ذمی لوگوں کو مسلمانوں کے ناموں جیسے نام رکھنے اور مسلمانوں جیسے لباس استعمال کرنے کی اجازت نہیں
ذمی لوگوں کو مسلمانوں کے ناموں جیسے نام رکھنے اور مسلمانوں جیسے لباس استعمال کرنے کی اجازت نہیں
ذمی لوگوں کو مسلم ممالک میں نہ صرف اپنے دین اور مذہب کی تبلیغ و ترویج کی اجازت نہیں، بلکہ اُن کو مسلمانوں کے ناموں پر اپنے نام رکھنے حتیٰ کہ مسلمانوں کی طرح لباس پہننے کی بھی اجازت نہیں، تاکہ اسلامی تشخص کجلا نہ جائے، جیسا کہ اسلامی دفاتر میں اس کی وضاحت و صراحت موجود ہے۔
امام ابن کثیرؒ تصریح فرماتے ہیں کہ: شام کے نصاریٰ نے یہ 6 شرطیں بھی قبول کی تھی کہ ہم اپنے بچوں کو قرآن نہیں پڑھائیں گے، ہم اپنے شرکیہ کام کھلم کھلا نہیں کریں گے، نہ اپنے شرک کی دعوت دیں گے، ہم اپنے کسی قرابت دار کو اسلام قبول کرنے سے منع نہیں کریں گے، ہم مسلمانوں جیسا لباس بھی نہیں پہنیں گے، نہ مسلمانوں کی ٹوپی جیسی ٹوپی، نہ عمامہ جیسا عمامہ اور نہ جوتے جیسا جوتا پہنیں گے، نہ ہم سر کے بالوں میں سیدھی مانگ نکالیں گے، نہ ان کی زبان بولیں گے، نہ ان کی کنیتوں جیسی کنیت رکھیں گے، نہ اپنی سواریوں پر زین سجائیں گے، نہ تلوار لٹکائیں گے (یاد رہے کہ تلوار اُس زمانے میں مسلمانوں کا علامتی ہتھیار اور شعار…شناختی علامت…سمجھا جاتا تھا) نہ ہم اپنے گھروں میں اسلحہ رکھیں گے، نہ کسی قسم کا اسلحہ اُٹھا کر چلیں گے، نہ اپنی انگوٹھیوں پر عربی زبان میں کچھ نقش کریں گے۔ اور اخر میں یہ بھی لکھا کہ……اگر ہم ان تمام شرائط میں سے کسی ایک شرط کی خلاف ورزی کریں گے تو مستوجب سزا ہوں گے۔
امام ماوردیؒ یہ بھی لکھتے ہیں کہ: پانچویں شرط لازمی یہ بھی ہے کہ ذمی لوگ اور کوئی اقلیت کسی مسلمان کو اس کے دین کے معاملے میں کسی آزمائش اور فتنے میں مبتلا کرنے کی ہرگز مجاز نہ ہو گی، نہ دھونس کی صورت میں، نا مال کی تحریص کے ساتھ، نہ رشتے کی ترغیب کے ساتھ اور نہ کسی قسم کے لالچ کے ساتھ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو قانون حرکت میں آ کر اس کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر رہے گا۔
خلاصۃ المرام! یہ کہ کسی غیر مسلم عیسائی، یہودی، مجوسی، صابی، ہندو، سکھ، پارسی، بہائی، بابی، قادیانی، ربوی، لاہوری، مرزائی (اور شیعہ) کو شعائر اسلامی یعنی کلمہ توحید، رسول، قبلہ، صلوۃ، درود، مسجد، قربانی، اور عید وغیرہ مقدس اصطلاحوں کو استعمال کرنے کی ازروئے شرعِ اسلام قطعاً اجازت نہیں، اور نہ ان مذکورہ باطل گروہوں کو اور خارج اَز اسلام فرقوں کو اپنے باطل عقائد و افکار اور اعمال اور رسومات کا برملا پرچار کرنے کی اجازت ہے، اور نہ اِن کو اپنے اِن باطل اور خلافِ اسلام عقائد و افکار اور اعمال و رسومات کی نشر و ترویج اور دعوت اور تبلیغ کی اجازت ہے۔ اور مسلمان حکمران اور مسلم اکثریت پر شرعاً واجب ہے کہ وہ اپنے ملک میں بسنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو ان شرائط کا پابند بنائے کہ یہ مسلمانوں کا شرعی فریضہ ہے۔
(فتاویٰ ختم نبوت:جلد:3:صفحہ:94)