اعمال شریعت سے متعلق نزاریوں کے عقائد - ردِ رافضیت | دفاع…

اعمال شریعت سے متعلق نزاریوں کے عقائد

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 3

برصغیر پاک و ہند میں اسماعیلی مذہب کے داعیوں کا ذکر نویں صدی عیسوی میں ملتا ہے یہ لوگ قاہرہ عراق اور یمن سے سندھ اور پنجاب یعنی مغربی پاکستان میں آنے شروع ہوئے اور آہستہ آہستہ سیاسی اقتدار حاصل کر لیا یہ لوگ قرامطہ کہے جاتے ہیں کہا جاتا ہے کہ محمود غزنوی کی مہموں کا مقصد قرامطہ کی بیخ کنی بھی تھا چونکہ قرامطہ قتل و غارت کے لئے بد نام ہو چکے تھے شہاب الدین غوری نے بھی ان کے خلاف یورشیں کیں اور آخر کار قرامطہ کا غلبہ ختم ہو گیا (Shorter encyclopedia of islam کے مطابق ان میں کچھ اپنے سابق مذہب پر لوٹ گئے اور کچھ اہلِ سنت و الجماعت میں شامل ہو گئے مقالہ اسماعیلیہ) اس میں اسلامی حکومت کے استحکام اور سنی خیالات کی اشاعت کو بھی دخل تھا اگرچہ تیرہویں صدی عیسوی کے بعد قرامطہ کا ذکر ہندوستانی تواریخ میں نہیں ملتا لیکن ان کے جانشین وہ لوگ ہوئے جن کو شمالی ایران کی اسماعیلی نزاری ریاست الموت سے بھیجے ہوئے داعیوں پیروں نے اسماعیلی مذہب کی طرف راغب کیا ان لوگوں کو ابتداء خواجہ کہا گیا جو بگڑ کر خوجہ یا کھوجہ ہو گیا اس طرح کشمیر پنجاب و سندھ میں نزاری خواجہ کہلائے ان نزاری داعیوں پیروں کے مختصر حالات پیش کئے جاتے ہیں۔

1: نور الدین یا نور شاہ:

برصغیر میں نزاری داعیوں کا سلسلہ نور الدین یا نور شاہ (نور الدین یا نورست گرد کا ذکر تاریخ ائمہ اسماعیلیہ میں نہیں ملتا شیخ محمد اکرم نے آبِ کوثر میں خاصی تفصیل سے ذکر کیا ہے دیکھئے صفحہ، 34، 343 شیخ محمد اکرم نے ارنلڈ کی دعوتِ اسلام اور ممبئی گزہیڑ: جلد، نہم حصہ، دوم کا حوالہ دیا تاریخِ فاطمییّنِ مصر: حصہ، دوم میں ڈاکٹر زاہد علی نے بھی نور الدین کا ذکر کیا) سے شروع ہوتا ہے انہیں "الموت" سے بارہویں صدی میں بھیجا گیا تھا ان کی دعوت کا علاقہ گجرات اور نو ساری تھا انہوں نے اپنا نام ہندوانہ رکھا اور بہت سے افراد کو جن کا تعلق نیچ ذاتوں سے تھا اسماعیلی مذہب میں شامل کیا یہ "نورست گرو" کہلائے جاتے تھے انہوں نے 634ھ، 1237ء میں سلطانہ رضیہ کی حکومت کو غیر مستحکم دیکھ کر اسماعیلی جھنڈا ہرانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے ان کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی طریقہ تبلیغ سے قطعی ہٹ کر ہندو شعار اپنانے میں پہل کی۔

2: پیر شمس شاہ شمس الدین 642ھ، 757ھ، 1241ھ، 1356ء:

سید شمس الدین کو "الموت" میں نزاری سلسلہ کے امام قاسم شاہ 710ھ، 771ھ، 1310ء، 1370ء نے پیر کا لقب دے کر ایران سے باہر تبلیغ کرنے کی ہدایت کی اس وجہ سے یہ پیر شمس کہلائے انہوں نے کشمیر و پنجاب کے علاقہ میں اسماعیلی مذہب کی دعوت دی ان کی پیدائش سبزوار میں ہوئی تھی اسلئے شمس (پنجاب کی ایک جماعت جو بظاہر ہندوؤں میں شامل ہے اور خوجوں کے موجودہ امام آغا خان کو اپنا دیوتا تسلیم کرتی ہے اپنے آپ کو شاہ شمس کے نام پر شمسی کہتی ہے آبِ کوثر: صفحہ، 344) سبزواری کہلاتے ہیں ان کا مزار ملتان میں ہے پیر شمس نے بہت سے "گنان" لکھے گنان کیا ہے؟ گنان کا ذکر آئندہ بھی آئے گا لہٰذا اس کی تعریف ضروری ہے تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ میں "گنان" کے متعلق لکھا ہے:

گنان سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنیٰ روحانی علم کے ہیں یہ منظوم کلام تیرہیوں اور چودہیوں صدی کی مروج زبانوں میں پائے جاتے ہیں جن میں سندھی، یورپی، مرہٹی، سرائیکی، گجراتی، پنجابی اور ہندی سے ملتے جلتے الفاظ پائے جاتے ہیں یہ کلام دین کی تعلیم دیتے ہیں جن میں خاص طور پر ذکر عبادت مرشد کامل اہلِ بیت امام کی شناخت وغیرہ کے موضوعات پائے جاتے ہیں اس کے علاؤہ مروج ہندو و شنو پنتھ کے عقائد اور مذہبی بیان اور واقعات کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ بیان کیا گیا (شائع کردہ شیعہ امامی اسماعیلیہ عیسوی ایشن رائے پاکستان کراچی: صفحہ، 126، 127 حصہ، سوم)

پیر شمس نے متعدد گنان لکھے ہیں جن کے نام نہ صرف دلچسپ ہیں بلکہ ان کی فکر و نظر کے آئینہ دار ہیں مثلاً: من سمجھانی، گربی گنان، چندربان، برہم پرکاش وغیرہ وغیرہ پیر شمس نے ایک چھوٹا دس اوتار بھی لکھا ان گنانوں سے متعلق علی جاہ شیخ دیدار علی مرتب تاریخِ ائمہ: ایضاً صفحہ، 130 اسماعیلیہ لکھتے ہیں:

پیر کا کلام زیادہ تر صوفیانہ ہے جس میں دین کی تعلیم دی گئی ہے اس کے علاؤہ دعوت کے نادر نمونے بھی پائے جاتے ہیں مثلاً ہندومت کو اسلامی رنگ میں پیش کیا ہے۔

3: پیروداعی صدر الدین 700ھ 819ھ، 1300ء، 1461ء:

آپ کا اصل نام محمد تھا اور لقب بار گر سودیو ہر پشچندر حاجی صدر شاہ اور صدر الدین تھے ہندو انہیں مچھر ناتھ کہتے تھے پیر شمس آپ کے پردادا تھے الموتی امام اسلام شاہ 771ھ، 827ھ، 1370ء، 1423ء نے آپ کو پیر کا لقب دے کر ہندوستان روانہ کیا انہوں نے بہت سے گنان لکھے جن کے نام یہ ہیں۔ آراد بوجھ، نرنجن، ونود، تھروید، باون گھائی، دعاگٹ، پاٹ کھٹ، درشن کھٹ، نرنجن وغیرہ ان کے گنانوں کی تعداد 250 بتلائی جاتی ہے۔ (شائع کردہ شیعہ امامیہ ایسوی ایشن برائے پاکستان کراچی: صفحہ، 146 حصہ، سوم) سے لکھنے کے علاوہ پیر صدر الدین نے ہندوستان میں اسماعیلیوں کی تین جماعتیں منظم کیں جن کے منتظم پنجاب مکھی سیٹھ شام داس لاہوری، کشمیر میں لکھی سیٹھ تلسی داس اور سندھ میں لکھی تریکیم تھے۔ (آبِ کوثر: صفحہ، 345 بحوالہ اسماعیلیوں کی تاریخ از مسٹر اے ایس پکلے)

پیر صدر الدین نے ایک دس اوتار بھی لکھا یہ بھی پیر شمس کی طرح ہندوؤں میں رہتے تھے شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں:

انہوں نے ہندو مذہب کے بعض عقائد کو صحیح تسلیم کیا تاکہ اسماعیلیہ مذہب کی اشاعت میں آسانی ہو انہوں نے ایک کتاب دس اوتار کے نام سے لکھی یا رائج کی جس میں رسولِ اکرمﷺ کو برہما حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو وشنو اور حضرت آدم علیہ السلام کو شیو سے تعبیر کیا ہے یہ کتاب خوجہ قوم کی مقدس کتاب سمجھی جاتی ہے اور مذہبی تقریبوں پر اور نزع کے وقت مریض کے بستر کے قریب پڑھی جاتی ہے۔

(آبِ کوثر: صفحہ 346، 347 شیخ مہد اکرام سندھ گز ییٹر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ کتاب دس اوتار کی تصنیف میں پیر صدر الدین نے ایک عالم برہمن سے مدد لی)

4: پیر کبیر الدین 742ھ، 853ھ، 1341ء، 1449ء:

صفحہ 2 از 3