سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا آخری خطبہ ان کی بیماری کی شدت اور وفات
علی محمد الصلابیسیدنا معاویہؓ نے اپنے آخری خطبہ کے دوران فرمایا: لوگو! میرا تعلق اس کھیتی کے ساتھ ہے جسے کاٹ دیا گیا، میں نے تم لوگوں پر حکومت کی، میرے بعد جو بھی حکمران آئے گا وہ مجھ سے برا ہی ہو گا، جیسا کہ مجھ سے پہلے کے تمہارے حکمران مجھ سے بہتر تھے، یزید! جب میری موت واقع ہو جائے تو مجھے غسل دینے کے لیے کسی عقل مند آدمی کو مقرر کرنا، اس لیے کہ عقل مند شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مقام و مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ وہ مجھے اچھی طرح غسل دے اور اس دوران بلند آواز سے تکبیر پڑھتا رہے۔ سیدنا معاویہؓ نے فرمایا کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں میں سے ایک کپڑے میں کفن دیا جائے جو میں نے سنبھال کر رکھا ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کٹے ہوئے بال اور ناخن پڑے ہیں وہ انہیں میرے منہ، ناک، آنکھوں اور کانوں میں رکھ دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ کپڑا میرے جسم کے ساتھ رکھنا۔ یزید! والدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی وصیت کو یاد رکھنا، پھر جب تم مجھے میرے کفن میں لپیٹ کر مجھے میری قبر میں رکھ دو تو پھر معاویہ اور ارحم الراحمین کو چھوڑ دو۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 454)
جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا آخری وقت آیا تو وہ یہ اشعار پڑھنے لگے:
لعمری لقد عمرت فی الدہر برہۃ
و دانت لی الدنیا بوقع البواتر
و اعطیت حمر المال و الحکم و النہی
و سلم قماقیم الملوک الجبابر
فاضحی الذی قد کان مما یسرنی
کحلم مضی فی المزمنات الغوابر
فیا لیتنی لم اعن فی الملک ساعۃ
و لم اُعنَ فی لذات عیش نواضر
و کنت کذی طمرین عاش ببلغۃ
من العیش حتی زار ضیق المقابر
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 455)
’’میری زندگی کی قسم! میں نے زمانے میں بہت کم زندگی پائی ہے اور دنیا قاطع تلواروں کے پڑنے سے میرے تابع ہو گئی ہے اور مجھے سرخ مال، حکومت اور دانائی عطا کی گئی ہے اور مجھے سب ظالم و جابر حکمرانوں نے سلام کیا ہے اور جس بات سے میں خوش ہوا کرتا تھا وہ گزرے ہوئے گزشتہ حلم کی طرح ہو گئی ہے۔
کاش میں بادشاہت سے ایک ساعت بھی سروکار نہ رکھتا اور نہ تروتازہ زندگی کی لذات میں وسعت اختیار کرتا۔ اب میری حالت دو چادروں والے شخص کی سی ہے جو صرف گزارے کی زندگی پر جیا ہو اور اب قبر کی تنگی سے دوچار ہو گیا ہو۔‘‘
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ ان کا آدھا مال بیت المال کو لوٹا دیا جائے گویا کہ انہوں نے اسے پاک کرنے کا اِرادہ کیا، اس لیے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کو قسم دی تھی۔ مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ آپ کو آخری عمر میں شدید سردی لگتی تھی، جب آپ لباس پہنتے یا کسی بھاری چیز سے اپنے آپ کو ڈھانپتے تو وہ آپ کو پریشان کرتی، اس پر انہوں نے اپنے لیے پرندوں کے پوٹوں سے کپڑا بنایا مگر بعد ازاں وہ بھی بوجھل ہو گیا تو فرمانے لگے: اے گھر تیرے لیے ہلاکت، میرا یہ حال اور میرا یہ انجام ہے، دنیا اور اس سے محبت کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہو۔
(ایضًا: جلد 11 صفحہ 455)
پھر جب ان کی حالت بگڑ گئی اور لوگ آپ کی موت کی باتیں کرنے لگے تو آپ نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا: میری آنکھوں کو اثمد سرمے سے بھر دو، اور میرے سر میں تیل لگاؤ، انہوں نے ایسا ہی کیا اور آپ کے چہرے کو تیل سے چمکا دیا، پھر سیدنا معاویہؓ کے لیے مجلس آراستہ کی گئی تو فرمایا: مجھے سہارا دو، پھر فرمایا: لوگوں کو اطلاع کرو وہ کھڑے ہو کر میرے لیے سلامتی کی دُعا کریں اور کسی شخص کو بھی روکا نہ جائے، ایک ایک آدمی آتا اور کھڑے کھڑے سلام کرتا تو وہ سیدنا معاویہؓ کو سرمہ اور تیل لگائے دیکھتا اور پھر لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے کہتا: امیر المؤمنین تو صحت مند ہیں۔
(ایضاً: جلد 11 صفحہ 456)
پھر جب وہ لوگ ادھر سے چلے گئے
( ایضاً: جلد 11 صفحہ 456)
تو آپ نے ابو ذویب ہندی شاعر کا یہ شعر پڑھا
لگے:
و تجلدی للشامتین اریہم
انی لریب الدہر لا اتضعضع
و اذا المنیۃ انشبت اظفارہا
الفیت کل تمیمۃ لا تنفع
’’اور خوشیاں منانے والوں کو مضبوطی دکھانا اس لیے تھا کہ میں انہیں دکھا سکوں کہ میں گردش زمانہ کے سامنے عاجزی اختیار کرنے والا نہیں ہوں۔
اور جب موت اپنے پنجے گاڑ دیتی ہے تو تُو دیکھے گا کہ اس وقت کوئی تعویذ فائدہ نہیں دیتا۔‘‘
بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کو کھجلی ہو گئی تھی، اور آپ نے اسی روز وفات پائی۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 456)
جب سیدنا معاویؓہ کی موت کا وقت قریب آیا تو فرمانے لگے: کاش میں ذی طویٰ میں قریش کا ایک عام آدمی ہوتا اور میں نے اس امارت و حکومت سے کچھ نہ لیا ہوتا۔
(ایضاً: جلد 11 صفحہ 456)
سیدنا امیر معاویہؓ نے مثال کے طور پر شاعر کا یہ شعر پڑھا:
ان تناقش یکن نقاشک یا رب
عذابا لاطوق لی بالعذاب
او تجاوز تجاوز العفو فاصفح
عن مسی ء ذنوبہ کالتراب
’’اے میرے رب! اگر تو کرید کرے گا تو تیری کرید میرے لیے عذاب بن جائے گی اور مجھ میں عذاب برداشت کرنے کی طاقت نہیں یا پھر تو عفو و کرم کے ساتھ درگزر فرما دے اور گناہ گار کو معاف فرما دے جس کے گناہ مٹی کی طرح ہیں۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ جب سیدنا معاویہؓ کی موت کا وقت قریب آیا تو سیدنا معاویہؓ کے اہل خانہ آپ کو الٹنے پلٹنے لگے۔ اس پر سیدنا معاویہؓ نے فرمایا: تم کس شیخ کے ساتھ ایسا کرتے ہو اگر اللہ اسے کل عذاب سے نجات دے دے۔
(ایضاً: جلد 11 صفحہ 457)
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آپ کا آخری وقت آیا تو لوگ آپ کے پاس آئے جنہیں دیکھ کر سیدنا معاویہؓ رونے لگ گئے جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمانے لگے: میں موت کے ڈر سے نہیں روتا اور نہ ہی دنیا سے جانے اور سب کچھ یہاں چھوڑ جانے کی وجہ سے روتا ہوں، اصل بات یہ ہے کہ وہاں دو مٹھیاں ہیں، ان میں سے ایک جنت میں اور دوسری جہنم میں، میں نہیں جانتا کہ میں کون سی مٹھی میں ہوں گا۔
(کتاب المحتضرین: صفحہ 199۔ سکب العبرات: جلد 1 صفحہ 190)
مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر جب ہوش آیا تو اپنے اہل خانہ سے فرمانے لگے
اللہ سے ڈرو، یقیناً جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اسے بچا لے گا اور جو اس سے نہیں ڈرے گا وہ اسے نہیں بچائے گا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 245)
جب سیدنا معاویہؓ کا آخری وقت آیا تو کبھی ایک رخسار زمین پر رکھتے اور کبھی دوسرا۔ اس دوران روتے جاتے اور فرماتے: میرے اللہ! تو نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ۞
(سورۃ النساء آیت 48)
ترجمہ: بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔
’’یقیناً اللہ یہ گناہ معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے علاوہ وہ جسے چاہے معاف فرما دے۔‘‘
یا اللہ! مجھے ان لوگوں سے کر دے جنہیں اگر تو چاہے تو معاف کر دے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 457)
اس دن انہوں نے یہ دعا بھی فرمائی: ’’اے اللہ! لغزش و گناہ کو معاف فرما اور اپنے حلم سے اس کے جہل سے درگزر فرما جو تیرے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتا بلاشبہ تو وسیع مغفرت والا ہے اور گناہ گار کے لیے اپنے گناہ سے تیری طرف بھاگنے کے علاوہ اور کوئی جگہ نہیں۔‘‘ اس کے بعد ان کی وفات ہو گئی۔
(ایضاً: جلد 11 صفحہ 457)
دوسری روایت میں آتا ہے: یا اللہ! میں تجھ سے ملاقات کرنے کو پسند کرتا ہوں تو بھی مجھ سے ملاقات کو پسند فرما۔
(تاریخ ابن خلدون: جلد 3 صفحہ 21)
اللہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے۔