سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کافر کہنے والوں کے ساتھ…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کافر کہنے والوں کے ساتھ کھانا پینا، اُٹھنا، بیٹھنا، ان سے شادی بیاہ کرنا، ایسے پیر سے بیعت کرنا


صفحہ 2 از 2

فمنهما شرف الاسلام و شرف الصحبة وشرف النسب وشرف مصاهرته له المستلزمة المرافقة له في الجنة و لكونه معه فيها

ترمذى وغيره نے خاص سیدنا امیر معاویؓہ کی شان میں باب باندھا ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

عن النبي انه قال لمعاوية اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به

حضور اکرمﷺ نے فرمایا اے اللہ! اس کو ہادی اور مہدی بنا اور اس سے لوگوں کو ہدایت دے۔

دوسری حدیث میں ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطابؓ نے سیدنا عمیر بن سعدؓ کو حمص سے معزول کیا اور سیدنا امیر معاویؓہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا سیدنا عمیرؓ کو معزول کیا اور سیدنا امیر معاویہؓ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا سیدنا عمیرؓ کو منظور کیا اور سیدنا امیر معاویہؓ کو ولی بنایا حضرت عمیرؓ نے کہا سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کا ذکر خیر سے کرو کہ میں نے حضور اکرمﷺ سے سنا ہے، فرماتے تھے کہا۔ کہ اے اللہ! اس سے لوگوں کو ہدایت دے۔ بفرض غلط اگر سیدنا امیر معاویہؓ کافر ہوتے تو ان کی شان میں حدیثیں مروی نہ ہوتیں۔

اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم دیکھئے اور سرکارﷺ کے فرمان کو کتنا سچا اور یقینی مانتے تھے کہ فرماتے ہیں سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ ایک تو عہدے سے معزول بھی ہوئے پھر بھی فرماتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا ذکر خیر ہی کے ساتھ کرو، کیونکہ سرکارﷺ نے خاص امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا اللہ! ان سے مؤمنین کو ہدایت دے۔ تو اگر سیدنا امیر معاویہؓ میں کوئی خامی ہوتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس قدر احتیاط نہ برتتے۔

سیدنا امیر معاویہؓ کی شان بہت اونچی ہے، جن کو سرکارﷺ نے اتنا چاہا، جن کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اتنا رتبہ دیا سرکار دو عالمﷺ نے ہر صحابیؓ کی شان میں فرمایا

اصحابی کالنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم

یعنی میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کی طرح ہیں تم ان کی اقتدا کرو ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے۔

یہ پیر پکا خبیث یا رافضی (شیعہ) معلوم ہوتا ہے اور شیطان کا پیر ہے، اس سے لوگ گمراہ ہوں گے، ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے نہ کہ راہِ راب ہوں گے، اس سے مرید ہونا حرام و ناجائز ہے، اور اس کے کفریہ عقائد کو جانتے ہوئے مرید ہونا کفر ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں اس سے بڑھ کر توہین کیا ہو سکتی ہے کہ اُن کو بالکل کافر ہی بنا دیا۔

سیدنا امیر معاوؓیہ پر لعن وطعن کرنے کے بابت علامہ شہاب الدین خفاجی نسيم الرياض شرح شفاء میں فرماتے ہیں

ومن يكون يطعن في معاوية فذلك كلب من كلاب الهاوية

جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے۔

ہاں یزید کی تکفیر و لعن کے بارے میں اختلاف ہے ہمارے امام اعظمؒ کا مذہب یہ ہے اس بارے میں کہ احتیاطاً سکوت برتے، یزید سے فسق و فجور متواتر ہیں کفر متواتر نہیں اور بحال احتمال نسبت کبیرہ بھی جائز نہیں نہ کہ تکفیر۔ بہرحال ہم حنفی مقلد ہیں، ہم اپنے امام کی تقلید کرتے ہوئے لعن و تکفیر میں سکوت ہی اختیار کریں گے۔

رہی یہ بات کہ یزید کو خلیفہ بنانے کے سبب حضرت امیر معاویہؓ پر طعن تو حرام اشد حرام ہے۔ اولاً تو سیدنا امیر معاویہؓ کو یزید کے حالات بخوبی معلوم نہ تھے، ثانیاً سیدنا امیر معاویہؓ خود مجتہد ہیں اور مجتہد کو اجتہاد میں صواب پر دو اجر اور اجتہاد میں خطاء پر ایک اجر ملتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے اذا حكم الحاكم فاجتهد فاصاب فله اجران و اذا حكم فاجتهد فاخطا فله اجر واحد

یہ پیر بالکل بے علم ہے، اور پیر کا یہ کہنا کہ جو یزید اور سیدنا امیر معاویہؓ کو کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہے، شرع پر سخت جرأت ہے اور سینکڑوں افراد بلکہ اُمت محمدیہ کو کافر بنانا ہے اور اس پر معاونین و مخلصین کا خاموش تماشائی بنا رہنا عجب مضحکہ خیز ہے۔

یہ پیر کافر و مرتد ہے، اس پر فرض ہے کہ صدق دل سے توبہ کرے اور تجدیدِ ایمان اور بیوی رکھتا ہے تو تجدیدِ نکاح بھی کرے اور معاونین و مخلصین جو اس پر راضی ہیں ان کو بھی مذکورہ حکم پر تعمیل واجب ہے۔ انہیں جیسے لوگوں سے متعلق حدیث شریف میں ہے

ان الله اختارني و اختار لى اصحابا واصهارا وسيأتي قوم يسبونهم وينتقصونهم فلا تجالسوهم ولا تشار بوهم ولا تواكلوهم ولا تناكحوهم

ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میرے صحابہؓ اور سسرالی رشتہ داروں کو چن لیا اور عنقریب ایک قوم آئے گی کہ انہیں گالی دے گی اور ان کی تنقیص کرے گی تو اُن کے پاس نہ بیٹھو اور نہ اُن کے ساتھ کھاؤ پیو اور نہ اُن کے ساتھ شادی بیاہ کرو۔

(فتاویٰ بریلی شریف: صفحہ، 271)


صفحہ 2 از 2