مستعلویہ کی مقدس کتابیں
سید تنظیم حسینمستعلویہ کے یہاں چار کتابیں بہت مقدس سمجھی جاتی ہیں:
1: رسائل اخوان الصفاء جن کو قرآن الائمہ کہا جاتا ہے ان رسائل کا ذکر گزشتہ باب میں آچکا ہے۔
2: قاضی نعمان بن محمد متوفی 363ھ، 974ء کی کتاب دعائم الاسلام جو فقہ سے متعلق ہے۔
3: ہبتہ اللہ بن موسیٰ الشیرازی المئوید فی الدین متوفی 470ھ، 1077ء کی مجالس المویدیہ جس میں قرآنی آیات اور چند فقہی احکام کی تاویلات بیان کی گئی ہیں۔
4: احمد حمید الدین الکرمانی 408ھ، 1018ء کی راحتہ العقل جس میں توحید، عقل، نفسِ رسالت وصایت وغیرہ کا بیان ہے۔
موجودہ اسماعیلی فرقوں کے مجموعی اعتقادات:
موجودہ اسماعیلی فرقوں کی کیفیات بیان کرنے کے بعد ہم ان فرقوں کے مجموعی اعتقادات بیان کرتے ہیں تا کہ مکمل صورت سامنے آجائے۔
بنیادی عقائد:
(دیکھئے باب چہارم)
توحید: اللہ تعالیٰ ایک ہے مگر وہ کسی صفت سے موصوف یا کسی نعت سے منعوت نہیں کیا جا سکتا اللہ تعالیٰ کی ذات پر لفظ واحد کا اطلاق کرنا درست نہیں تمام صفات حقیقت میں اس مبدع اول پر واقع ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا کیا جس کا دوسرا نام عقلِ اول یا امر یا کلمہ ہے عالمِ جسمانی میں یہ صفات امام پر صادق آتی ہیں کیوں کہ وہ عقل کے مقابل قائم ہے اللہ تعالیٰ کو ہست بھی نہیں کہا جا سکتا۔
رسالت: انبیاء و مرسلین کو اولاً مستقر امام کا نائب یا مستودع کہا گیا ہے اس کے بعد اس نبی کو ناطق بتلایا ہے جو خدا کی طرف سے شریعت لاتا ہے اس حیثیت سے اس کا فرض صرف شریعت کا اظہا ہے جب کہ باطن کی ذمہ داری "صامت" کی ہے اور باطن ہی مقصود اصلی ہے اور آگے چل کر کہا گیا ہے کہ ایک ناطق اپنے سابق کی شریعت کو منسوخ کرتا چلا آیا ہے اور یہ سلسلہ امام محمد بن اسماعیل بن جعفر صادقؒ تک پہنچا جو ساتویں ناطق اور ساتویں رسول ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کی شریعت ظاہر کو معطل کیا اور باطن کو کشف کیا عالم الطبائع کو ختم کیا یہی یومِ آخر میں قائم القیامہ ہیں۔
قرآن پاک: نبی یا رسول کا کام یہ ہے کہ وہ جو بات اس کے دل میں آتی ہے اور بہتر معلوم ہوتی ہے وہ لوگوں کو بتا دیتا ہے اور اس کا نام کلامِ الہٰی رکھتا ہے تاکہ لوگوں میں یہ قول اثر کر جائے اور وہ اسے مان لیں نبی کریمﷺ نے اس کا ظاہر بیان کیا جب کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بہ حیثیت صامت کے اس کا باطن بیان کیا جو مقصود اصلی ہے۔
نبی اور امام: نبی کے مقابلہ میں امام کے اوصاف بھی پیش کئے جاتے ہیں:
1: امام علمِ خدا کا خازن اور علمِ نبوت کا وارث ہے۔
2: اس کا جوہر سماوی اور اس کا علم علوی ہوتا ہے۔
3: اس کے نفس پر افلاک کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا تعلق اس عالم سے ہے جو خارج از افلاک ہے۔
4: اس میں اور دوسرے بندگانِ خدا میں وہی فرق ہے جو حیوانِ ناطق اور غیر حیوانِ ناطق میں ہے۔
5: ہر زمانے میں ایک امام کا وجود ضروری ہے۔
6: امام ہی کو دنیا پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔
7: ہر مؤمن پر امام کی معرفت واجب ہے۔
8: امام معصوم ہوتا ہے اس سے خطاء نہیں ہو سکتی۔ 9: امام کی معرفت کے بغیر نجات ناممکن ہے۔
10: باری تعالیٰ کے جو اوصاف قرآنِ مجید میں وارد ہیں ان سے حقیقت میں ائمہ موصوف ہیں۔
11: ائمہ کو شریعت میں ترمیم و تنسیخ کا اختیار ہے۔
بنیادی اعتقادات کے بعد ہم معروف اسماعیلی فرقوں سے متعلق دیگر امور بیان کرتے ہیں:
1: اسماعیلیہ، قرامطہ:
اب دنیا میں موجود نہیں بنیادی اسماعیلی عقائد سے منحرف ہو گئے تھے۔
2: اسماعیلیہ، فاطمی، دروزیہ:
1: امام، خلیفہ کو (نعوذ باللہ ) خدا مانتے ہیں۔
2: حلول اور تاریخ کے قائل ہیں۔
3: اعمالِ شریعت کے قطعی پابند نہیں۔
4: مسجد کی جگہ جماعت خانہ ہے۔
گویا بنیادی اسماعیلی عقائد سے بھی منحرف ہیں۔
3: اسماعیلیہ، فاطمی، مستعلویہ:
1: ان کا ایمان ہے کہ امام طیب کی نسل سے برابر امام ہو رہے ہیں اگرچہ پوشیدہ ہیں لیکن داعیوں کو ان سے برابر ہدایات ملتی رہتی ہیں مہدی آخر الزمان جو قیامت کے دن ظاہر ہوں گے وہ امام طیب کی نسل سے ہوں گے۔
2: (2 سے 5 تک کے لئے دیکھئے مذاہب الاسلام از محمد نجم الغنی صفحہ 292 اور آبِ کوثر صفحہ، 353، 355) اعمال شریعت کے پابند ہیں مگر جمعہ کی نماز باجماعت نہیں پڑھتے۔
ا: اعلانیہ سود لیتے ہیں۔
ب: دیوالی کے موقع پر روشنی کرتے ہیں اور حساب و کتاب کی نئی کتابیں تبدیل کرتے ہیں۔ ہندی مہینوں کے اعتبار سے حساب رکھتے ہیں۔
ج: عیدین و دیگر مبارک ایام کے لئے انکا کیلنڈر اپنا ہے۔
د: مسجد جماعت خانہ اور قبرستان وغیرہ سب علیحدہ ہیں۔
ہ: کچھ عرصہ سے ان کی خواتین نے پردہ اختیار کر لیا ہے۔
3: وضع قطع اور لباس میں اگرچہ مسلمانوں سے قریب تر ہیں مگر ان سب کا انداز امتیازی ہے جس سے وہ آسانی سے پہچانے جاتے ہیں اپنے اسلاف کی تقلید میں سفید لباس پہنتے ہیں۔
4: ان کا کلمہ یہ ہے: لا الہ الا الله محمد رسول الله مولانا على ولى الله وصى رسول الله
5: آذان میں اشهدان محمد رسول الله کے بعد اشهدان مولانا عليه ولی اللہ اور حی علی الفلاح کے بعد حی علی خیر العمل محمد و على خير البشر و عترتها ما خیرا العتر کا اضافہ کرتے ہیں۔
4: اسماعیلیہ، فاطمی، نزاریہ یا آغا خانی:
1: حاضر امام سب کچھ ہے۔
2: اعمالِ شریعت سے مکمل طور پر آزاد ہیں مصلحت وقت کے اعتبار سے حاضر امام کے فرمان خصوصی کے تحت عمل کر لیتے ہیں۔
3: مسجد کی جگہ جماعت خانہ ہے۔ (جس میں خواجہ حسن نظامی کے مطابق ہنود کا اوم اسطرح لکھا جاتا ہے کہ خط کوفی میں "علی" پڑھا جائے)
4:کلمہ حسبِ ذیل ہے اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد رسول الله و اشهد ان على الله (تیسرا حصہ غور طلب ہے)
5: شعار اسلامی کے قطی پابند نہیں صرف نام اسلامی ہوتے ہیں۔
6: حاضر امام مغربی تہذیب کا نمونہ ہیں۔
7: ہر عبادت کا بدل روپیہ پیسہ ہے جو حاضر امام کا حق ہے۔
8: حاضر امام کا دیدار سب سے بڑی عبادت ہے۔
ہم نے اسماعیلیوں کے بنیادی اعتقادات اور مختلف فرقوں کی موجودہ کیفیات حتی المقدور خالی الذہن ہو کر بیان کر دی ہیں امید ہے کہ ان معلومات کی بناء پر ناظرین خود ان کے متعلق رائے قائم کر سکیں گے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق نزاریوں کا عقیدہ:
اسماعیلی عقائد میں امام کے اوصاف کے متعلق گزشتہ باب میں کافی ذکر کیا جا چکا ہے اب سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق نزاریوں کا عقیدہ پیش کیا جاتا ہے جس کا علم اس باب کی تکمیل کے بعد ہوا ہم مرتضیٰ علیؓ کا نور جماعت کے پاس حاضر ناظر بیٹھے ہیں تمہیں صدق دل سے اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیئے کہ ہم ائمہ اس دنیا میں وجود عنصری کو لباس کی طرح پہنتے اور اتارتے ہیں مگر ہمار انور ازلی اور منزل ہے اور وہ ہمیشہ زندہ اور قائم ہے۔ اس لئے تمہیں اس از لی اور منزبل نور ہی کو مد نظر رکھنا چاہئے جو ازلی اور منزبل نور آغا علی شاہ یا ہمارے دادا یا ان کے بزرگوں اور حضرت علیؓ میں تھا وہی نور اب ہم میں ہے ہم ان کے جانشین ہیں نورِ امامت ہمیشہ حاضر و ناظر اور ایک ہے صرف ان عصری اجسام جن کے ذریعہ وہ ظاہر ہوتا ہے نام علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں مولانا مرتضیٰ علیؓ کا تختِ امامت ہمیشہ سے قائم ہے اور تاقیامت قائم رہے گا۔
(ارشاد آغا علی شاہ مؤرخہ 8 ستمبر 1885ء ممبئی اسماعیلیوں کے تاریخی مکتوبات اور قرار دادیں: صفحہ،47)
آغا خانیوں کے کلمہ کے آخری ٹکڑے اشهد ان علی اللہ (نعوذ باللہ) اور مندرجہ بالا وضاحت سے حضرت علیؓ کی جو حیثیت سامنے آتی ہے وہ اس سے مختلف ہے جو قدیم اسماعیلی عقائد میں نظر آتی ہے یہ غالباً ایران میں اثناء عشری اثرات کا نتیجہ ہے اور شاید اسی وجہ سے ایران (ایران میں اسماعیلیوں کو ملایا ملائی اور وسط ایشیاء میں ملائی یا مولائی کہا جاتا ہے) میں نزاری علی و اللہی کہلاتے ہیں۔