معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حد سرقہ کو ترک کیا۔ (احکام السلطانيہ)
مولانا ابوالحسن ہزارویمعاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حد سرقہ کو ترک کیا۔ (احکام السلطانيہ)
الجواب اہلسنّت
1: یہ واقعہ نقل کرتے ہوئے لفظ لکھے ہیں وحکی یعنی یہ حکایت نقل کی گئی ھے نقل واقعہ میں کوئی سند ذکر نہیں کی گئی نا معلوم نقل کرنے والا دوست ہے یا دشمن اپنا ہے یا پرایا مسلمان ہے یا کافر؟
2: حکایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ان معاوية اتی الصوص فقطعهم حتى بقى واحد کہ حضرت امیر معاویہ رضى الله عنه کے سامنے چوروں کو پیش کیا گیا تو ان کے حکم سے تمام چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے ۔ حتیٰ کہ ایک چور باقی رہ گیا ۔ اُس آخری چور نے معافی کی درخواست دائر کی اور چند اشعار پڑھے جس پر اس کے ہاتھ نہ کاٹے گئے۔ اس واقعہ اور حکایت سے توقطع ید کی سزا نافذ کرنے اور چوروں کے ہاتھ کاٹنے کی صراحت موجود ہے مگر شیعہ لوگ پھر بھی ایسی چال چلتے ہوئے اعتراض کناں ہیں کہ معاویہ نے حد سرقہ کو ترک کر دیا حالانکہ اسی مجلس میں کئی عدد چوروں کے ہاتھ کاٹنے کا ذکر موجود ہے۔
3: البتہ آخری چور کو معاف کر دیا گیا چنانچہ عکسی صفحہ پر ہے کہ جب بے حد اصرار سے اس چور نے معافی چاہی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تجھے کیسے معاف کر سکتا ہوں جبکہ تیرے باقی ساتھ والوں کو اسلامی قاعدہ کے موافق سزا دی جا چکی ہے تو چور کی ماں نے بارگاہ الٰہی میں معافی کی خواستگاری کے ساتھ درگزر کرنے کی التجاء کی تھی۔
4: تعجب کی بات ہے کہ امیر المؤمنین نے اپنے گناہ سے توبہ کرنے والے کو سزا معاف کر دی تو اعتراض داغ دیا۔ حالانکہ گھر کا حال یہ ہے کہ نائب امام کو خود روافض نے یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ جیسے گناہ گار کو چاہیں معاف کر سکتے ہیں. چنانچہ ماضی قریب کے بانی شیعہ انقلاب جناب خمینی نے اپنی کتاب تحریر الوسیلہ کتاب الحدود میں لکھا ہے کہ جب مجرم اپنے گناہ سے توبہ کرے تو نائب امام کو اختیار ہے کہ وہ اسے معاف کر دے۔