حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے بُغض علی سے سنت کو ترک کر…

حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے بُغض علی سے سنت کو ترک کر دیا۔(معاویہ رضی اللہ عنہ کے ڈر سے لبیک نہ پڑھنا) سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو تلبیہ سے روکتے تھے؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 2

(امام الجرح والتعدیل، محدث، مفضل بن غسان  )غلابی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے کہ خالدبن مخلد قطوانی سے وہ روایات قبول کی جائیں گی جو اس نے اپنے مدنی اساتذہ اور ابن بلال یعنی سلیمان بن بلال بیان سے کی ہیں۔ آگے اس کی وضاحت میں  امام ابن رجب حنبلی نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے روایت نہیں لی جائے گی مگر وہ جو ہو اہل مدینہ سے اور سلیمان بن بلال سے ( بیان کرے)

(شرح علل الترمذی لابن رجب الحنبلي صفحہ نمبر 330)

سنن نسائی والی  یہ روایت خالد بن مخلد نے علی بن صالح سے بیان کی ہے۔ اور علی بن صالح انکے  مدنی استاد نہیں ہے بلکہ کوفی  استاد ہیں، لھذا انکی کوفیوں سے بیان کردہ روایت رد سمجھی جائے گی۔

نوٹ:

جن  علماء نے اس روایت کی تصحیح کی ہے ان کے سامنے یہ علت عیاں نہ ہو سکی، لہٰذا اس وجہ سے ضد کرنا جہالت ہے کہ فلاں نے اسکو صحیح کہا ہے یہ ضد تقلید جامد اور حرام ہے۔


سیدنا معاویہؓ لوگوں کو تلبیہ سے روکتے تھے؟

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مخالفین آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے تلبیہ کہنے سے روک دیا تھا اور اس کے لیے وہ سنن نسائی کی ایک ضعیف روایت کا سہارا لیتے ہیں کہ سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ کے ساتھ عرفات میں آپ نے فرمایا کہ میں لوگوں کو نہیں سن رہا کہ وہ تلبیہ کہتے ہو تو میں نے کہا حضرت معاویہ رضہ سے ڈرتے ہیں ابن عباس رضہ نکلے اپنے خیمے سے بلند آواز سے لبیک الھم لبیک  کہا پھر فرمایا ان لوگون نے چھوڑ دیا تھا سنت کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بغض میں یہ روایت پیش کرکے یہ لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں کو بلند آواز سے تلبیہ کہنے سے روک دیا تھا:

معزز ناظرین! اس کا جواب کا یہ ہے کہ یہ  روایت سخت ضعیف و منکر ہیں اس کی چند وجوہات ہیں سنیے؛

  آپ اس کی سند میں غور کریں اس میں ایک راوی ہے خالد بن مخلد اس کے بارے میں محدثین کی آراء مختلف ہیں۔ کئی حضرات کہتے ہیں ضعیف ہے کئی حضرات کہتے ہیں ثقہ ہے اور اس راوی کے بارے میں  حضرت امام ابن سعد فرماتے ہیں کہ یہ شخص منکر الحدیث ہے اور شیعیت میں غلو کرنے والا ہے یعنی یہ شخص غالی شیعہ ہے

(طبقات ابن سعد جلد 6 صفحہ 406)

امام ابن سعد کے علاوہ بھی کئی حضرات اس کو شیعہ قرار دیا ہے اور آپ کو پتہ ہے کہ شیعہ کی وہ روایت قبول نہیں کی جاتی جو ان کے مذہب کو تقویت دیتی ہو اور آپ کو یہ بھی معلوم  ہےکہ  سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مخالفت کرنا سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تہمتیں  اور بہتان لگانا یہ تو رافضیت کے مسلک کے عین مطابق ہے لہٰذا خالد بن مخلد غالی شیعہ کی یہ روایت سیدنا معاویہؓ کے خلاف بالکل قبول نہیں کی جائے گی۔

وجہ نمبر 2

حضرت امام احمد بن حنبل شیبانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ راوی منکر روایت بیان کرنے والا ہے اس کے پاس منکر روایتیں تھیں

(العلل ومعرفتہ الرجال لابنہ عبداللہ جلد 2 صفحہ 1403)

اب پتہ کیسے چلے گا کہ اس کی یہ روایت صحیح ہے اور یہ روایت منکر ہے اس کے بارے میں حضرت امام ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بڑی زبردست بات بتلائی ہے وہ فرماتے ہیں: کہ امام غلابی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے کہ خالدبن مخلد قطوانی سے وہ روایات قبول کی جائیں گی  جو اس نے اپنے مدنی اساتذہ اور ابن بلال یعنی سلیمان بن بلال بیان سے کی ہیں۔ آگے  اس کی وضاحت میں فرمایا امام ابن رجب حنبلی نے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے روایت نہیں لی جائے گی مگر وہ جو ہو اہل مدینہ سے اور سلیمان بن بلال سے۔ اس معلوم ہوا کہ خالد بن مخلد کی وہ روایتیں قبول کی جائیں گی جو وہ مدنی اساتذہ سے لیتا ہے اور وہ جو سلیمان بن بلال سے لیتا ہے اس کے علاوہ اس کے کسی اور استاد سے کی ہوئی روایت کو قبول نہیں  کیا جائے گا

(شرح علل الترمذی جلد نمبر 2 صفحہ 775 ،776)

چونکہ  سنن نسائی والی روایت خالد بن مخلد نے علی بن صالح سے لی ہے اور علی بن صالح مدنی استاد نہیں ہے بلکہ کوفی ہے جیسا کہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخ الاسلام جلد 4 صفحہ 155 میں لکھا ہے علی بن صالح صالح بن ہمدانی ”الکوفی“ آپ نیچے دیکھیں اور اس کے شاگردوں میں خالد بن مخلد کا نام بھی لکھا ہوا ہے تو چونکہ یہ روایت خالد بن مخلد نے کوفی استاد سے لی ہے اور اس کی مدنی اساتذہ کے علاوہ سے روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔

تیسری بات

خالد بن مخلد نے جو متن بیان کیا ہے بڑا عجیب و غریب قسم کا ہے اگر آپ اس کے متن پر غور کریں تب بھی آپ پر یہ بات کھل جائیگی کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے کیوں لکھا ہوا ہے کہ لوگوں نے تلبیہ کہنا چھوڑ دیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ڈر سے اور کیوں جی لوگوں نے کیوں سنت کو چھوڑا حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بغض میں بندہ ان سے  پوچھے کہ بلند آواز سے تلبیہ کہنا یہ کوئی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع تو نہیں کروایا تھا یہ ان کا ایجاد کردہ عمل نہیں تھا یہ تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا سنت عمل ہے اس عمل کو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ منسوب کرنا کس طرح درست ہے؟

یا تو یہ ہوتا  کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک عمل کو شروع کرتے بہت سارے لوگ قبول کرلیتے اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی کے حامی  اس کو چھوڑ دیتے۔ پھر یہ کہنا صحیح ہوتا کہ حضرت علیؓ کے بغض میں چھوڑا ہے۔  نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور چھوڑ علی کے بغض میں! یہ  ہماری سمجھ سے بالاتر ہے خلاصہ یہ بھی اس روایت کے کمزور ہونے کی دلیل ہے۔




 







 





 



صفحہ 2 از 2