حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے بُغض علی سے سنت کو ترک کر…

حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے بُغض علی سے سنت کو ترک کر دیا۔(معاویہ رضی اللہ عنہ کے ڈر سے لبیک نہ پڑھنا) سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو تلبیہ سے روکتے تھے؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 1 از 2
حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے بُغض علی سے سنت کو ترک کر دیا۔(معاویہؓ کے ڈر سے لبیک نہ پڑھنا) نسائی

 الجواب اہلسنّت 

حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں:

  (معاویہؓ کے ڈر سے لبیک نہ پڑھنا)

کہ میں حضرت ابن عباس کے ساتھ عرفات میں تھا وہ فرمانے لگے :کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو لبیک پکارتے نہیں سنتا: میں نے کہا وہ حضرت معاویہ  سے ڈرتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس اپنے خیمے سے نکلے اور بلند آواز سے پکارا :

لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ

تعجب ہے کہ انھوں نے حضرت علی سے بغض رکھنے کی وجہ سے رسول اللہﷺ  کی سنت چھوڑ دی ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ۔

حوالہ: سنن نسائی حدیث 3009.

حدیث: صحیح

کتاب: حج سے متعلق احکام و مسائل

باب: عرفات میں لبیک کہنا

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ قُلْتُ يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ فُسْطَاطِهِ فَقَالَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ

ترجمہ:

حضرت سعید بن جبیرؒ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ عرفات میں تھا ۔ وہ فرمانے لگے : کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو لبیک پکارتے نہیں سنتا ؟ میں نے کہا : وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنے خیمے سے نکلے اور بلند آواز سے پکارا :

لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ

تعجب ہے کہ انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے کی وجہ سے رسول اللہﷺ کی سنت چھوڑ دی ہے۔

1:  اس روایت کی سند میں ایک راوی کا نام خالد بن مخلد ہے۔

(تقریب التہذیب جلد 1 صفحہ 243 ) 

علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "تشیع“ کہ یہ صاحب شیعہ ہیں۔ اس کے بارے میں مانا کہ یہ روایت اہلسنّت کی کتاب میں مذکور ہے مگر اس کتاب میں یہ روایت شیعہ کی طرف سے داخل کی گئی ہے اور شیعہ قوم سے خیر کی توقع کہاں ہو سکتی ہے۔ لہٰذا یہ روایت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف الزام دینے کے لئے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اس کا راوی شیعہ ہے. 

2:  یہاں جو واقعہ منقول ہے وہ سعید بن جبیر سے یوں نقل کیا گیا ہے کہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ میدانِ عرفات میں تھا انہوں نے فرمایا کیا بات ہے کہ میں لوگوں سے تلبیہ اونچی آواز سے نہیں سن رہا تو میں نے جواب دیا کہ لوگ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتے ہیں اس لئے اونچی آواز سے نہیں پڑھتے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنے خیمہ سے نکل آئے اور با آواز بلند تلبیہ لبيك اللهم لبيك الخ پڑھنے لگے۔ لوگوں نے بغض علی کی وجہ سے سنت چھوڑ دی۔(عکسی صفحہ )

اس روایت میں دو جملے ہیں:

1: لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈرتے ہیں،

2:  بغض علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے سنت ترک کر دی قابلِ غور ہیں۔

شیعہ راوی خالد بن مخلد نے یہ دونوں باتیں اپنی طرف سے گھڑ کر روایت میں ملا دی ہیں۔

وجہ نمبر 1 تلبیہ پڑھنا حکم خدا اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے بلند اور آہستہ دونوں طرح سے پڑھا جا سکتا ہے۔ کسی کے ڈر سے صحابہ کا سنت کو ترک کرنا بعید از عقل ہے۔

(2)  بلند آواز سے نہ پڑھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہوں نے سرے سے تلبیہ پڑھا ہی نہیں۔

(3) سنت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے نہ کہ حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی پھر ترک تلبیہ کا بغض علی سے کیا تعلق؟

بہرحال ان تصرفات کی بنا پر یہ روایت اہلسنّت کے ہاں مقبول نہیں۔ بالخصوص اس وقت جبکہ یہ روایت راوی کے غلط نظریے کی مؤید بھی ہے۔


سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مخالفین ( مرزائی جہلمی وغیرہ) آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ آپ  نے لوگوں کو بلند آواز سے تلبیہ کہنے سے روک دیا تھا بغض علی رضی اللہ عنہ میں آکر جیساکہ جہلمی اپنے ریسرچ پیپر واقعہ کربلا حدیث:46) بحوالہ سنن نسائی، ایک ضعیف روایت کا سہارا لیتے  اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، ‌‌‌‌‌‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَاتٍ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏  مَا لِي لَا أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ ؟ قُلْتُ:‌‌‌‏ يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، ‌‌‌‌‌‏فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ فُسْطَاطِهِ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏  لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، ‌‌‌‌‌‏لَبَّيْكَ، ‌‌‌‌‌‏فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ .

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے  ہیں کہ :میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات میں تھا تو وہ کہنے لگے: کیا بات ہے، میں لوگوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں سنتا۔ میں نے کہا: لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ سے ڈر رہے ہیں،  ( انہوں نے لبیک کہنے سے منع کر رکھا ہے )  تو ابن عباس رضی اللہ عنہما  ( یہ سن کر )  اپنے خیمے سے باہر نکلے، اور کہا: لبيك اللہم لبيك لبيك  ( افسوس کی بات ہے )  علی رضی اللہ عنہ کے بغض میں لوگوں نے سنت چھوڑ دی ہے۔

(3009 النسائی)

یہ  روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے اس روایت کے اندر (خالد بن مخلد )  راوی ہیں  اس کے بارے میں  امام ابن رجب الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ ایک اصول ذکر فرماتے ہیں:

ذكر الغلابي في تاريخ قال  القطواني يوخذ عنہ مشيخه المدينه وابن بلال قط. یرید سلیمان بن بلال۔
و يعني بهذا لايؤخذ عنه الا حديثه عن اهل المدينة وسليمان ابن بلال منهم۔
صفحہ 1 از 2