سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کی نماز جنازہ پڑھانے والا
علی محمد الصلابیمؤرخ طبری فرماتے ہیں: اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رجب 60 ہجری میں وفات پائی۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 241)
البتہ ان کی وفات کے وقت میں اختلاف ہے۔
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحیح قول کی رُو سے انہوں نے رجب 60 ہجری میں وفات پائی
(الاصابۃ: جلد 6 صفحہ 155)
اور ضحاک بن قیس فہریؒ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، ان کی وفات کے وقت یزید ان کے پاس موجود نہیں تھا۔
(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 245)
ضحاک بن قیسؒ منبر پر بیٹھ گئے اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا کفن ان کے ہاتھوں میں تھا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: یقیناً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عربوں کی فصیل، مدد اور نصیبہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے سے فتنے کا خاتمہ فرمایا۔ انہیں بندوں کا حکمران بنایا اور ان کی وجہ سے ملکوں کو فتح کرایا، آگاہ رہو کہ اب وہ فوت ہو چکے ہیں اور یہ ان کا کفن ہے اور ہم انہیں اس میں لپیٹنے والے ہیں اور انہیں ان کی قبر میں اتارنے والے ہیں اور ان کے اور ان کے عمل کے درمیان سے الگ ہونے والے ہیں، پھر قیامت تک برزخ کا عالم ہو گا، جو شخص انہیں دیکھنا چاہتا ہے وہ نماز ظہر کے وقت حاضر ہو جائے، پھر اس نے یزید کے پاس ایلچی بھیجا۔ مؤرخین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یزید اپنے باپ کی وفات کے وقت موجود تھا یا نہیں؟ اس بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ یزید اپنے باپ کی وفات کے بعد واپس آیا۔
(ایضاً: جلد 6 صفحہ 246)
جب یزید کو اپنے باپ کی وفات کی خبر ملی تو اس نے یہ اشعار پڑھے:
جاء البرید بقرطاس یخب بہ
فاوجس القلب من قرطاسہ فزعا
قلنا لک الویل ماذا فی کتابکم؟
قالوا الخلیفۃ امس مثبتا وجعا
فمادت الارض او کادت تمیدبنا
کان اغبر من ارکانھا انقطعا
من لا تزال نفسہ توفی علی شرف
توشک مقالید تلک النفس ان تقعا
لما انتہینا وباب الدار منصفق
و صوت رملۃ
(رملۃ بنت معاویۃ بن ابوسفیان کی بیٹی، عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیوی)
ریع القلب فانصدعا
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 246)
’’ایلچی جلدی سے ایک کاغذ لایا ہے اور دل نے اس کے کاغذ سے گھبراہٹ محسوس کی ہے۔
ہم نے کہا: تو ہلاک ہو جائے تیرے کاغذ میں کیا لکھا ہے؟ اس نے کہا: خلیفہ بڑی تکلیف کی حالت میں ہے۔
یہ سن کر زمین گھوم گئی یا قریب تھا کہ وہ ہمارے ساتھ گھوم جاتی گویا کہ اس کے خاکستری ستون اکھڑ گئے ہیں۔
جس کا نفس ہمیشہ عز و شرف حاصل کرتا رہتا تھا قریب ہے کہ اب اس نفس کی چابیاں اس کے ہاتھ سے گر جائیں۔
جب ہم پہنچے تو گھر کا دروازہ رملہ کی آواز کی وجہ سے ہل رہا تھا جس سے دل ڈر کر پھٹ گیا۔‘‘