Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فاطمی مستعلویہ اور ظاہری شریعت

  سید تنظیم حسین

ظاہری شریعت کی پابندی کا مسئلہ اسماعیلیوں میں ابتداء سے ہی بہت دلچسپ بلکہ مختلف فیہ رہا ڈاکٹر زاہد علی (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 254، 264) نے اس بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے جس کا لب لباب انہیں کے الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے:

بہر حال امام معز 341ھ، 365ھ، 952ء، 975ء کی دعاؤں اور ان کے باب الابواب جعفر بن منصور الیمن کی کتابوں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اگلے اور قدیم اسماعیلیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ امام بن اسماعیل کے عہد سے ظاہری اعمال اٹھ گئے اور علمِ باطن کا دور شروع ہوا چنانچہ بعض قدیم اسماعیلی فرقے مثلاً قرامطہ اور نزاری خوجے یہی عقیدہ رکھتے تھے امام مہدی عبید اللہ المہدی اور اس کے جانشینوں فاطمی خلفاء و ائمہ نے اس قسم کے عقیدے ظاہر نہیں کئے اس کی وجہ مستشرق "اولیری" نے یہ بتائی ہے کہ ان حکمرانوں کو بلادِ مغرب مصر اور شام وغیرہ پر مستقل حکومت کرنے کا موقع ملا اور ان ممالک میں اکثریت اہلِ سنت کی تھی اس لئے انہوں نے صرف ایسے عقیدے ظاہر کئے جو ان کی رعایا سے ملتے تھے۔ 

(تاریخِ فاطمییّنِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 263) 

واضح رہے کہ اسماعیلیوں کے یہاں امام خلیفہ ابو تمیم معد المعز الدین الله 341ھ، 365ھ، 952ء، 975ء جملہ فاطمی ائمہ میں ایک خصوصی حیثیت کے مالک سمجھے جاتے ہیں وہ زیادہ تر مولانا معز کہے جاتے ہیں ان کی دعائیں اسماعیلیوں کے یہاں بہت معتبر اور متبرک مانی جاتی ہیں (یہ دعائیں سات ہیں جو اتوار سے شروع ہوتی ہیں آخری دعا شنبہ سینچر کی ہے اتوار سے دعاؤں کا شروع ہونا نصرانی اثرات کا ثبوت ہے۔ 

(ایضاً: صفحہ 255)

ڈاکٹر زاہد علی نے ان کی دعاؤں سے وہ عربی متن بھی دیا ہے جس کی رو سے ظاہری اعمال کی پابندی اٹھ گئی ہے مگر اس صریح بیان کے بعد بھی ایک دلچسپ تاویل پیش کی گئی جس پر مستشرق ایوانو سے ضبط نہ ہو سکا اس کے تاثرات ناظرین کی دلچسپی کا باعث ہوں گے:

"Sayyidna Idris obviously tries here as on many other occasios to avoid falling between two stools without any convincing result This is one of the ex amples of that mystic vision in which two contradic tory statements are both admitted as true at one and the same In such cases the student is required to possess strong confidence in the honesty of the author to treat statments seriously and not to take it for ordinary foolishness (The Rise of the Fatimids P- 244)

ترجمہ: حسبِ سابق اس مرتبہ بھی سیدنا ادریس اور میں نے تذبذب کا شکار ہو کر غلط راستہ اختیار کرنے سے بچنے کی کوشش کی ہے لیکن نتیجہ غیر اطمینان بخش رہا یہ عارفانہ تصورات کی بہت سی مثالوں میں ایک ہے جن میں دو متضاد بیانات کو ایک ہی وقت میں درست قرار دیا جاتا ہے ایسے حال میں حقیقت کے متلاشی کو مصنف کی دیانت پر اعتماد کامل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اس کے بیانات کو سراسر حماقت سمجھنے کے بجائے درخوراعتناء سمجھ سکے۔

متذکرہ بالا بیانات سے ظاہر ہے کہ فاطمیوں نے اگر ظاہری شریعت کی پابندی کی تو اس وجہ سے کی کہ ان کی حکومت میں اہلِ سنت و الجماعت کی کثرت تھی اور ان کے لئے اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ وہ ان کو یعنی اہلٹ سنت کو مطمئن رکھنے کے لئے ظاہری شریعت کی پابندی کریں یہ پابندی مصر میں فاطمی اقتدار کے دران مصلحت وقت کے تحت بر قرار رہی اور اسماعیلی مرکز دعوت کے 567ھ، 1172ء میں یمن منتقل ہونے پر مستعلویہ نے اس کو قائم رکھا کیوں کہ یمن میں ان کے اردگر اثنائے عشری اور زیدیہ تھے جن کے یہاں اعمالِ شریعت کو اولین حیثیت حاصل ہے مستعلویہ میں یمن سے 946ھ، 1540ء میں ہندوستان منتقل ہونے کے بعد بھی ظاہری شریعت کی پابندی بر قرار رہی کیوں کہ مصر کی طرح ہندوستان میں اہلِ سنت کی اکثریت ہے اور اثنائے عشری بھی ہیں۔

ہندوستان مرکزِ دعوت منتقل ہونے کے بعد مستعلویہ بوہرے کہلائے جیسا کہ گزشتہ باب میں بیان کیا گیا ہے 999ھ، 1560ء میں بوہرے دو حصوں میں بٹ گئے ایک داؤدی دوسرے سلیمانی رفتہ رفتہ ان میں مزید فرقے پیدا ہو گئے جو مہدی باغ والے اور علیہ کے نام سے معروف ہیں کہا جاتا ہے سیلمانیہ میں جو زیادہ تر یمن میں ہیں اور مہدی باغ والوں میں قائم القیامہ کا ظہور ہو چکا ہے لہٰذا خیال کیا جاتا ہے کہ جیسا کہ اسماعیلیہ میں ہوتا رہا ہے وہ بھی ظاہری شریعت کی پابندی سے آزاد ہو گئے ہوں گے البتہ داؤدی بوہرے مصلحت وقت کے تحت اعمالِ شریعت کے بدستور پابند نظر آتے ہیں۔