسی موقع پر سیدہ صفیہؓ نے اسلام کو دل و جان سے قبول کر لیا اور اہلِ ایمان کی صف میں شامل ہو گئیں۔ابراهيم بن جعفر اپنے والد سے روایت كرتے ہیں، وہ كہتے ہیں: جب سیدہ صفیہؓ نبیﷺ كے پاس آئیں تو آپﷺ نے ان سے كہا:” تمہارے والد برابر میرے سخت ترین یہودی دشمنوں میں سے رہے، یہاں تک كہ اللہ نے انہیں ہلاک كر دیا۔“
پھر اللہ كے رسولﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا:” فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے، اگر تم اسلام قبول كر لو تو میں تمہیں اپنے پاس ہی روک لوں گا، اور اگر تم یہودیت پر برقرار رہنا چاہو، تو ایسا ہے كہ میں تمہیں آزاد كیے دیتا ہوں، تم اپنی قوم كے پاس چلی جاؤ۔“
عرض كی کہ اے اللہ کے رسولﷺ! میں تو آپ کے دعوت دینے سے پہلے ہی سے اسلام کی مشتاق تھی اور دل سے آپ کی تصدیق کر چکی تھی۔ جب میں یہاں آئی ہوں تب بھی مجھے یہودیت میں کوئی رغبت نہیں تھی اور اب تو نہ ان میں کوئی میرا باپ ہے نہ بھائی۔ آپ نے مجھے کفر واسلام کے درمیان اختیار دیا ہے تو میرا فیصلہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول مجھے آزادی اور اپنی قوم میں لَوٹنے سے زیادہ عزیز ہیں۔
سیدہ صفیہؓ اُم المؤمنین بنتی ہیں
سیدہ صفیہؓ نے آپﷺ کے نکاح میں آنا ہی پسند فرمایا، خیبر سے واپسی پر جب آپ سد الروحاء کے مقام پر پہنچے تو سیدہ صفیہؓ حیض سے پاک ہوئیں تب آپﷺ ان كے ساتھ آئے شب عروسی گزاری اور دوسرے دن آپﷺ نے دعوت ولیمہ کی۔ ان کا حق مہر اِن کی اپنی آزادی تھی۔ یہاں سے چلتے وقت آپﷺ نے سیدہ صفیہؓ کو خود اپنے اونٹ پر سوار فرمایا اور خود اپنی چادر مبارک سے ان پر پردہ کیا۔
نوٹ: ہم اس بات کا تذکرہ پہلے کر چکے ہیں کہ پردہ کرانے میں حکمت یہ تھی کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ سیدہ صفیہؓ آپﷺ کی زوجہ ہیں، باندی نہیں۔
مدینہ منورہ تشریف آوری
دعوت ولیمہ وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد سیدہ صفیہؓ آپﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ تشریف لائیں۔ آپؓ کو حضرت حارث بن نعمان انصاریؓ کے مکان پر ٹھہرایا گیا۔ آپؓ کے حسن وجمال کا تذکرہ مدینہ کی عورتوں میں پھیل گیا چنانچہ ازواجِ مطہرات اور انصار و مہاجرین کی خواتین آپ کو دیکھنے کے لیے تشریف لائیں۔
سیدہ فاطمہؓ سے محبت
اسی دوران رسول اللہ ﷺ کی لختِ جگر سیدہ فاطمۃ الزہراؓ بھی سیدہ صفیہؓ کی زیارت کے لیے تشریف لائیں۔ جب سیدہ صفیہؓ کو معلوم ہوا کہ فاطمہؓ نبی کریمﷺ کی لختِ جگر ہیں تو انہوں نے اپنے کانوں کے جھمکے اور زیورات اتارکر ان کی خدمت میں پیش کیا اور ان کے ساتھ جو دوسری خواتین تشریف لائیں انہیں بھی کوئی نہ کوئی زیور تحفے میں دیا۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
آپﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے اس بارے پوچھا۔سیدہ عائشہؓ جو ابھی تک غالباً سیدہ صفیہؓ کے اسلام لانے سے واقف نہ ہو پائی تھیں یہ کہا کہ” یہودیہ ہے۔“ آپﷺ نے سیدہ عائشہؓ کی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا: نہیں بلکہ صفیہؓ مسلمان ہو چکی ہے اور اس کا اسلام بہت اچھا ہے۔
ایک خواب کی تعبیر پوری ہوئی۔
سیدہ صفیہؓ کے چہرے پر زخم کا ایک نشان تھا۔ آپﷺ نے اس بارے آپؓ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ سیدہ صفیہؓ نے عرض کی:’’یا رسول اللہﷺ ! میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ آسمان سے چاند ٹوٹ کر میری گود میں آن گرا ہے جب میں نے یہ خواب اپنے خاوند کنانہ بن ابی الحقیق کو سنایا، اس نے یہ کہہ کر کہ تو ملکہِ عرب بننا چاہتی ہے میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا جس کی وجہ سے یہ نشان پڑ گیا۔
آپ نے جو خواب دیکھا تو اس کی تعبیر یوں پوری ہوئی کہ آپؓ پوری کائنات کے سردارﷺ کی زوجہ بن گئیں۔