سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیعت کے انعقاد کا طریقہ -…

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیعت کے انعقاد کا طریقہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ھ: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے سامنے وصیت پڑھنے کا مکلف ٹھہرانا:

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو پابند کیا کہ وہ یہ وصیت لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور اسے ختم کرنے کے بعد ان کی موت سے پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے ان سے بیعت لیں تاکہ اس کی مزید توثیق ہو جائے، ان کے حکم کا نفاذ ہو جائے اور اس سے کوئی منفی اثرات سامنے نہ آئیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: اس وصیت نامہ میں جس شخص کا ذکر ہے کیا تم اس سے بیعت کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ ان سب نے اس کا اقرار کیا اور اس پر راضی ہو گئے۔

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 200)

و : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو وصیت: 

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو الگ کر کے انہیں چند وصیتیں فرمائیں تاکہ جب وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوں تو خلافت کے بارے میں اپنی بھرپور کوششیں کرنے کے بعد اپنی تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے بعد حاضر ہوں۔

(ابوبکر الصدیق: علی طنطاوی: صفحہ 237)

سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے انہیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا: عمر! اللہ سے ڈرنا، یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض حقوق ہیں جو رات سے متعلق ہیں انہیں وہ دن میں قبول نہیں کرتا، اسی طرح بعض حقوق دن سے متعلق ہیں جنہیں وہ رات میں قبول نہیں کرتا۔ جب تک فرائض ادا نہ کیے جائیں اللہ تعالیٰ نوافل کو قبول نہیں فرماتا، عمر! جو لوگ دنیا میں رہ کر حق کی اتباع کریں گے قیامت کے دن ان کے ترازو بھاری ہوں گے اور جو دنیا کی زندگی میں باطل کی اتباع کرتے رہے قیامت کے دن ان کے اعمال کے ترازو ہلکے ہوں گے اور وہ ناکام و نامراد ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اہل جنت کا ذکر کیا تو اس کے ساتھ ان کے نیک اعمال کا بھی ذکر کیا اور جب اہل جہنم کا ذکر کیا تو اس کے ساتھ ان کے برے اعمال کا بھی ذکر کیا، اس طرح ترغیب و ترہیب کی آیات ساتھ ساتھ نازل ہوئیں تاکہ بندہ مومن اللہ سے ڈرتا رہے اور اس سے مغفرت طلب کرتا رہے۔ وہ نہ تو اللہ کی رحمت سے مایوس ہو اور نہ اس سے ناجائز امیدیں ہی وابستہ کرے۔ عمر! جب تم میری وصیت پر عمل کرو گے تو پھر کوئی بھی غیر موجود تجھے موت سے زیادہ قابل نفرت نہیں لگے گا مگر تم موت کو بے بس نہیں کر سکو گے۔

(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 264، 265)

ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اصحاب حل و عقد کے اتفاق اور ان کے اِرادہ سے منتخب ہوئے تھے، انہوں نے خلیفہ کے انتخاب کا معاملہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا اور اس بارے انہیں اپنا نائب مقرر کر دیا، انہوں نے مشاورت کے بعد خلیفہ کی تعیین کی پھر اسے لوگوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کی توثیق کر دی، امت اسلامیہ میں اصحاب حل و عقد امت کے نمائندگان ہوتے ہیں۔ اس بنا پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا فیصلہ شورائیت کے بہترین انداز اور انتہائی عادلانہ اسلوب میں ہوا۔

(ابوبکر الصدیق: علی طنطاوی: صفحہ 237)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لیے جو اقدامات لیے اگرچہ وہ ان کے اپنے انتخاب کی کاروائیوں سے مختلف تھے مگر وہ کسی بھی حالت میں شورائیت سے تجاوز نہیں کرتے۔

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 273)

اور یوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت کا انعقاد شوریٰ اور اتفاق کی بنیاد پر ہوا، تاریخ نے ان کی خلافت کے بارے میں کسی بھی قسم کے اختلاف کو وارد نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے ان کی خلافت کے عرصہ کے دوران اس بارے کوئی تنازع کیا۔ ان کی حکومت کے دوران ان کی خلافت و اطاعت پر امت کا اجماع رہا اور تمام مسلمان ایک وحدت کی صورت میں نظر آتے رہے۔

(النظریۃ السیاسیۃ الاسلامیۃ: ضیاء الریس: صفحہ 181)




صفحہ 2 از 2