Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بیعت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طریقہ انعقاد

  علی محمد الصلابی

اہل حل و عقد نے سقیفہ بنو ساعدہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بیعت خاصہ کی پھر دوسرے دن انہوں نے انہیں لوگوں کے سامنے نامزد کیا اور امت اسلامیہ نے مسجد نبوی میں ان سے بیعت عامہ کی۔

(الخلافۃ و الخلفاء الراشدون: صفحہ 66، 76)

سقیفہ بنو ساعدہ میں جو گفتگو ہوئی اس سے چند اصول کھل کر سامنے آئے، جن میں سے اہم تر یہ ہیں:

امت کی قیادت صرف منتخب شدہ ہو گی، بیعت اختیار و انتخاب اور قیادت کے قانونی ہونے کا اصل اصول ہے۔ یعنی خلافت کے منصب پر وہی شخص فائز ہو سکتا ہے جو دینی اعتبار سے مضبوط اور انتظامی اعتبار سے زیادہ باصلاحیت ہو۔ خلیفہ کا انتخاب اسلامی، ذاتی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہو گا۔ یعنی خلافت نسبی یا قبائلی وراثت کے اصول کے ضمن میں نہیں آتی۔ سقیفہ بنو ساعدہ میں ہونے والے مذاکرات مسلمانوں میں ذاتی امن کے اصول پر کامیاب ہوئے، ایسا اصول امن جس میں نہ تو کوئی فتنہ و فساد ہو اور نہ عہد شکنی، نہ کوئی سازش ہو اور نہ ہی نقض اتفاق۔

(دراسات فی عہد النبوۃ از شجاع: صفحہ 256)

ا: سقیفہ بنو ساعدہ کے اجتماع نے یہ قرار داد پاس کی کہ نظام حکومت یا دستور حکومت اس شوریٰ کے اصول کی تطبیق کرتے ہوئے آزاد شوریٰ کا تقرر کرتا ہے جو نص قرآن حکیم سے ثابت ہے، لہٰذا یہ اصول اجماعی ہے اور اس اجماع کی دلیل شوریٰ کو فرض قرار دینے والی قرآنی نصوص ہیں، یہ پہلا دستوری اصول ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد قرار پایا، یہ اجماع کتاب و سنت کی ان نصوص کی تائید و تطبیق تھی جو شوریٰ کو واجب قرار دیتی ہیں۔

ب: سقیفہ کے دن یہ بھی قرار پایا کہ اسلامی حکومت کے رئیس کا انتخاب اور اس کے اختیارات کی تحدید کا شوریٰ کے ذریے اتمام ضروری ہے۔ یہ دوسرا دستوری اصول تھا جسے اجماع نے قرار دیا اور یہ کبھی مذکورہ الصدر کی طرح اجماعی قرار داد تھی۔

ج: گزشتہ دونوں اصولوں کی تطبیق کرتے ہوئے سقیفہ کے اجتماع نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دولت اسلامیہ کے پہلے خلیفہ کے طور پر منتخب کیا۔

(فقہ الشوری و الاستشارۃ: ڈاکٹر توفیق الشاوی: صفحہ 140)

مگر یہ نامزدگی بیعت عامہ کے بعد ہی درست قرار پائی، یعنی جب جمہور مسلمانوں نے دوسرے دن مسجد نبوی میں اس انتخاب سے موافقت کر لی اور انہوں نے اس بیعت کے لیے ان شرائط کو قبول کر لیا

(ایضاً: صفحہ 142)

جن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے مشہور خطبہ میں فرمایا تھا: مجھے تمہارا سردار بنایا گیا ہے، حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں، اگر میں اچھے اعمال کروں تو میری مدد کرنا تم پر فرض ہے اور اگر میں کوئی غلط راہ اختیار کروں تو مجھے سیدھے راستے پر ڈال دو۔ راست گوئی امانت ہے اور دروغ گوئی خیانت، تم میں سے جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک اسے اس کا حق نہ دلوا دوں، اور تم میں جو طاقتور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق وصول نہ کر لوں۔ جو لوگ جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کر دیتے ہیں اللہ انہیں ذلیل کر دیتا ہے اور جس قوم میں فحاشی عام ہو جائے اللہ اسے آفات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جب تک میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کروں تم میری اطاعت کرو اور جب میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت فرض نہیں، اب نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اللہ تم پر رحم فرمائے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 305، 306)

اس دن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منبر پر تشریف فرما ہونے کی درخواست کی اور وہ اس کے لیے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ وہ منبر پر تشریف فرما ہو گئے اور پھر لوگوں نے ان سے بیعت عامہ کی۔

(بخاری: رقم: 7219)

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس خطبہ کا شمار مختصر ہونے کے باوجود بہترین اسلامی خطبات میں ہوتا ہے جس میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حاکم و محکوم کے مابین تعامل میں عدل و رحمت کے قواعد و ضوابط متعین فرمائے ہیں اور اس بات پر زور دے کر کہا کہ حکمرانوں کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہے۔ اس دوران سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جہاد فی سبیل اللہ پر زور دیا اس لیے کہ امت کو عزت و توقیر عطا کرنے میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے بے حیائی اور فحاشی سے اجتناب کی تلقین کی، اس لیے کہ معاشرے کو تباہی اور فساد سے بچانے کے لیے یہ چیز بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 28)