ولایت عہد کے لیے یزید کی نامزدگی کے اسباب - دفاعِ اہلِ سنت…

ولایت عہد کے لیے یزید کی نامزدگی کے اسباب

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

1۔ وحدت امت کی حفاظت

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد کے طور پر نامزد کرتے وقت یہ سوچ اپنائی کہ اسے اہل شام کی بھرپور تائید حاصل ہو گی جو کہ اموی حکومت کے استحکام کا انتہائی طاقتور عامل تھے۔ انہوں نے اپنے آخری سفر حج کے دوران کبار ابنائے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تائید حاصل کرنے کی کوششوں کے وقت بتایا تھا کہ یزید کے لیے جلدی بیعت لینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اختلاف امت سے خائف ہیں۔

(دراسات فی النظم: ڈاکٹر توفیق الیوزکی: صفحہ 41)

جس کا ان کی موت کے بعد اسے سامنا ہو سکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایسی نئی جنگ میں پھنس کر رہ جائے جس کی وسعت کا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو علم نہ ہو۔

(مواقف المعارضۃ: صفحہ 132)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی بھیڑ کی طرح چھوڑنے سے ڈرتے تھے جس کا کوئی چرواہا نہ ہو۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 222)

 لہٰذا انہوں نے کسی ایسے شخص کے انتخاب کے لیے کام کرنا شروع کر دیا جو ان کے بعد منصب خلافت سنبھال سکے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے اولیٰ یہ تھا کہ وہ اسلامی معاشرہ کے معززین پر مشتمل ایک مجلس شوریٰ تشکیل دیتے اور ارکان شوریٰ منصب خلافت کے اہل کسی شخص کا انتخاب کرتے اور وہ خود اپنے بیٹے کی نامزدگی سے دُور رہتے، اس لیے کہ یزید کا انتخاب امت اسلامیہ کو قتل و قتال اور خون ریزی سے بچانے کی ضمانت نہیں دے سکتا تھا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد وہ سب کچھ ہو کر رہا جس کا خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جو کچھ بھی ہوا وہ یزید کی ذات کی وجہ سے ہوا، اور خلیفہ کے انتخاب میں شوریٰ کی جگہ نظام وراثت کو اپنانے کی وجہ سے ہوا۔ علیٰ کل حال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کیا مگر وہ اس اجتہاد میں مصیب نہیں تھے۔ وہ اپنی صلاحیت اور بلند تر سیاسی برتری کے باعث اپنی زندگی میں اپنے بعد خلافت کے معاملہ میں قریش سے کسی ایسے شخص کو منتخب کر کے امت اسلامیہ کو متحد رکھ سکتے تھے جس کی حسن سیرت و کردار کی لوگ ان کے بیٹے یزید سے زیادہ گواہی دیتے اور شام، عراق اور بلاد حجاز وغیرہ میں موجود اسلامی معاشرہ کے سرکردہ لوگ اس پر اتفاق کر لیتے۔

2۔ قبائلی تعصب کی قوت:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اہل شام کی نصرت و معاونت سے ہی منصب خلافت پر فائز ہوئے تھے۔ یہ لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بڑے اطاعت گزار اور بنو امیہ کے ساتھ محبت کرنے والے تھے۔ اس اطاعت گزاری اور محبت کی ایک دلیل یہ ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یزید کی خلافت کی تجویز پیش کی تو انہوں نے بالاتفاق موافقت کی اور ان میں سے کسی ایک شخص نے بھی اختلاف نہ کیا اور انہوں نے ولی عہد کے طور پر یزید سے بیعت کر لی۔

(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزی: صفحہ 131)

بلاد شام میں بنو امیہ کے لیے عصبیت کی قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مروان بن حکمؓ اہل شام کی مدد سے ہی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے عمال پر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ بعد ازاں اس کا بیٹا عبدالملک بن مروانؒ بھی اہل شام ہی کی مدد سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو گرفت میں لانے اور بالآخر 73 ہجری میں انہیں قتل کرنے میں کامیاب ہوا، اہل شام نے نہ صرف یہ کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی اطاعت قبول نہ کی بلکہ اہل عراق نے ان کے بھائی مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ غداری کی اور عبدالملک بن مروان کے ساتھ جا ملے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ امت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر مجتمع نہ ہو سکی، حالانکہ اس وقت کوئی ایک شخص بھی ان جیسے فضائل و مناقب اور مقام و مرتبہ کا حامل نہیں تھا؟ بلکہ صورت حال اس کے بالکل برعکس رہی، عبدالملک بن مروان جو کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے بیٹوں کا ہم عمر تھا مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے میں کامیاب ہو گیا۔

(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 132)

الغرض اہل شام کی عصبیت ہی یزید کی ولی عہدی کا اہم سبب تھی نہ کہ بنو امیہ کی عصبیت۔ اس لیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منصب خلافت پر فائز کرنے میں اموی خاندان کا کوئی خاص کردار نہیں تھا، ابن خلدونؒ نے یزید کو ولی عہد بنانے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے کردار کے دفاع کی بنیاد اس بات پر رکھی ہے کہ مصلحت اسی کی متقاضی تھی۔ ابن خلدونؒ رقمطراز ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جس چیز نے دوسروں سے ہٹ کر اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد کے طور پر نامزد کرنے کی دعوت دی وہ انسانی معاشرہ میں مصلحت کو ملحوظ رکھنا تھا، اس لیے کہ اس وقت بنو امیہ اپنے علاوہ کسی کو اس منصب کے لیے پسند نہیں کرتے تھے۔ بنو امیہ قریش کا ہی ایک گروہ تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دوسروں کو چھوڑ کر جن کے بارے سمجھا جاتا تھا کہ وہ یزید سے کہیں بہتر ہیں اسے پسند کیا اور یوں فاضل سے مفضول کی طرف انحراف کے مرتکب ہوئے اور یہ سب کچھ امت میں اتفاق و یکجہتی کو قائم رکھنے کی غرض سے کیا گیا جس کی شارع علیہ السلام کے نزدیک بڑی اہمیت ہے۔ اگرچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا گمان نہیں کیا جا سکتا، ان کی عدالت اور شرف صحابیت علاوہ ازیں کے لیے مانع ہے۔ اس مقصد کے لیے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کا حاضر ہونا اور اس سے سکوت اختیار کرنا اس بارے رفع شک کی دلیل ہے۔ نہ تو وہ لوگ ہی قبول حق میں نرمی کا مظاہرہ کر سکتے تھے اور نہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کی عزت قبول حق سے روک سکتی تھی۔ یہ لوگ ان باتوں سے بالاتر تھے۔

(مقدمہ ابن خلدونؒ: جلد 1 صفحہ 262، 263)

مزید فرماتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے تشتتو افتراق کے ڈر سے یزید کو ولی عہد مقرر کیا، اس لیے کہ بنو امیہ اپنے علاوہ کسی اور کو حکومت تفویض کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔

(مقدمہ ابن خلدونؒ: جلد 1 صفحہ 257، 258)

صفحہ 1 از 3