یزید کی بیعت کے حوالہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر کی جانے والی تنقید
علی محمد الصلابیگزشتہ اور معاصر مؤرخین میں سے اکثر لوگوں نے یزید کی بیعت کی ذمہ داری سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر عائد کی ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ انہیں ان تمام غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جن کے ان کے زمانے سے لے کر آج تک کے حکام مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ ان میں سے بعض مؤرخین تو انہیں اسلام میں شوریٰ کے نظام سے خروج کرنے سے متہم کرتے ہیں اور وہ پہلا شخص قرار دیتے ہیں جس نے اسلام کے نظام حکومت کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا۔
(اسلام بلا مذہب: صفحہ 58، مصطفٰی الشکعۃ)
جبکہ ان میں سے بعض ان پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ انہوں نے ایسے نظام کو رواج دیا جو اولاً سیاست پر اعتماد کرتا ہے اور اس میں دین کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔
(نساء لہم فی التاریخ الاسلامی نصیب: علی ابراہیم حسن: صفحہ 58)
بعض مؤرخین انہیں قدیم فارسی اور رومی بادشاہوں سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔
(عائشۃ و السیاسۃ: صفحہ 278۔ مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 141)
جبکہ بعض دوسرے انہیں سیاست میں اس مکتبہ فکر کا پیرو قرار دیتے ہیں جو مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن ذریعہ اختیار کرنے کے جواز کے نظریہ پر قائم ہے۔
(ملامح امتیازات السیاسیۃ: ابراہیم بیضون: صفحہ 147)
بعض ان پر یہ حکم لگاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے سابقہ کبیرہ گناہوں میں ایک اور کبیرہ گناہ کا اضافہ کر لیا۔
(الاعمال العربیۃ الکاملۃ، امین الریحانی: جلد 6 صفحہ 36)
جبکہ کچھ مؤرخین تو انہیں اس بیعت کی وجہ سے مسلمانوں کے اجماع سے خروج کا مرتکب ٹھہراتے ہیں۔
(زعماء الاسلام: حسن ابراہیم حسن: صفحہ 219)
ان الزامات و اتہامات کی صحت یا عدم صحت سے آگاہ ہونے کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم پہلے شوریٰ کی ماہیت اور اس کے نفاذ کی کیفیت سے آگاہ ہوں۔ اسلام میں شوریٰ حکومتی نظام کا ایک اہم ستون اور ٹھوس بنیاد ہے، اسلام میں حاکم کا اختیار اور کسی کا امت مسلمہ کے امور اپنے ہاتھ میں لے لینا اسے نہ تو مقدس گائے بناتا ہے اور نہ ہی اسے آزادانہ اختیارات تفویض کرتا ہے
(مواقف المعارضۃ: صفحہ 142۔ النظریۃ الاسلامیۃ: صعیدی: صفحہ 468)
بلکہ وہ اپنے ہر فعل کے لیے جواب دَہ ہوتا ہے۔ شوریٰ کے لیے کوئی خاص نظام وضع نہیں کیا گیا۔ اس اعتبار سے اس کی تطبیق احوال و ظروف اور موجود تقاضوں کے تابع ہو گی۔
(مواقف المعارضۃ: صفحہ 143)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جن امور میں وحی کا نزول نہ ہوا ہوتا ان میں مسلمانوں کے ساتھ مشاورت کرتے اور جن دنیوی امور کو وہ آپﷺ سے زیادہ جانتے ہوتے ان میں ان کی رائے پر عمل پیرا ہوتے۔
مسلمانوں کے ساتھ مشاورت کرنے کے حوالے سے خلفائے راشدینؓ بھی آپﷺ کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ خلفائے راشدینؓ کی امامت کے انعقاد کی کیفیت اختصار کے ساتھ پیش خدمت ہے: