اعمال شریعت سے متعلق نزاریوں کے عقائد - ردِ رافضیت | دفاع…

اعمال شریعت سے متعلق نزاریوں کے عقائد

  سید تنظیم حسین

صفحہ 3 از 3

کبیر الدین، پیر صدر الدین کے بیٹے تھے ان کو بھی الموتی امام اسلام شاہ 771ھ، 827ھ، 1370ء، 1423ء نے پیر کا لقب دیا اور ہندوستان میں دعوت کے کام کی نگرانی پر مامور کیا پیر کبیر الدین یا پیر حسن کبیر الدین نے بھی متعدد گنان لکھے ان کے نام ملاحظہ ہوں: اننت اکھاڑو، برہم گاونسری اننت نو چھگے، اننت کا دیوا، سگر نور کادیوا و غیرہ وغیرہ۔

5: سید امام شاہ 834ھ، 926ھ، 1430ء، 1520ء:

پیر کبیر الدین کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے انہوں نے بھی متعدد گنان لکھے جن کے حسبِ دستور عجیب عجیب نام ہیں مثلاً گھو گھری گنان، بھائی بڑائی گنان، مول گاتیری، جنکار وغیرہ تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ کے اعتبار سے ان میں ہندومت کا زیادہ ذکر ملتا ہے۔

نزاری پیروں کی خصوصیات:

ہم نے اسماعیلی نزاری پیروں کا ذکر بہت مختصر کیا ہے جو چیز ان سب میں مشترک ہے وہ ان کی فکر و نظر پر ہندو مت کا غلبہ ہے اسی وجہ سے انہوں نے ہندو مت کے بعض عقائد کو صحیح تسلیم کیا ہندوانہ نام رکھے حتیٰ کہ اپنی عورت کے ارکان کے نام بھی ہندوانہ رکھے مثلاً مکھی کامڑیا وغیرہ مقامی تہذیب و تمدن کی برتری تسلیم کرنے میں بھی تامل نہیں کیا اور اس طرح ایک نادان دوست کا کردار ادا کیا غالباً یہی وجہ ہے کہ پیر کبیر الدین کے بعد ان کے بیٹے کو الموتیٰ امام کی جانب سے پیر کا لقب نہیں ملا بلکہ الموت امام کے نمائندوں کو وکیل کہا جانے لگا (سندھ گزییڑیا نائب پیر خواجہ داؤد یا دادو) کا ذکر کیا گیا ہے تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ میں اس کو وکیل کہا گیا ہے اس کے پیرو بھی ہندوانہ نام رکھتے تھے تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ: جلد، سوم صفحہ، 20، 215) 

یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسماعیلی داعی ہندومت کے مقامی دباؤ کا مقابلہ نہ کرسکے حتیٰ کہ تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ کے مطابق امام شاہ یا امام الدین کی وفات کے بعد اس کے بیٹے سید نر محمد شاہ نے جن کو نور محمد شاہ بھی کہتے ہیں اپنا تعلق الموتیٰ امام سے توڑ لیا اور ایک ست پنتھی یا امام شاہی فرقہ وجود میں آیا جو اسماعیلی خوجوں کی نسبت کبیر پنتھی اور نانک پنتھی طریقوں سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔

(آبِ کوثر: صفحہ، 350) اس کا ذکر ہم گزشتہ باب میں کر آئے ہیں یوں کہا جاتا ہے کہ اسماعیلی دعوت کا باقاعدہ سلسلہ بہت کمزور پڑ گیا اپنے اقتدار قائم رکھنے کے لیے الموتیٰ امام عبد السلام سنہ 880ھ سنہ 899ھ سنہ 1475ء سنہ 1493ء نے ایک کتاب "پندیات جوانمردی" تصنیف کی جسے پیر کا درجہ دیا گیا۔

(آبِ کوثر: صفحہ، 351)

 بہرحال اسماعیلیوں میں سے کچھ نے اپنے آپ کو شیعوں اِثناء عشریہ میں شامل کر لیا کچھ سنی ہوگئے اور کچھ ہندومت پر واپس ہو گئے نتیجہ یہ نکلا 300 سالہ اسماعیلی نزاری تبلیغ کا۔


صفحہ 3 از 3