بیس رکعت تراویح پر اجماع صحابہَؓ
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند*بیس رکعت تراویح پر اجماع صحابہَؓ*
*دلیل نمبر 1:*
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان شریف میں بیس رکعات نماز(تراویح) اور وتر پڑھا کرتے تھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة:7692، المنتخب من مسند عبد بن حميد:653، جزء من حديث النعالي:33]
*دلیل نمبر 2:*
ترجمہ:
(٧٧٦٢) حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ شتیر بن شکل رمضان میں بیس رکعات تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: حدیث نمبر: 7762)
احادیت نمبر: 7763, 7764, 7765, 7766, 7767
*دلیل نمبر 3:*
ترجمہ:
(٤٦١٥) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ رمضان میں جماعت کے علاوہ بیس رکعات اور وتر پڑھتے تھے۔
(سنن کبریٰ للبیہقی حدیث نمبر: 4615)
حدیث نمبر: 4617، 4620, 4621
*دلیل نمبر 4:*
ترجمہ:* حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورﷺ رمضان شریف کی ایک رات تشریف لائے ۔لوگوں کو چار رکعات فرض، بیس رکعات نماز(تراویح) اور تین رکعات وتر پڑھائے۔
(تاریخ جرجان ص ۲۸۶)
*دلیل نمبر 5:*
ترجمہ: حضرت سائب بن یزیدؓ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمرؓ کے زمانے میں رمضان شریف کے مہینہ میں بیس رکعات (نماز تروایح ) پابندی سے پڑھتے اور قرآن مجید کی دو سوآیات پڑھتے تھے۔
(مسند ابن الجعد رقم الحدیث ۲۴۸۱ )
*دلیل نمبر 6:*
ترجمہ: حضرت حسنؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے رمضان شریف میں نماز تروایح پڑھنے کے لیے حضرت ابی بن کعبؓ کی امامت پر لوگوں کو جمع کیا تو حضرت ابی بن کعبؓ ان کو بیس رکعات (نماز تراویح) پڑھاتے تھے۔
(سیر اعلام النبلا ص ۴۰۰)
*دلیل نمبر 7:*
ترجمہ: حضرت ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں رمضان شریف کی رات میں نماز(تراویح) پڑھاؤں! حضرت عمرؓ نے فرمایاکہ’’لوگ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور (رات) قرأت (قرآن) اچھی نہیں کرتے۔ تو قرآن مجید کی رات کو تلاوت کرے تو اچھا ہے۔‘‘ حضرت ابی بن کعبؓ نے فرمایا: ’’اے امیر المومنین! یہ تلاوت کا طریقہ پہلے نہیں تھا ۔‘‘ حضرت عمرؓ نے فرمایا:’’ میں جانتا ہوں لیکن یہ طریقہ تلاوت اچھا ہے۔‘‘تو حضرت ابی بن کعبؓ نے لوگوں کو بیس رکعات نماز (تروایح) پڑھائی۔
(اتحاف الخیرۃ المہرۃ علی المطالب العالیہ ج2ص424 أخرجه ضياء الدين المقدسي في المختارة 3/ 367 رقم 1161, وقال محققه عبدالملك الدهيشي إسناده حسن- وكنز العمال 8/409/3471)
*دلیل نمبر 8:*
امام مالکؒ نے یزید بن رومانؒ سے روایت کیا ہے کہ: لوگ (صحابہ و تابعین) حضرت عمرؓ کے زمانے میں رمضان میں تئیس ( ۲۳) رکعتیں (بیس تراویح اور تین رکعات وتر) پڑھا کرتے تھے.
[موطا امام مالک: ٢/١٥٥ ، آثار السنن ۶/۵۵]
*دلیل نمبر 9:*
ترجمہ:…”اور تراویح، وتر سمیت 23 رکعتیں ہیں، جیسا کہ اسی کے مطابق (صحابہ و تابعین کا) عمل تھا، پھر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانے میں وتر کے علاوہ چھتیس کردی گئیں، لیکن جس تعداد پر سلف و خلف کا عمل ہمیشہ جاری رہا وہ اوّل ہے (یعنی بیس تراویح اور تین وتر)۔”