Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یزید کو وصیت

  علی محمد الصلابی

60 ہجری میں جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس وقت یزید ان کے پاس موجود نہیں تھا۔ انہوں نے پولیس کے سربراہ ضحاک بن قیس فہری اور مسلم بن عقبہ مری کو بلایا اور انہیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا: میری یہ وصیت یزید کو پہنچا دینا کہ اہل حجاز کا خیال رکھنا، اس لیے کہ وہ تیری قوم کے لوگ ہیں، ان میں سے جو کوئی تیرے پاس آئے اس کا اکرام کرنا اور جو تیرے پاس حاضر نہ ہو سکیں ان کا خیال رکھنا، اہل عراق پر نظر رکھنا، اگر وہ تجھ سے ہر روز اپنے عامل کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو ایسا ضرور کرنا، اس لیے کہ ایک عامل کو معزول کر دینا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ ایک لاکھ تلواریں تیرے خلاف سونت لی جائیں اور اہل شام کے حال پر نظر رکھنا اور انہیں اپنا ہم راز اور دم ساز بنائے رکھنا، اگر دشمن کی طرف سے تجھے کوئی مہم درپیش ہو تو ان کی مدد حاصل کرنا، پھر جب تو فتح مند ہو جائے تو انہیں ان کے وطن واپس بھجوا دینا۔ اس لیے کہ اگر وہ دوسرے شہروں میں آباد ہوں گے تو انہی کا کردار و اخلاق اپنا لیں گے۔ قریش میں سے تین لوگوں کے علاوہ مجھے کسی کا خوف نہیں ہے: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو تو دین داری نے مار ڈالا ہے وہ تجھ سے کسی بات کے طلب گار نہیں ہوں گے، رہے حسین بن علی رضی اللہ عنہما تو وہ ہلکے پھلکے آدمی ہیں اور مجھے امید ہے جن لوگوں نے ان کے والد محترم کو قتل کیا اور ان کے بھائی کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا اللہ ان لوگوں کے ذریعے سے تجھے حسین کی فکر سے نجات دلائے گا۔ مگر یہ بات یاد رہے کہ انہیں قریب کی قرابت داری حاصل ہے اور ان کا بہت بڑا حق ہے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اہل عراق انہیں خروج پر آمادہ کیے بغیر نہیں چھوڑیں گے، اگر تو ان پر قابو پا لے تو درگزر سے کام لینا، اگر وہ تیرے پاس اس طرح آتے تو میں انہیں ضرور معاف کر دیتا، ہاں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما چال چلنے والے (معاملا ت کو اُلٹ پلٹ دینے والے) اور ہوشیار ہیں، اگر وہ تیرے مقابلے میں آئیں تو ان کا مقابلہ کرنا ہاں اگر وہ صلح کے طالب ہوں تو اسے قبول کر لینا اور جہاں تک ممکن ہو اپنی قوم کو خون ریزی سے بچانا۔

(تاریخ طبری: جلد 6۔صفحہ 241)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں اپنی مملکت کے صرف تین صوبوں حجاز، عراق اور شام کا ذکر کیا ہے اور یہ اس لیے کہ دیگر صوبوں کے سیاسی حالات ان کے نزدیک کسی قابل ذکر پریشانی کا سبب نہیں بن سکتے تھے۔

(الوصیۃ السیاسیۃ فی العصر العباسی: حقی اسماعیل: صفحہ 46)

ا: حجاز: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس صوبہ کی نسبت سے اپنے بیٹے یزید کو فرماتے ہیں: اہل حجاز کا خیال رکھنا اس لیے کہ وہ تیری قوم کے لوگ ہیں ان میں سے جو تیرے پاس آئے اس کا اکرام کرنا اور جو تیرے پاس حاضر نہ ہو اس کا خیال کرنا۔

(تاریخ طبری: جلد 6صفحہ 41)

ان کے نزدیک حجاز کی یہ اہمیت ان کے خاندان اور قوم کا مسکن ہونے کے علاوہ سیاسی اعتبار سے بھی اس کی اہمیت کی عکاسی ہوتی ہے، کیونکہ وہ چند ہی سال پہلے تک دولت اسلامیہ کا سیاسی مرکز ثقل (دار الخلافہ) تھا۔ جبکہ دینی اعتبار سے وہ ابھی تک مرکزیت کا حامل تھا اور یہ اس لیے کہ زیادہ تر اصحاب رسول رضی اللہ عنہم وہیں مقیم تھے اور اگر وہ اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں اور انہیں موقع میسر آئے تو وہ بنوامیہ کو حکومت تفویض کر سکتے ہیں گویا کہ وہ ابھی تک بھی بیعت کا حقیقی مرکز تھا۔

(الوصیۃ السیاسیۃ فی العصر العباسی: صفحہ 46)

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اموی حکومت کے معارضین کی متعدد شخصیات یہیں رہائش پذیر تھیں، جیسا کہ حسین بن علی، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم۔ جیسا کہ ہمیں اس وصیت کے آخر میں نظر آ رہا ہے، اس صوبہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل حجاز کے دل جیتنے کے لیے مختلف وسائل سے کام لینے کی ترغیب دلائی جن میں کھلے دل سے ان پر مال خرچ کرنا بھی شامل ہے۔

(ایضاً)

ب: عراق: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نظروں میں خصوصی اہمیت کا حامل دوسرا صوبہ عراق ہے۔ اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر وہ اپنے ولی عہد کو اہل عراق کے ساتھ خصوصی برتاؤ کرنے کی وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اہل عراق پر خصوصی نظر رکھنا اگر وہ تجھ سے ہر روز اپنے عامل کی معزولی کا مطالبہ کریں تو ایسا کر گزرنا، اس لیے کہ ایک عامل کو معزول کرنا میرے نزدیک اس بات سے بہتر ہے کہ ایک ہزار تلواریں تیرے خلاف سونت لی جائیں۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 241)

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اہل عراق کا اپنے ولاۃ سے شکایات کا سلسلہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت سے جاری تھا۔

ج: شام: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک سیاسی اہمیت کا حامل تیسرا صوبہ شام تھا۔ اس کے بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وصیت کا پس منظر یہ ہے کہ اہل شام نے انہیں ایوان اقتدار تک پہنچانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ ہمیشہ ہی سے ان کی سیاست کے حمایتی رہے تھے، ان کے اسی کردار کی وجہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یزید کو انہیں خصوصی اہمیت دینے، ان پر اعتماد کرنے اور بڑی بڑی مشکلات کے وقت ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کی تلقین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جس کے آخر میں اسے تلقین کی گئی ہے کہ اہل شام کی مدد سے دشمن پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد انہیں شام واپس بھجوا دینا اس لیے کہ اگر وہ دوسرے علاقوں میں مقیم ہو جائیں گے تو اپنے اخلاق و عادات کو ترک کر کے ان کے رویوں کو اپنا لیں گے۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 241)

اس نص کا آخری فقرہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاسی دُور اندیشی کی عکاسی کرتا ہے، اس میں وہ اپنے اس خوف کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر اہل شام دوسرے صوبوں کے لوگوں کے ساتھ اختلاط کریں گے تو اس سے ان کے اخلاق میں تبدیلی آ جائے گی۔

(الوصیۃ السیاسیۃ فی العصر العباسی: صفحہ 4)

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اموی حکومت کے مخالفین شامی لشکر پر اثر انداز ہو جائیں اور اس طرح اموی خلافت کے ہاتھ سے وہ پتہ نکل جائے جسے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ استعمال کرتے اور اس کے فوائد سے بہرہ مند ہوتے رہتے تھے، لہٰذا وہ اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہیں کہ جب شامی لشکر اپنی مہم سر کر لے تو اسے فوراً شام واپس بھجوا دیا جائے۔

(الوصیۃ السیاسیۃ فی العصر العباسی: صفحہ 48)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس وصیت میں ایک اہم بات ان کا وہ منصوبہ ہے جو انہوں نے آئندہ پیش آنے والے احداث و واقعات کا سامنا کرنے کے لیے تشکیل دیا اور جس کی تنفیذ یزید کے سپرد کی جب کہ وہ قریش کی ایک جماعت کو یزید کی بیعت پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے تھے، روایات بتاتی ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس مقصد کے لیے خود مدینہ منورہ گئے اور یزید کے لیے بیعت کو ردّ کرنے والی اہم شخصیات سے الگ الگ ملاقاتیں کر کے ان سے یزید کے لیے بیعت کا وعدہ لینے کے لیے کوشش کی۔

(ایضاً: صفحہ 48)

مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے،

(ایضاً: صفحہ 48)

اس وصیت سے عیاں ہوتا ہے کہ حجاز اور خاص طور پر مدینہ منورہ میں بنو امیہ کی حکومت کی بہت زیادہ مخالفت پائی جاتی تھی اور اسی وجہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کو اس کے ساتھ معاملہ کرتے وقت اس سے خبردار رہنے اور بوقت ضرورت بہت زیادہ محتاط رہنے کی وصیت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ وہ جن لوگوں سے حقیقی خطرہ محسوس نہیں کرتے ان کے ساتھ نرمی اور ملائمت پر مبنی رویہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں، اس لیے کہ حکومت کو مستحکم رکھنے کے لیے حجاز کی بڑی اہمیت تھی۔

(ایضاً: صفحہ 49)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ رائے بڑی صائب تھی کہ انہیں دین داری نے ہلاک کر ڈالا ہے، لہٰذا وہ یزید کے لیے خطرہ نہیں بن سکتے۔ جب ولید بن عتبہ نے انہیں بیعت یزید کے لیے طلب کیا تو انہوں نے فرمایا: جب لوگ بیعت کر لیں گے تو میں بھی کر لوں گا، چنانچہ انہوں نے انہیں عبادت میں مصروف ہونے اور حکومتی معاملات میں دلچسپی نہ لینے کی وجہ سے ان کے حال پر چھوڑ دیا۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 14)

اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ اندازہ بھی درست ثابت ہوا کہ اہل عراق حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو خروج پر آمادہ کیے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یزید اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما میں ٹکراؤ کا یقین تھا، اسی لیے تو انہوں نے یزید سے مطالبہ کیا کہ اگر اسے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر غلبہ حاصل ہو جائے تو وہ ان کے بارے میں درگزر سے کام لے۔ رہا وہ حقیقی خطرہ جو بہت زیادہ احتیاط اور سختی کا متقاضی ہو گا تو وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف سے درپیش ہو گا جنہیں اموی حکومت کے زیادہ تر مخالفین کی بہت زیادہ حمایت حاصل ہو گی، نیز اس لیے بھی کہ وہ سیاست اور جنگ کے آدمی تھے۔ مختصراً یہ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ وصیت مختلف امور سے نمٹنے کے لیے ان کی سیاسی بصیرت اور گہری فکر و نظر کی عکاسی کرتی ہے۔ ہمیں ان کی اس وصیت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسے احداث و واقعات کے بارے میں حزم و احتیاط پر مبنی معاملہ کرتے تھے جو شدت کے متقاضی ہوں۔ علاوہ ازیں کے لیے وہ اپنے طویل سیاسی تجربہ کو کام میں لایا کرتے، انہوں نے اپنی اس سیاسی روش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: جہاں میرا کوڑا میرے لیے کافی رہے میں وہاں تلوار کا استعمال نہیں کرتا اور جہاں میری زبان کافی رہے وہاں میں کوڑا بھی استعمال نہیں کرتا، اگر میرے اور لوگوں کے درمیان ایک دھاگے کے برابر تعلق باقی رہ جائے تو وہ بھی کبھی ٹوٹ نہ سکے گا جب ان سے اس کی وضاحت چاہی گئی تو انہوں نے فرمایا: جب لوگ اسے کھینچیں گے تو میں اسے ڈھیلا کر دوں گا اور جب وہ اسے ڈھیلا کریں گے تو میں اسے کھینچ لوں گا۔

(نہایۃ الارب: جلد 6 صفحہ 44۔ العقد الفرید: جلد 1 صفحہ 25)

وہ یزید کو اس قسم کی سیاست اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے: موقعہ میسر آنے تک حلم و حوصلہ اور قوت برداشت سے کام لینا اور پھر جب موقع مل جائے تو درگزر سے کام لینا اس لیے کہ درگزر سے کام لینے سے تیری مشکلات دُور ہو جائیں گی اور خطرات ٹل جائیں گے۔

(نہایۃ الارب: جلد 1 صفحہ 256)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی اس وصیت میں اپنے بیٹے یزید کو انتہائی کم اور جامع کلمات میں سیاست و انتظامیہ میں اپنے منہج و اسلوب اور تجربہ کا ملخص بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ جس کا اس جلیل القدر صحابی کو گہرا تجربہ حاصل تھا، یعنی سیاست میں پختہ کاری اور انتظامی مہارت۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 95)