بیعت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا طریقہ انعقاد - دفاعِ اہلِ…

بیعت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا طریقہ انعقاد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

یہ بات بڑی اہم اور قابل ذکر ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بڑی شدت کے ساتھ اس امر کے حریص تھے کہ امارت و خلافت کو ان کے قرابت داروں سے دُور رکھا جائے، حالانکہ ان میں اس کے اہل لوگ بھی موجود تھے، چنانچہ سیدنا عمر فاروقؓ نے سعید بن زیدؓ کو خلافت کے لیے نامزد لوگوں کی فہرست سے خارج کر دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 325)

انہوں نے صرف عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اہل شوریٰ کے پاس جانے کی اجازت دی تھی مگر اس شرط پر کہ انہیں خلیفہ منتخب نہیں کیا جائے گا۔

(بخاری: رقم الحدیث: 7207)

انتخابی عمل کی نگرانی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، وہ مدینہ منورہ میں کبار صحابہؓ اور اشراف صحابہؓ میں سے جس کو بھی ملتے اس سے اس بارے مشاورت کرتے، اسی طرح لشکروں کے امراء اور مدینہ منورہ آنے والے لوگوں اور عورتوں تک سے مشورہ کرتے۔ سیدنا عمرؓ نے مشاورت کے اس عمل میں بچوں اور غلاموں کو بھی شامل کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ تر مسلمانوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ ان میں سے کچھ نے سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا۔ مشاورت کا عمل مکمل کرنے کے بعد 23 ہجری ذوالحجہ کے آخری دن صبح کی نماز کے بعد حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس نتیجہ کا اعلان کیا جس پر وہ پہنچے تھے۔ انہوں نے حمد و ثناء کے بعد فرمایا: اما بعد: علی رضی اللہ عنہ! میں نے لوگوں کا جائزہ لیا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے انحراف کریں گے۔ آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں، پھر انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا اور اللہ تعالیٰ، اس کے رسول کے احکام اور شیخین کی سنت اپنانے پر ان سے بیعت کر لی ان کے بعد دوسرے لوگوں نے بھی ان سے بیعت کر لی۔ جن میں انصار، مہاجرین، لشکروں کے امراء اور عام مسلمان سبھی شامل تھے۔

(التمہید و البیان: صفحہ 26)

ایک روایت میں آتا ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 86)

امام ذہبیؒ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو ان کا افضل ترین عمل قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بہترین اعمال میں ان کے اس عمل کا بھی شمار ہوتا ہے کہ انہوں نے مشاورت کے وقت اپنے آپ کو خلافت کے معاملہ سے الگ کر لیا، اگر آپؓ کو اس میں کوئی دلچسپی ہوتی تو اسے اپنی ذات کے لیے حاصل کر لیتے، یا اس کے لیے اپنے عم زاد بھائی سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ کو منتخب کروا لیتے۔

(دراسۃ فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ  278)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے شوریٰ کی ایک اور صورت سامنے آتی ہے اور وہ ہے: مجلس شوریٰ کے ذریعے خلیفہ کو نامزد کرنا، تاکہ وہ مشورہ عامہ کے بعد اپنے میں سے کسی ایک کی تعیین کریں اور اس کے بعد اس کے لیے بیعت عامہ لی جائے۔

(الطبقات لابن سعد: جلد 3 صفحہ 31)


صفحہ 2 از 2