ولایت عہد کے لیے یزید کی نامزدگی کے اسباب - دفاعِ اہلِ سنت…

ولایت عہد کے لیے یزید کی نامزدگی کے اسباب

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

ہر عہد کے لیے اس کے حساب سے زیادہ باصلاحیت شخص کا ہی انتخاب ہونا چاہیے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے دو ایسے آدمیوں کے بارے میں دریافت کیا گیا جو جنگ میں امارت کے منصب پر فائز ہوں اور ان میں سے ایک طاقتور اور فاجر ہو جبکہ دوسرا نیک اور کمزور ہو۔ ان میں سے کس کے ساتھ مل کر جنگ کی جائے؟ انہوں نے فرمایا: جہاں تک فاجر اور طاقت ور آدمی کا تعلق ہے تو اس کی طاقت و قوت مسلمانوں کے لیے مفید ہے جبکہ اس کا فسق و فجور اس کی ذات کے لیے ضرر رساں ہے، رہا کمزور اور نیک آدمی تو اس کی نیکی اس کے لیے مفید ہے جبکہ اس کی کمزوری مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہے، لہٰذا طاقت ور اور فاجر امیر کے ساتھ مل کر جنگ کی جائے گی۔

(ایضاً: صفحہ 22)

حکمرانوں کی تقرری کا بڑا مقصد مسلمانوں کی حفاظت کرنا اور انہیں ان کے دشمن سے بچانا، ظالم کا ہاتھ روکنا اور مظلوم کو انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے۔ حکمران کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ راستوں کو پُرامن رکھے اور شریعت کے مطابق بیت المال سے ان کی خدمت کرے۔ جو شخص عوام الناس کے حوالے سے یہ فرائض سرانجام دینے پر قدرت رکھتا ہو وہ منصب امامت و ولایت کا استحقاق رکھتا ہے اگرچہ دوسرے اس سے زیادہ عبادت گزار ہوں، اس سے زیادہ علم رکھتے ہوں اور ورع و تقویٰ میں اس سے بہت آگے ہوں۔ اس لیے کہ اگر وہ امامت و خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہوں گے تو ان کے علم و زہد اور عبادت و ریاضت سے امت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

(العبرۃ مما جاء فی الغزو و الشہادۃ: صفحہ 35، صدیق حسن خاں)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فاضل کی موجودگی میں مفضول کو منصب ولایت پر فائز کرنے کو جائز خیال کرتے تھے۔ یہ ہیں وہ اہم اسباب جن کی بنا پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ولایت عہد کے لیے اپنے بیٹے یزید کو نامزد کرنا پسند کیا۔


صفحہ 3 از 3