سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیعت کے انعقاد کا طریقہ -…

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیعت کے انعقاد کا طریقہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

جب خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا: تم لوگ میری بیماری کی شدت دیکھ ہی رہے ہو، میں سمجھتا ہوں کہ اس بیماری کی وجہ سے میری موت یقینی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے ایمان کو میری بیعت سے آزاد کر دیا ہے، میری گرہ کو کھول دیا اور تمہارا معاملہ تمہیں واپس کر دیا ہے۔ اب تم جسے چاہو اپنا امیر بنا لو، ویسے اگر تم میری زندگی میں ہی کسی کو اپنا امیر بنا لو تو اس طرح تم میرے بعد اختلاف کرنے سے بچ جاؤ گے۔

(تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 238۔ التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 258)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اگلے خلیفہ کے انتخاب کی کارروائی مکمل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ مثلاً:

الف: کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشاورت:

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس بارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا تو وہ کہنے لگے: خلیفہ رسول! جو آپؓ کی رائے ہو گی وہی رائے ہماری ہو گی، اس پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے فرمایا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آپؓ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر بھی؟ وہ کہنے لگے: و اللہ! وہ ان کے بارے میں تمہاری رائے سے بھی بہتر ہیں۔ پھر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے فرمایا: مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ بتائیں۔ انہوں نے جواب دیا: آپؓ ان سے زیادہ باخبر ہیں۔ ویسے ان کا باطن ان کے ظاہر سے اچھا ہے اور ہم میں سے کوئی بھی ان جیسا نہیں ہے۔ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان سے بھی ایسا ہی سوال کیا تو وہ کہنے لگے: میں تمہارے بعد انہیں سب سے بہتر خیال کرتا ہوں۔ وہ اچھے کاموں سے خوش ہوتے اور برے کاموں سے ناراض ہوتے ہیں اور ان کا اندرون ان کے بیرون سے بہتر ہے۔ منصب خلافت کو سنبھالنے والا ان سے زیادہ طاقتور اور کوئی نہیں ہے۔ اسی طرح انہوں نے سعید بن زید اور انصار و مہاجرین میں سے متعدد لوگوں سے مشاورت کی اور بجز طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان سب کی رائے تقریباً ایک جیسی ہی تھی۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ان کی سخت گیری سے خائف تھے، وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: آپ کل اللہ کو کیا جواب دیں گے جب وہ تم سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ہمارا خلیفہ بنانے کے بارے میں سوال کرے گا۔ آپ ان کی سخت مزاجی کے بارے میں تو آگاہ ہی ہیں۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: مجھے اٹھا کر بٹھا دو، کیا تم لوگ مجھے اللہ سے ڈراتے ہو؟ میں اللہ کو جواب دوں گا کہ میں نے تیری مخلوق پر تیری مخلوق کے بہترین آدمی کو خلیفہ مقرر کیا تھا۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 79۔ التاریخ الاسلامی: شاکر: صفحہ 101)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی سختی صرف اس لیے ہے کہ وہ مجھے نرم مزاج دیکھتے تھے۔ جب خلافت انہیں تفویض کی جائے گی تو وہ انہیں نرم دل اور معتدل بنا دے گی۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 79 )

پھر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں وصیت نامہ لکھنے کا حکم دیا۔

ب: وصیت نامہ کا مضمون:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  یہ وہ عہد ہے جو ابوبکر بن قحافہ نے اس وقت کیا جب ان کا دنیا میں آخری اور آخرت کا اول وقت ہے، ایسے میں تو کافر بھی ایمان لے آتا ہے، فاجر بھی یقین کر لیتا ہے اور کاذب سچ بولنے لگ جاتا ہے۔ میں نے اپنے بعد تم لوگوں پر عمر بن خطاب( رضی اللہ عنہ ) کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ تم ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو، میں نے تم لوگوں کی بھلائی اور بہتری میں قطعاً کوئی کوتاہی نہیں کی، اگر انہوں نے عدل سے کام لیا تو میرا ان کے بارے میں یہی خیال ہے اور میں ان کے بارے میں یہی علم رکھتا ہوں، اور اگر وہ کچھ اور ثابت ہوئے تو وہ اپنے کیے کے خود ذمہ دار ہوں گے، میں نے تو صرف خیر اور بھلائی کا اِرادہ کیا ہے اور غیب کا علم تو مجھے نہیں۔ 

وَسَيَـعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَىَّ مُنۡقَلَبٍ يَّـنۡقَلِبُوۡنَ ۞

(سورۃ الشعراء آیت 227)

ترجمہ: اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ 

ج: سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ وصیت خود لوگوں کو پڑھ کر سنائی:

جب یہ وصیت لکھی جا چکی تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے خود پڑھ کر لوگوں کو سنانے کا ارادہ کیا تاکہ اس بارے میں کوئی ابہام پیدا نہ ہو، چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور لوگوں کے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم اس شخص کی خلافت پر راضی ہو جس کا میں نے تمہارے لیے انتخاب کیا ہے، اللہ کی قسم! میں نے اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو تمہارا خلیفہ نہیں بنایا، اور پھر میں نے صرف اپنی ہی رائے سے اسے خلیفہ نہیں بنایا بلکہ اصحاب الرائے لوگوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اسے خلیفہ بنایا ہے، میں نے تم پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا ہے، پس تم ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔ ان سب نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔

(تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 248)

د: اللہ رب العزت سے دعا:

پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر دعا کرنے لگے، اس دوران سیدنا ابوبکر صدیقؓ سرگوشیاں کرتے رہے اور اندر کی باتیں سناتے رہے۔ آپؓ کی دعا کے الفاظ یہ تھے: یا اللہ! میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو تیرے نبی کے حکم کے بغیر والی مقرر کیا ہے جس سے میرے پیش نظر صرف مسلمانوں کی بہتری ہے، میں ان پر فتنہ سے ڈرا اور اس کے لیے بھرپور مشاورت کی اور اس کے بعد میں نے ان پر ان میں سے بہتر آدمی کو والی مقرر کیا۔ اب جبکہ تیرے حکم سے میری موت میرے سر پر کھڑی ہے تو تو ان میں میرا خلیفہ بن جا، پس وہ تیرے بندے ہیں۔

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 199۔ تاریخ المدنیۃ: جلد 2 صفحہ 665، 669)

صفحہ 1 از 2