Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسماعیلی فرقوں کی موجودہ کیفیات

  سید تنظیم حسین

اسماعیلی مذہب دعوت کو تقریباً بارہ سو سال گزر چکے ہیں اس طویل مدت میں ان کے یہاں کئی مذہبی اور سیاسی دور ہوئے جس کی وجہ سے اسماعیلیوں میں مختلف فرقے پیدا ہوئے جن کا ذکر ہم گزشتہ صفحات میں کر چکے ہیں تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی طور پر ائمہ کی شخصیتوں اور حیثیتوں سے متعلق اختلاف ہوا جو آگے چل کر عقائد پر اثر انداز ہوا اور علحیدہ فرقے وجود میں آ گئے جن میں مرکز سے لاتعلقی کے بعد نئی نئی باتیں پیدا ہوتی چلی گئیں جنہوں نے رفتہ رفتہ عقائد کی شکل اختیار کر لی اگرچہ اسماعیلیہ کے ابتدائی دور کے عقائد کے بیان کے بعد اسماعیلیوں کی فرقوں کی موجودہ کیفیت کی اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں: 

خشست اول چوں نہد معمار کج

تاثر یامی رود دیوار کج

(اگر معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھتا ہے خربا آسمان تک دیوار ٹیڑھی رہ جاتی ہے)

یعنی تفصیلات کے جانے بغیر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ دیوار کی کجی میں اضافہ ہی ہوگا لیکن ناظرین کو ضروری معلومات فراہم کرنے کی غرض سے ہم اس باب میں اسماعیلیہ کے قابل ذکر فرقوں کے عقائد نے جو رخ اختیار کیا اس سے متعلق اہم امور بیان کریں گے۔

دروزیہ:

جیسا کہ باب سوئم میں بیان کیا گیا ہے دروزیہ الحاکم بامر اللہ (386ھ/996ء411ھ/1020ء) کے بعد ایک علیحدہ فرقہ کی شکل اختیار کی ان کے مشہور داعی حسن بن حیدرہ فرغانی حمزہ بن زوزنی اور محمد بن اسماعیل درازی ہیں مصر سے نکالے جانے کے بعد ان کو لبنان کے علاقہ میں فروغ ہوا اور یہ تاحال اسی علاقہ میں محدود ہیں۔

دروزیہ کا مذہب:

دروزیہ کے اکثر داعی ایرانی تھے لہٰذا دیگر اسماعیلی باطنی فرقوں کی طرح ان کے عقائد بھی یونانی فلسفہ اور قدیم ایرانی مذہب کی تعلیم سے ماخوذ ہیں مثلاً حلول کے متعلق ان کا عقیدہ ہے کہ کروڑوں برس کے بعد حاکم کی شکل میں ظاہر ہوا رعیت سے ناراض ہو کر غائب ہو گیا ہے قیامت کے روز پھر انسان کی شکل میں ظاہر ہوگا اور تمام دنیا پر حکومت کرے گا اس کے حکم سے ایک آگ اترے گی جو کعبہ کو جلا دے گی پھر مردے زمین سے اٹھیں گے۔

دروزیوں کی کتابیں:

داعی حمزہ بن زوزنی اور اس کے چار مددگاروں نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ کلام اللہ کے مانند مقدس مانی جاتی ہیں اور خلوتوں میں پڑھی جاتی ہیں ان کو سوائے عقال کے کوئی چھو نہیں سکتا غالباً یہ وہی کتابیں ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان میں کلامِ مجید کی نقل اتارنے کی کوششیں کی گئی ہیں لیکن یہ اس کی فصاحت و بلاغت کو نہیں پہنچیں۔

دروزیوں کے مذہبی اصول:

دروزیوں کے چار بڑے اصول یہ ہیں:

1: خدا کا علم خاص کر شکل انسانی کے مظاہر میں۔

2: پکا لکا علم جو سب سے اعلیٰ موجود ہے اس کا مطلب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں (Lazarus) لزارس ہے حضرت رسول اللہﷺ کہ زمانہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حاکم کے زمانہ میں حمزہ بن زوزنی 

3: چار روحانی موجودات کا علم یہ چار موجودات اسماعیل، محمد بن اسماعیل، حضرت سلمانؓ اور حضرت علیؓ کی شکلیں ہیں۔

4: سات اخلاقی احکام کا علم جن میں سے ایک تقیہ ہے

دروزیہ تناسخ کے بھی قائل ہیں اور مذہبی معاملات کو پوشیدہ رکھنے پر زور دیتے ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنی خلوت خانوں میں شرمناک اعمال کے مرکب ہوتے ہیں اور خفیہ طور پر گائے کے بچے کے سر کی پوجا کرتے ہیں ان کے لٹریچر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دروزی اعمال شریعت کے قائل نہیں ان کا عقیدہ ہے کہ حاکم کو خدا ماننے کے بعد تمام اعمال بےکار و فضول ہیں ان کے اصول کے مطابق ظاہری شریعت کے پابند مسلمان ہوتے ہیں اور صرف باطن کے پابند مؤمنین جب کہ ظاہر اور باطن دونوں نہ ماننے والے موحدین جن کا درجہ سب سے بڑھا ہوا ہے ہمیشہ مسلح رہنا ان کا مذہبی فریضہ ہے ان لوگوں کی آبادی میں مسجدیں نہیں ہوتی کیوں کہ یہ نماز نہیں پڑھتے مسجد کی بجائے ایک معمولی سا مکان ہوتا ہے جس میں ہر جمعرات کو مجلس ہوتی ہے کیونکہ جمعرات کو حاکم غائب ہوا تھا اس مجلس میں حمزہ زوزنی کی تصانیف پڑھی جاتی ہیں اور اس میں صرف عقال ہی شریک ہوتے ہیں۔

عقال اور جہال:

عقال کی جماعت میں شریک ہونے والے دروزیوں کو چند شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں یہ شرائط کچھ ایسی نوعیت کی ہیں جیسی کی فری میسنوں میں پائی جاتی ہیں ان میں اور بہت سی باتیں فری میسنوں سے ملتی جلتی ہیں دوسری جماعت جہال کی ہے جن پر مذہب کی پابندیاں عائد نہیں ہوتیں کہا جاتا ہے کہ جہال ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا پائے جاتے ہیں دروزیوں نے اپنے مذہب کا دروازہ بند کر رکھا ہے۔

نزاریہ: جیسا کے باب سوئم میں ذکر کیا گیا ہے اسماعیلیوں میں امام، خلیفہ المستنصر باللہ (427ھ/ 1035ھ/1095ء) کے جان نشین پر اختلاف ہوا اسماعیلیوں کے ایک گروہ نے المستنصر باللہ کے بڑے بیٹے نزار کو اس کا جانشین امام تسلیم کیا جب کہ دوسرے گروہ نے المستنصر کے دوسرے بیٹے احمد المستعلی بااللہ کو امام خلیفہ مانا نزار کے پیرو نزاریہ کہلائے اور مستعلی کے مستعولیہ نزاریوں کو متحکم کرنے والا داعی حسن بن صباح تھا جس کا تعلق ایران سے تھا حسن بن صباح جس کا ذکر ہم اگلے ابواب میں کریں گے 483ھ/1090ء میں شمالی ایران میں قلعہ الموت پر قابض ہو گیا چونکہ مصر میں حکومت المستعلی کہ حصہ میں آ چکی تھی لہٰذا نزاریوں کا مرکز الموت قرار پایا اس طرح نزاریوں کا تعلق مصر سے کٹ گیا اور انہوں نے مستعولیہ کے مقابل اسماعیلیوں کی ایک اہم شاخ کی حیثیت اختیار کر لی اسی وجہ سے نزاریوں کو مشرقی اسماعیلی بھی کہا گیا نزاریوں کی زیادہ شہرت ان کے داعیوں سے ہوئی جو خداوند ذلموت کہلائے جاتے تھے ان میں حسن بن صباح کی حیثیت نمایاں ہے جو تاریخ میں شیخ الجبال کے نام سے معروف ہے اور نزاریہ سلسلہ کا بانی مانا جاتا ہے۔