بیعت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے انعقاد کا طریقہ
علی محمد الصلابیسیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے منصب خلافت سے دست برداری کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت مکمل ہوئی اور انہیں اس کے تمام اسباب میسر آ گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر امیر المؤمنین کے طور پر 41 ہجری میں بیعت ہوئی اور اس سال کو ’’عام الجماعۃ‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 137۔ تاریخ خلیفۃ: صفحہ 203)
اس وقت تک بقید حیات تمام صحابہ کرامؓ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کی اور اس طرح ان کی امارت پر امت کا اجماع ہو گیا، لوگوں نے ان کی امامت کو شرعی قرار دیا اور ان کی امامت کو پسند کیا۔ افراد امت نے سمجھا کہ وہ مسلمانوں کی قیادت کے لیے انتہائی موزوں اور یہ ذمہ داری نبھانے کے لیے انتہائی مناسب ہیں۔