اعمال شریعت سے متعلق نزاریوں کے عقائد - ردِ رافضیت | دفاع…

اعمال شریعت سے متعلق نزاریوں کے عقائد

  سید تنظیم حسین

صفحہ 1 از 3

نزاری ائمہ میں سب سے مشہور امام حسن علی ذکرہ السلام میں ان کا زمانہ امامت 557ھ 1162ء 561ھ 1122ء ہے کہا جاتا ہے کہ 559ھ 1123ء میں انہوں نے تمام اسماعیلیوں کو جمع کیا اور قلعہ الموت سے متصل منبر پر کھڑے ہو کر ایک خطبہ تاریخِ ائمہ اسماعیلی: جلد، سوم میں صرف خطبہ دینے کا ذکر ہے خطبے کا متن نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے صاف ظاہر ہے ان کو تاریخ میں خداوند الموت کہا گیا) دیا جس سے اقتباس پیش کیا جاتا ہے۔

قائم القیامہ میرے ذریعہ سے ہے میں امام زماں ہوں اور امر و نہی صرف شریعت کے رسم و رواج ہیں اور ان کی تکلیف کو میں اہلِ دنیا سے بالکل اٹھا لیتا ہوں چونکہ یہ زمانہ قیامت کا ہے اس دن الموت کے تمام اسماعیلیوں نے بڑا جشن منایا اور یہ دن تاریخ میں عید القیام کے طور پر مشہور ہوا ہے پھر حضرت امام نے قیامت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا آج میں تم کو تمام شریعت کی تکلیفوں سے نجات دینا ہوں آج تمہارے لئے رحمت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں میں نے تم سب کو شریعت اور قیامت کے اسرار سے مطلع کیا۔ (تاریخِ فاطمینِ مصر: صفحہ، 176)

یہ اقتباس نزاری فاضل علی محمد جان محمد چنارا کی کتاب نور مبین حبل اللہ متین سے ہے چنارا صاحب اس کتاب میں مزید لکھتے ہیں:

حضرت امام حسن علی ذکرہ السلام نے ان لوگوں کو تاویلی علم سکھایا اور بتایا کہ دنیا قدیم ہے زمانہ جادوانی ہے قیامت صرف روحانی ہے بہشت و دوزخ معنوی باطنی ہیں ہر ایک شخص کی قیامت اس کی موت ہے باطن میں خلقت کو خدائے تعالیٰ کند مت میں رہنا چاہیئے اور ظاہر میں صوابی طور پر زندگی بسر کرنی چاہیئے جس کے لئے شریعت کے اعمال کی ساری پابندی اور بندشین مخلوق ہے اٹھائی جاتی ہیں۔ 

(تاریخِ فاطمییّنِ مصر: صفحہ، 177)

فان ہیمر نے بھی عید قیام اور امام حسن علی ذکرہ السلام کا تفصیلی ذکر کیا ہے جو قریب قریب وہی ہے جیسا کہ اوپر چنارا صاحب نے بیان کیا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ فان ہیمر نے عید قیام پر عام شراب نوشی کا بھی ذکر کیا ہے۔ 

(history of the assasins: صفحہ، 141)

امام حسن علی ذکرہ السلام کی نسبی حیثیت: اسماعیلیہ کے یہاں نسب سب سے اہم ہے لیکن فان ہیمر نے امام حسن کے نسب کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ اس قدر شرمناک ہے کہ ہم اس کو نقل کر کے اپنی کتاب کی سنجیدگی مجروح کرنا پسند نہیں کرتے صرف اس کے تاثرات پیش کرتے ہیں:

"The honour of the mother was sac rificed to the ambi tion of the son and because adultery offorded grounds to his pretensions the sancirity of the harem was forced to give place to the merit of ambition (3)

(ایضاً: صفحہ، 134)

ترجمہ: ماں کی ناموس کو بیٹے کی آرزو یا حوصلہ مندی پر قربان کر دیا گیا اور چونکہ خیانت عصمت سے اس کے دعوے کو استحکام ملتا تھا لہٰذا ذاتی خواہش کی تکمیل کے لئے حرم کے تقدس کو بھی پامال کر دیا گیا۔

صورتِ حال جو بھی رہی ہو یہ بات اسماعیلی کے یہاں نئی نہیں ہے خود پہلے فاطمی خلیفہ اور پہلے اسماعیلی امام ظاہر یعنی عبید اللہ المہدی کا نسب گیارہ سو سال سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جیسا کہ ہم آئندہ کسی باب میں ذکر کریں گے۔

اعمال شریعت کی طرف واپسی:

 اعمالِ شریعت چھوڑ دینے کے مضر اثرات کا ذکر ہم نے گزشتہ باب میں کیا ہے نزاریوں کے اعمالِ شریعت چھوڑ دینے کے اثرات بھی حسبِ توقع برے ہوئے اور شورش ہو گئی لہٰذا امام حسن علی ذکرہ السلام کے پوتے امام جلال الدین حسن نے 607ھ، 1210ء 618ھ،1221ء نے ظاہر شریعت کے طریقہ کو جاری کیا لیکن اس نوعیت کی کوششوں کا جو نتیجہ ہونا تھا وہ ظاہر ہے علی محمد چنارا صاحب اس صورتِ حال کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

حضرت امام چونکہ اہلِ دنیا کے مالک ہیں اس لئے زمانے کی موافقت کے لحاظ سے بندوبست ان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اکثر اماموں کے عہد میں ایسی حرکتیں ظہور میں آئی ہیں اور پھر قرار پاگئی ہیں مگر بیرونی اسباب کو دیکھ کر اکثر لوگ حضرت امام کے مخصوص مطلب کو نہ سمجھ کر من مانی باتیں کرتے رہتے ہیں۔

نزاری فاضل کی مندرجہ بالا وضاحت کی حیثیت ضرور اہم ہوتی لیکن ظاہری شریعت کی پابندی سے فراغت اور شراب نوشی تو اسماعیلیہ کے یہاں کوئی نئی بات نہیں اس سلسلہ میں ہم ایک دلچسپ تاویل پیش کرتے ہیں جو بہ یک وقت اسماعیلیہ کے یہاں اور امر و نواہی کی پابندی کی حیثیت اور تاویل کے ذریعہ ہر معاملہ اور ہر واقعہ کا جواز پیش کرنے کی بہترین مثال ہے کہا جاتا ہے کہ اولاً سیدنا جعفر صادقؒ نے اپنے بڑے بیٹے اسماعیل پر اپنی جانشینی کے لئے نص کی تھی لیکن حضرت اسماعیل خلافِ شرع عمل شراب نوشی کے مرتکب ہوئے اور ان کے والد بزرگوار نے ان پر کی ہوئی نص اپنے دوسرے بیٹے حضرت موسیٰ الکاظمؒ کے حق میں بدل دی اس کے خلاف شرع عمل کی تاویل کے متعلق ایک محقق اس طرح لکھتا ہے:

اور یہ تاویل کی کہ اسماعیل کا ایسا عمل کرنا (شراب نوشی) ان کی اعلیٰ روحانیت کا ایک ثبوت ہے کیوں کہ وہ ظاہر شریعت کے پابند نہ تھے بلکہ باطن کے قائل تھے یہ شیعوں کے اس رحجان کی ایک مثال ہے جو تاویل یعنی باطن شریعت کی طرف ہے۔

 (تاریخِ فاطمییّنِ مصر: حصہ، اول صفحہ، 41)

(D. B. Macdonald, Devil of Muslim Theology etc. (P. 2)

اس صورت حال کے بعد کسی کو کسی بھی معاملہ میں کیا کہنے کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے اقبال نے کس قدر صحیح کہا ہے:

قرآن کو بازیچہ تاویل بنا کر چاہے تو خود ایک تازہ شریعت کرے ایجاد

ایران میں نزاری اقتدار کا خاتمہ:

ایران میں نزاری اقتدار جس کی ابتداء 483ھ، 1090ء میں ہوئی تھی ایک سو ستر سال بعد 654ھ، 1256ء میں تاتاریوں کے ہاتھوں ختم ہو گیا مگر اسماعیلی مذہب ایران میں مقبول نہ ہو سکا لہٰذا اسماعیلی دعوت کے مرکز بدلتے رہے کبھی کہیں کبھی کہیں اس درمیان میں نزاری دو حصوں میں بٹ گئے قاسم شاہی اور محمد شاہی قاسم شاہی سلسلہ کے امام آغا خان اول 1258ھ، 1842ء میں ایران سے ہندوستان آئے یہ کیفیات ایران سے متعلق تھیں اب ہم آئندہ تسلسل کے لئے برصغیر میں نزاری داعیوں پیروں کا کردار بیان کریں گے جس کی نوعیت خصوصی ہے۔

برصغیر میں نزاری داعیوں، پیروں کا کردار:

صفحہ 1 از 3