سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یزید کو وصیت - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یزید کو وصیت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اموی حکومت کے مخالفین شامی لشکر پر اثر انداز ہو جائیں اور اس طرح اموی خلافت کے ہاتھ سے وہ پتہ نکل جائے جسے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ استعمال کرتے اور اس کے فوائد سے بہرہ مند ہوتے رہتے تھے، لہٰذا وہ اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہیں کہ جب شامی لشکر اپنی مہم سر کر لے تو اسے فوراً شام واپس بھجوا دیا جائے۔

(الوصیۃ السیاسیۃ فی العصر العباسی: صفحہ 48)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس وصیت میں ایک اہم بات ان کا وہ منصوبہ ہے جو انہوں نے آئندہ پیش آنے والے احداث و واقعات کا سامنا کرنے کے لیے تشکیل دیا اور جس کی تنفیذ یزید کے سپرد کی جب کہ وہ قریش کی ایک جماعت کو یزید کی بیعت پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے تھے، روایات بتاتی ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس مقصد کے لیے خود مدینہ منورہ گئے اور یزید کے لیے بیعت کو ردّ کرنے والی اہم شخصیات سے الگ الگ ملاقاتیں کر کے ان سے یزید کے لیے بیعت کا وعدہ لینے کے لیے کوشش کی۔

(ایضاً: صفحہ 48)

مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے،

(ایضاً: صفحہ 48)

اس وصیت سے عیاں ہوتا ہے کہ حجاز اور خاص طور پر مدینہ منورہ میں بنو امیہ کی حکومت کی بہت زیادہ مخالفت پائی جاتی تھی اور اسی وجہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کو اس کے ساتھ معاملہ کرتے وقت اس سے خبردار رہنے اور بوقت ضرورت بہت زیادہ محتاط رہنے کی وصیت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ وہ جن لوگوں سے حقیقی خطرہ محسوس نہیں کرتے ان کے ساتھ نرمی اور ملائمت پر مبنی رویہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں، اس لیے کہ حکومت کو مستحکم رکھنے کے لیے حجاز کی بڑی اہمیت تھی۔

(ایضاً: صفحہ 49)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ رائے بڑی صائب تھی کہ انہیں دین داری نے ہلاک کر ڈالا ہے، لہٰذا وہ یزید کے لیے خطرہ نہیں بن سکتے۔ جب ولید بن عتبہ نے انہیں بیعت یزید کے لیے طلب کیا تو انہوں نے فرمایا: جب لوگ بیعت کر لیں گے تو میں بھی کر لوں گا، چنانچہ انہوں نے انہیں عبادت میں مصروف ہونے اور حکومتی معاملات میں دلچسپی نہ لینے کی وجہ سے ان کے حال پر چھوڑ دیا۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 14)

اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ اندازہ بھی درست ثابت ہوا کہ اہل عراق حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو خروج پر آمادہ کیے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یزید اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما میں ٹکراؤ کا یقین تھا، اسی لیے تو انہوں نے یزید سے مطالبہ کیا کہ اگر اسے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر غلبہ حاصل ہو جائے تو وہ ان کے بارے میں درگزر سے کام لے۔ رہا وہ حقیقی خطرہ جو بہت زیادہ احتیاط اور سختی کا متقاضی ہو گا تو وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف سے درپیش ہو گا جنہیں اموی حکومت کے زیادہ تر مخالفین کی بہت زیادہ حمایت حاصل ہو گی، نیز اس لیے بھی کہ وہ سیاست اور جنگ کے آدمی تھے۔ مختصراً یہ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ وصیت مختلف امور سے نمٹنے کے لیے ان کی سیاسی بصیرت اور گہری فکر و نظر کی عکاسی کرتی ہے۔ ہمیں ان کی اس وصیت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسے احداث و واقعات کے بارے میں حزم و احتیاط پر مبنی معاملہ کرتے تھے جو شدت کے متقاضی ہوں۔ علاوہ ازیں کے لیے وہ اپنے طویل سیاسی تجربہ کو کام میں لایا کرتے، انہوں نے اپنی اس سیاسی روش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: جہاں میرا کوڑا میرے لیے کافی رہے میں وہاں تلوار کا استعمال نہیں کرتا اور جہاں میری زبان کافی رہے وہاں میں کوڑا بھی استعمال نہیں کرتا، اگر میرے اور لوگوں کے درمیان ایک دھاگے کے برابر تعلق باقی رہ جائے تو وہ بھی کبھی ٹوٹ نہ سکے گا جب ان سے اس کی وضاحت چاہی گئی تو انہوں نے فرمایا: جب لوگ اسے کھینچیں گے تو میں اسے ڈھیلا کر دوں گا اور جب وہ اسے ڈھیلا کریں گے تو میں اسے کھینچ لوں گا۔

(نہایۃ الارب: جلد 6 صفحہ 44۔ العقد الفرید: جلد 1 صفحہ 25)

وہ یزید کو اس قسم کی سیاست اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے: موقعہ میسر آنے تک حلم و حوصلہ اور قوت برداشت سے کام لینا اور پھر جب موقع مل جائے تو درگزر سے کام لینا اس لیے کہ درگزر سے کام لینے سے تیری مشکلات دُور ہو جائیں گی اور خطرات ٹل جائیں گے۔

(نہایۃ الارب: جلد 1 صفحہ 256)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی اس وصیت میں اپنے بیٹے یزید کو انتہائی کم اور جامع کلمات میں سیاست و انتظامیہ میں اپنے منہج و اسلوب اور تجربہ کا ملخص بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ جس کا اس جلیل القدر صحابی کو گہرا تجربہ حاصل تھا، یعنی سیاست میں پختہ کاری اور انتظامی مہارت۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 95)


صفحہ 2 از 2