Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات

  علی محمد الصلابی

بعض مؤرخین نے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید اور یزید بن معاویہ کی بیعت میں تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب امیر نے دیکھا کہ اہل شام عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کو روم میں ان کی حربی خدمات کی وجہ سے قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے خوف زَدہ ہو گئے، چنانچہ انہوں نے اپنے نصرانی طبیب ابن اثال کو انہیں زہر دینے کا حکم دیا، جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 143۔ یہ روایت ضعیف ہے)

جبکہ ابن الکلبی ان کی موت کا ایک دوسرا سبب بتاتے ہیں اور وہ یہ کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد کسی آدمی کو امور سلطنت تفویض کرنے کا اِرادہ کیا تو انہوں نے اس بارے لوگوں سے رائے لی تو انہوں نے عبدالرحمٰن بن خالد کا نام تجویز کیا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا۔ پھر عبدالرحمٰن بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے طبیب ابن اثال کو بلایا اور اسے عبدالرحمٰن کو زہر دینے کا حکم دیا۔

(کتاب الامثال: قاسم بن سلام: صفحہ 192۔ ضعیف الاسناد)

مگر یہ روایات ایسی ہیں کہ ضعیف الاسناد ہونے کے ساتھ ساتھ امر واقع کے ساتھ ان کے متن کا بھی اختلاف ہے، اور وہ اس طرح کہ جیسا کہ معروف ہے امراء کو معزول کرنے یا کسی کو منصب ولایت پر فائز کرنے کا اختیار ان کے پاس تھا۔ دریں حالات ان کے لیے عبدالرحمٰن بن خالد کو رومی سرحد پر متعین موسم گرما کے لشکر کی قیادت سے الگ کرنا کوئی امر دشوار نہیں تھا اور نہ یہ کچھ مشکل ہی تھا کہ وہ انہیں کسی قسم کی کوئی اہمیت نہ دیتے اور اس طرح وہ کسی ایسے مقام و مرتبہ کے حامل نہ رہتے جس سے کوئی خوف محسوس کیا جا سکتا۔ جبکہ یہ بھی وارد ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول کر کے ان کی جگہ سفیان بن عوف غامدی (تہذیب تاریخ دمشق: جلد 6 صفحہ 185)

کو موسم گرما کے ایک فوجی لشکر پر متعین کر دیا تھا۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 104۔ مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 92)

بلکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو عبدالرحمٰن بن خالد سے بڑے اور طاقت ور امراء کو بھی ان کے منصب امارت سے معزول کر دیا کرتے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ انہیں کس طرح قتل کروا سکتے تھے جبکہ طبری 84 ہجری کے بحری غزوہ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اہل مصر کا قائد عقبہ بن عامر جہنی اور اہل مدینہ کا قائد منذر بن زہیر تھا اور ان سب کی قیادت خالد بن عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کے ہاتھ میں تھی۔(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 147)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات پر کیسے راضی ہو گئے کہ بیٹا اپنے باپ کے بعد بہت بڑا قائد بن جائے، پھر اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے باپ کے قاتل تھے تو پھر وہ ان کے لشکر کی قیادت پر کس طرح راضی ہو گئے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ان کا بیٹا اس بات سے آگاہ نہ ہو جبکہ وہ ان کے بہت زیادہ قریب بھی ہو؟

(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 93)

یہ سب کچھ کھلی کذب بیانی ہے اور جس میں اس امر کی کوشش کی گئی ہے کہ بیعت یزید اور عبدالرحمٰن بن خالد کی موت میں کوئی تعلق پیدا کیا جائے۔ یہ جھوٹ اس جھوٹ جیسا ہی ہے جس میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور یزید کی بیعت کے درمیان تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کی زہر کے ساتھ موت کی خبر کو قاسم بن سلام اور ابن حبیب بغدادی (المنمق فی اخبار قریش: صفحہ 360)

نے وارد کیا ہے اور جس میں بتایا گیا ہے کہ اس کا سبب عبدالرحمٰن کی طرف سے ولایت عہد میں یزید کا مقابلہ کرنے کا خوف تھا۔

( یہ تعلیل فاسد ہے اس لیے کہ ولی عہد کے لیے یزید کی نامزدگی 56 ہجری میں منظر عام پر آئی، یعنی حسن بن علی، سعد بن ابو وقاص اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم کی وفات کے بعد یہ خبر بلاذری، (انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 109)

ابو الفرج اصفہانی (الاغانی: جلد 16، صفحہ 197) 

اور ابو ہلال عسکری (جمہرۃ الامثال: جلد 2 صفحہ 385)

نے بھی وارد کی ہے، مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کو زہر دینے کی خبر صحیح سند کے ساتھ وارد نہیں ہوئی بلکہ وہ اس محترم صحابی پر جھوٹی تہمت ہے۔ 

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 384)

اس بارے ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن جریرؒ وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ ایک آدمی جس کو ابن اثال کہا جاتا تھا اور جو حمص کے علاقوں میں ذمیوں کا رئیس تھا اس نے انہیں زہر آلود مشروب پلایا جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے یہ کام سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے کیا مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ 

 البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 174)