Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بیعت سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا طریقہ انعقاد

  علی محمد الصلابی

خلافت کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت بھی انتخاب کے طریقہ پر ہوئی۔ جب خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ چند ایسے سرکش اور باغی عناصر کے ہاتھوں شہید کر دئیے گئے، جو مختلف شہروں اور مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ جب ان لوگوں نے انہیں اٹھارہ ذوالحجہ 35 ہجری کو جمعہ کے دن ازراہ ظلم و عدوان  قتل کر ڈالا تو مدینہ منورہ میں موجود اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور یہ اس لیے کہ اس وقت کوئی بھی دوسرا شخص ان سے افضل نہیں تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد نہ تو کسی نے اپنے لیے خلافت کا دعویٰ کیا اور نہ ہی حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے والد محترم رضی اللہ عنہ اس کے حریص تھے اسی لیے آغاز کار میں انہوں نے خلافت کو قبول نہ کیا مگر جب شہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فتنہ و فساد میں اضافے اور اس کے مزید بڑھ جانے کے خوف سے ان سے اس منصب کو قبول کرنے کے لیے شدید اصرار کیا تو وہ اس کے لیے آمادہ ہو گئے۔ بعض اہل علم نے ان کے انتخاب کی کیفیت بھی روایت کی ہے۔

(عقیدۃ اہل السنۃ فی الصحابۃ الکرام: جلد 2 صفحہ 677)

مثلاً محمد بن الحنفیہ کا بیان ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ محاصرہ کی حالت میں تھے تو میں اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، اس دوران ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین کو اب شہید کر دیا جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے، میں بھی ان کے ساتھ چل دیا مگر ان کے بیت الخلافت آنے سے قبل ہی انہیں شہید کر دیا گیا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمانؓ کے گھر داخل ہونے کے بعد اس کا دروازہ بند کر دیا، اس دوران لوگ آئے اور دروازہ توڑ کر ان کے پاس جا پہنچے اور کہنے لگے: عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے اور لوگوں کے لیے خلیفہ ضروری ہے، مگر ہم کسی کو سیدنا علیؓ سے بڑھ کر اس کا حق دار نہیں سمجھتے۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم میرا ارادہ نہ کرو، میں تمہارے لیے بطور وزیر، امیر ہونے سے بہتر ہوں۔ وہ کہنے لگے: ہرگز نہیں، و اللہ! ہم تم سے بڑھ کر کسی کو بھی اس کا حق دار نہیں سمجھتے۔ وہ کہنے لگے: اگر تم اس پر مُصِر ہو تو پھر میری بیعت سرّی نہیں ہو گی بلکہ میں مسجد میں جاتا ہوں، سیدنا رضی اللہ عنہ مسجد تشریف لے گئے تو لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔

(کتاب السنۃ لابی بکر الخلال: صفحہ 415)