Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بیعت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا طریقہ انعقاد

  علی محمد الصلابی

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں جبکہ وہ بستر مرگ پر اپنے جسم پر آنے والے گہرے زخموں کی تکلیف سے کراہ رہے تھے نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے ایک ایسا نیا طریقہ وضع کیا جس کی قبل ازیں کوئی مثال نہیں ملتی، قبل ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نص صریح کے ساتھ خلیفہ نہیں بنایا تھا۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مشاورت کے بعد سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر فرمایا، پھر جب سیدنا عمر فاروقؓ سے کسی کو خلیفہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تو سیدنا عمر فاروقؓ  نے کچھ دیر غور و فکر کرنے کے بعد ایک دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس حال میں چھوڑا کہ وہ سب کے سب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی افضیلت کا اقرار کرتے تھے اور اسے میں اختلاف کا احتمال بہت کم تھا خاص طور پر ایسے حالات میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے امت کو اس طرف متوجہ کیا کہ ان کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلافت سنبھالنے کے زیادہ حق دار ہیں، پھر جب ابن ابو قحافہ رضی اللہ عنہما نے خلافت کے لیے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نامزد کیا تو انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات پر مطمئن ہیں کہ وہ ان سب لوگوں سے زیادہ طاقت ور، باقدرت اور افضل و بہتر ہیں جو اُن کے بعد یہ ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں، چنانچہ انہوں نے کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک طویل مشاورت کے بعد انہیں خلیفہ نامزد کر دیا اور پھر کسی ایک شخص نے بھی ان کی اس رائے سے اختلاف نہ کیا اور اس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت پر اجماع ہو گیا۔

(اولیات الفاروق: صفحہ 122)

مگر اب نئے خلیفہ کا طریقہ انتخاب یہ قرار پایا کہ چھ بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مشتمل ایک مجلس شوریٰ قائم کر دی گئی، وہ سب کے سب ایسے تھے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سیدنا عمر فاروقؓ ان سے صدق دل سے راضی تھے، مزید برآں وہ سب کے سب منصب خلافت سنبھالنے کی صلاحیت سے بہرہ مند تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے طریقہ انتخاب، مدت انتخاب اور اس مجلس کے ممبران کی تعداد طے فرما دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو حکم دیا کہ نامزد کردہ ان چھ اشخاص کی مجلس میں جب تک وہ اپنے آپ میں سے کسی ایک شخص کو خلیفہ منتخب نہ کر لیں، اس میں کسی دوسرے شخص کو نہ جانے دیا جائے اور نہ ہی کوئی اہل حل و عقد کی اس مجلس میں ہونے والی گفتگو کو سن پائے۔

(اولیات الفاروق: صفحہ 122)

یوں امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کا ایسا نظام وضع کر دیا جو اُن سے پہلے کسی نے نہ کیا، اس میں تو شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ شوریٰ کا اصول قرآن کریم اور قولی و فعلی سنت میں مقرر کردہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس پر عمل پیرا رہے اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اصل سے ہٹ کر کوئی نئی بات ایجاد نہیں کی تھی، مگر خلیفہ کے انتخاب کے لیے طریقہ کی تعیین اور اس کے لیے چند معین افراد پر مشتمل مجلس شوریٰ کی تشکیل ایک ایسا عمل تھا جسے نہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنایا اور نہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، سب سے پہلے یہ کام کرنے والے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے اور انہوں نے جو کچھ بھی کیا بہت خوب کیا۔ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات کی مناسبت سے یہ طریقہ ہی بہترین طریقہ تھا۔

(ایضاً: صفحہ 127)

اس طرح امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے اہل شوریٰ پر مشتمل ایک اعلیٰ سیاسی ادارہ قائم کر دیا اور پھر انہیں اپنے میں سے ہی کسی ایک شخص کو خلیفہ منتخب کرنے کا اختیار بھی تفویض کر دیا۔ اس جگہ ہم اس بات کی طرف اشارہ کرنا بہت ضروری خیال کرتے ہیں کہ اہل شوریٰ میں سے کسی ایک شخص نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ سے معارضہ نہیں کیا اور نہ ہی دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اس پر کسی نے کوئی اعتراض اٹھایا۔ اس وقت جو نصوص ہمارے سامنے ہیں وہ اسی بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس حکم پر ان کی زندگی میں ہی کوئی اعتراض کیا گیا اور نہ ہی ان کی حیات مستعار کے بعد۔ تمام لوگوں نے ان کی تدبیر کو پسند کیا اور ان میں اہل اسلام کی مصلحت دیکھی۔ ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسا اعلیٰ سیاسی ادارہ قائم کیا جس کی ذمہ داری سربراہ مملکت یا خلیفہ کا انتخاب تھا۔ یہ نئی دستوری تنظیم جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تعجب انگیز ذہن رسا نے ایجاد کیا تھا وہ ان اساسی مبادیات سے متعارض نہیں ہے جن کا اسلام اقرار کرتا ہے اور خصوصاً وہ مبادیات جو شوریٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس بنا پر بعض ذہنوں میں پیدا ہونے والا یہ سوال ناقابل التفات ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حق کس نے دیا تھا؟ اور اس بارے میں ان کے پاس دلیل کیا تھی؟ ہمارے لیے یہی جاننا کافی ہے کہ مسلمانوں نے من حیث الجماعۃ اس تدبیر کی تصدیق کی اور اسے پسند کیا اور کسی نے بھی ان پر کوئی اعتراض نہ کیا، لہٰذا ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس کی درستی اور نفاذ پر امت کا اجماع ہو چکا تھا۔

(نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ الاسلامی: جلد 1 صفحہ 227، 228)

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے اور اہل شوریٰ وہ اعلیٰ ترین سیاسی ادارہ ہے جسے عہد راشدہ میں نظام حکومت نے برقرار رکھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تشکیل کردہ یہ شورائی ادارہ ایسی خوبیوں سے متصف تھا جن سے مسلمانوں کی جماعت میں کوئی دوسرا ادارہ متصف نہیں تھا۔

یہ خوبیاں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تھیں اور جن کے مبلغ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اہل ایمان کے نزدیک مسلمانوں میں سے کوئی شخص بھی عشرہ مبشرہ کے تقویٰ و طہارت اور امانت و دیانت تک نہیں پہنچ سکتا۔

(الخلفاء الراشدون: خالدی: صفحہ 98)

یہ بات بڑی اہم اور قابل ذکر ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بڑی شدت کے ساتھ اس امر کے حریص تھے کہ امارت و خلافت کو ان کے قرابت داروں سے دُور رکھا جائے، حالانکہ ان میں اس کے اہل لوگ بھی موجود تھے، چنانچہ سیدنا عمر فاروقؓ نے سعید بن زیدؓ کو خلافت کے لیے نامزد لوگوں کی فہرست سے خارج کر دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 325)

انہوں نے صرف عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اہل شوریٰ کے پاس جانے کی اجازت دی تھی مگر اس شرط پر کہ انہیں خلیفہ منتخب نہیں کیا جائے گا۔

(بخاری: رقم الحدیث: 7207)

انتخابی عمل کی نگرانی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، وہ مدینہ منورہ میں کبار صحابہؓ اور اشراف صحابہؓ میں سے جس کو بھی ملتے اس سے اس بارے مشاورت کرتے، اسی طرح لشکروں کے امراء اور مدینہ منورہ آنے والے لوگوں اور عورتوں تک سے مشورہ کرتے۔ سیدنا عمرؓ نے مشاورت کے اس عمل میں بچوں اور غلاموں کو بھی شامل کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ تر مسلمانوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ ان میں سے کچھ نے سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا۔ مشاورت کا عمل مکمل کرنے کے بعد 23 ہجری ذوالحجہ کے آخری دن صبح کی نماز کے بعد حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس نتیجہ کا اعلان کیا جس پر وہ پہنچے تھے۔ انہوں نے حمد و ثناء کے بعد فرمایا: اما بعد: علی رضی اللہ عنہ! میں نے لوگوں کا جائزہ لیا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے انحراف کریں گے۔ آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں، پھر انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا اور اللہ تعالیٰ، اس کے رسول کے احکام اور شیخین کی سنت اپنانے پر ان سے بیعت کر لی ان کے بعد دوسرے لوگوں نے بھی ان سے بیعت کر لی۔ جن میں انصار، مہاجرین، لشکروں کے امراء اور عام مسلمان سبھی شامل تھے۔

(التمہید و البیان: صفحہ 26)

ایک روایت میں آتا ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 86)

امام ذہبیؒ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو ان کا افضل ترین عمل قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بہترین اعمال میں ان کے اس عمل کا بھی شمار ہوتا ہے کہ انہوں نے مشاورت کے وقت اپنے آپ کو خلافت کے معاملہ سے الگ کر لیا، اگر آپؓ کو اس میں کوئی دلچسپی ہوتی تو اسے اپنی ذات کے لیے حاصل کر لیتے، یا اس کے لیے اپنے عم زاد بھائی سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ کو منتخب کروا لیتے۔

(دراسۃ فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ  278)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے شوریٰ کی ایک اور صورت سامنے آتی ہے اور وہ ہے: مجلس شوریٰ کے ذریعے خلیفہ کو نامزد کرنا، تاکہ وہ مشورہ عامہ کے بعد اپنے میں سے کسی ایک کی تعیین کریں اور اس کے بعد اس کے لیے بیعت عامہ لی جائے۔

(الطبقات لابن سعد: جلد 3 صفحہ 31)