بیعت سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا طریقہ انعقاد
علی محمد الصلابیسیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کا انعقاد ماہِ رمضان 40 ہجری میں ہوا اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کا واقعہ ہے۔ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلافت کے لیے کسی کی تعیین نہیں کی تھی۔ عبداللہ بن سبع سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: یقیناً اس کو اس سے رنگ دیا جائے گا۔
(یعنی ان کی داڑھی کو ان کے سر کے خون سے رنگ دیا جائے گا۔)
آخر بدنصیب میرے بارے میں کس چیز کا انتظار کر رہا ہے۔
(مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 921)
لوگوں نے کہا: امیر المؤمنینؓ! اس کے بارے میں ہمیں بتائیں ہم اس کی نسل کو ہلاک کر ڈالیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو تم میرے بدلے میں میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر ڈالو گے۔ وہ کہنے لگے: تو پھر کسی کو ہمارا خلیفہ نامزد کر دیں، انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ میں تمہیں اس چیز کی طرف چھوڑوں گا جس کی طرف تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا۔ وہ کہنے لگے: جب تم اپنے رب کے پاس جاؤ گے تو اسے کیا جواب دو گے؟ فرمایا: میں کہوں گا: یا اللہ! جب تک تو نے چاہا مجھے ان لوگوں میں زندہ رکھا پھر جب تو نے مجھے اپنے پاس بلا لیا تو پھر تو ان میں موجود تھا، اگر تو چاہتا تو ان کی اصلاح کر دیتا اور اگر چاہتا تو انہیں خراب کر دیتا۔ دوسری روایت میں ہے: میں کہوں گا: یا اللہ! جب تک تو نے چاہا مجھے ان کا خلیفہ بنائے رکھا پھر تو نے مجھے قبض کر لیا اور میں ان میں تجھے چھوڑ آیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے چار تکبیروں کے ساتھ ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر انہیں کوفہ میں دفن کر دیا گیا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے سب سے پہلے قیس بن سعد بن عبادہؓ خزرجی نے بیعت کی، وہ بیعت کرتے وقت کہنے لگے: میں کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ملحدین کے ساتھ جہاد کرنے پر سیدنا حسنؓ سے بیعت کرتا ہوں، اس پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں سب کچھ شامل ہے۔ ان کے لیے علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں۔ پھر انہوں نے خاموشی کے ساتھ سیدنا حسنؓ سے بیعت کر لی اور پھر دوسرے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 73)
جب اہل عراق نے ان سے بیعت کرنے کا اِرادہ کیا تو سیدنا حسنؓ نے ان سے یہ اقرار لیا: تم سنو گے بھی اور اطاعت بھی کرو گے جس سے میں جنگ کروں گا اس سے تم بھی جنگ کرو گے اور جس سے میں صلح کروں گا اس سے تم بھی صلح کرو گے۔
(ایضاً: جلد 2 صفحہ 77)
دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا حسنؓ نے ان سے فرمایا: و اللہ میں تم سے اپنی شرائط پر بیعت لوں گا۔ انہوں نے کہا: کون سی شرائط؟ فرمایا جس سے میں صلح کروں گا اس سے تم بھی صلح کرو گے اور جس سے میں جنگ کروں گا اس سے تم بھی جنگ کرو گے۔
(الطبقات: تحقیق ڈاکٹر محمد السلمی: جلد 1 صفحہ 286)
ابن سعد کی روایت میں ہے: سیدنا حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما نے اپنے باپ کے بعد اہل عراق سے اِمارت پر بیعت کی اور یہ کہ وہ اس چیز میں داخل ہوں گے جس میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ داخل ہوں گے اور جس سے وہ راضی ہوں گے اس سے اہل عراق بھی راضی ہوں گے۔
(ایضاً: جلد 1 صفحہ 316،317)