ولایت عہد کے لیے یزید کی نامزدگی کے اسباب - دفاعِ اہلِ سنت…

ولایت عہد کے لیے یزید کی نامزدگی کے اسباب

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

یعنی بنو امیہ کی قوت عصبیت، حکومتی غلبہ اور دوسروں کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے نفرت نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بنو امیہ میں سے ہی کسی شخص کو خلافت کے لیے نامزد کرنے پر مجبور کر دیا، اور وہ ان کا بیٹا قرار پایا، انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں امت گروہ بندی اور اختلاف کا شکار ہو جائے گی۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 462)

یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کے علاوہ قریش سے کسی اور باصلاحیت شخص کا نام تجویز کرتے اور اس کے لیے اصحاب الرائے لوگوں سے مشاورت کرتے اور پھر اس کی کھل کر حمایت کرتے اور اپنا سارا وزن اس کے پلڑے میں ڈال دیتے اور پھر اہل حل و عقد سے ولی عہد کے طور پر اس کی بیعت کا مطالبہ کرتے تو کیا کوئی شخص ان پر اعتراض کر سکتا تھا؟ یقیناً نہیں اور یہ اس لیے کہ امیر المؤمنینؓ اس کے خود داعی ہوتے اور ولی عہد کے لیے جس شخص کا نام پیش کیا جاتا وہ ایسا شخص ہوتا جس کی نامزدگی اور بیعت میں امت اسلامیہ اور حکومت کی مصلحت ہوتی اور یہ معاملہ ہر قسم کے شکوک و شبہات اور جذبات سے مبرا ہوتا تو کیا آپ بھی میری طرح یہ نہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنا ممکن بھی تھا اور اس سے ولایت عہد کا مقصد بھی پورا ہو جاتا اور وہ مقصد تھا: مسلمانوں میں اختلاف کے دروازے بند کرنا اور امت اسلامیہ کو نئے سرے سے لاحق ہونے والے تنازعات اور فتنوں کے خطرات سے محفوظ رکھنا۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ  126)

3۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اپنے بیٹے سے محبت:

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے صلح کرنے کے بعد ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے بعد منصب خلافت پر فائز ہوں گے، پھر جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یزید کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی اور انہوں نے اسے خلافت کے اہل خیال کیا اور یہ باپ کی اپنے بیٹے کے ساتھ شدید محبت کی وجہ سے تھا، نیز اس لیے بھی کہ وہ اس میں دنیوی نجابت و خوبی دیکھ رہے تھے اور خاص طور پر بادشاہوں کی اولاد کی طرح جو جنگوں سے آشنا ملکی ترتیب و تنسیق کے شناسا اور اس کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی صلاحیت سے متصف ہوتے ہیں، ان کے خیال میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بیٹوں میں سے کوئی ایک بھی اس معنیٰ میں اس کے ہم پلہ نہیں تھا۔

(البدایۃ و النہایۃ نقلا عن مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 459، 460)

عمرو بن حزم انصاریؓ بیعت یزید کے خلاف تھے، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اللہ یاد دلایا اور ان سے انجام کار کو پیش نظر رکھنے کا مطالبہ کیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: آپ خیر خواہ انسان ہیں، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے اس امر کی وضاحت کی کہ میدان عمل میں اب میرا بیٹا ہے یا پھر ان کے بیٹے ہیں اور میرا بیٹا ان کے بیٹوں سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔

(مجمع الزوائد: جلد 7 صفحہ 248، 249۔ اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔ (الاصابۃ: جلد 4 صفحہ 621) اس کے راوی ثقہ ہیں)

یزید بعض ایسی صفات سے متصف تھا جنہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اسے ولی عہد نامزد کرنے پر دلیر کیا۔ امام ذہبیؒ یزید کے حالات زندگی قلم بند کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یزید طاقتور اور بہادر تھا، صاحب رائے اور پختہ کار تھا، بڑا دانا و بینا اور فصیح المقال تھا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 37)

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یزید قابل تعریف عادات و خصال کا حامل بھی تھا، مثلاً جُود و کرم، حلم و حوصلہ، فصاحت و بلاغت، شعر و شاعری، شجاعت اور حکومت کے بارے میں حسن رائے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 646)

شاید انہی صفات کی وجہ سے ہی معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا ہو کہ یزید خلافت سنبھالنے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہے۔

( احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 204)

اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بیٹے یزید سے افضل اور اس سے زیادہ باصلاحیت تھے، مگر اس کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہو سکتا ہے کہ اپنے بیٹے میں ایسی صلاحیت اور طاقت دیکھی ہو جو امت کی قیادت کے لیے ضروری تھی اور وہ اس سے عاری تھے، اس لیے کہ اس نے اپنے باپ کے ساتھ زندگی گزاری اور اہل شام ہمیشہ اس کی نصرت و معاونت کرتے رہے اور اس سے دوستی نبھاتے رہے، علاوہ ازیں وہ اپنے دَور کے سیاسی نشیب و فراز کا بھی بڑے قریب سے مشاہدہ کرتا رہا تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید سے عدل و انصاف کے حریص اور خلفائے راشدینؓ کی اقتدا کی امید رکھتے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب اس سے امت کے بارے میں اس کیفیت کے بارے میں سوال کرتے جسے وہ اپنانے کا اِرادہ رکھتا ہے، تو وہ جواب دیتا: ابا جان! اللہ کی قسم! میں ان میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسا کردار ادا کروں گا۔

(الاشراف لابن ابی الدنیا: صفحہ 127۔ اس کی سند ضعیف ہے۔)

جب دو ایسے آدمی آپ کے سامنے ہوں جن میں سے ایک زیادہ امانت دار اور دوسرا زیادہ طاقت ور ہو تو اس شخص کو مقدم رکھا جائے گا جو اُن میں سے اس ولایت کے لیے زیادہ نفع بخش اور کم ضرر رساں ہو گا، حربی امارت کے لیے طاقت ور اور بہادر آدمی کو کمزور آدمی پر مقدم رکھا جائے گا اگرچہ وہ فسق و فجور کا مرتکب ہوتا ہو اور دوسرا امین و پارسا ہو۔

(السیاسۃ الشرعیۃ لابن تیمیۃ رحمہ اللہ: صفحہ 22) 

صفحہ 2 از 3