دوروزیہ مسلمانوں سے بد ترین دشمنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دوروزیہ مسلمانوں سے بد ترین دشمنی

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 3

امام فاضل فخر الدین رازیؒ رے میں فقہ کے متعلق درس دیا کرتے تھے ایک مرتبہ انہوں نے اسماعیلیہ سے متعلق تنقید کی اس کی اطلاع الموت جس کو عقاب کا آشیانہ کہا جاتا تھا پہنچی اور فوراً ایک فدائی کو امام کی تنبیہ کے لیے مامور کیا گیا فدائی نے رے پہنچ کر خود کو جناب امام کے درس میں شامل کر لیا سات ماہ کے انتظار کے بعد امام کو اپنے حجرہ میں تنہا پاکر ان کی چھاتی پر سوار ہو کر ان کے گلے پر خنجر رکھ دیا جناب امام کے دریافت کرنے پر فدائی نے کہا کہ تم کو اس لیے مارا جاتا ہے کہ تم نے اسماعیلیہ کی ملامت کی ہے جناب امام نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ ایسا نہ کریں گے فدائی نے ان کی بات کو ماننے سے اس وقت تک انکار کیا جب تک کہ انہوں نے خداوند الموت سے وظیفہ لینا قبول نہ کر لیا تاکہ وہ آئندہ نمک حرامی نہ کر سکیں۔ 

(صفحہ، 341 The Spirit of islam )

اس واقعہ کو اسماعیلی مؤرخین نے بڑے افتخار کے ساتھ لکھا ہے حسن بن صباح سے متعلق تفصیلی حالات جی براؤن کی تاریخ ادبیات ایران انگریزی اور فان ہمیر کی تاریخغ حشیشین میں دیکھے جا سکتے ہیں ان دونوں مصنفوں نے سلسلہ وار ان ناموں کی فہرست دی ہے جن کو اسماعیلی فدائیوں نے قتل کیا فدائی تنظیم سے متعلق خود اسماعیلی تاریخ سے اقتباس پیش کیا جاتا ہے: سیدنا راشد الدین سنان نے 558ھ، 598ھ 1162ء 1193ء) جو شام میں اسماعیلی دعوت کے انچارج تھے سب سے پہلے اسماعیلیوں کو اندرونی طور پر منظم اور متحد کیا دوسری طرف بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فدائی بڑے بہادر تھے اور امام الوقت کے نام پر جان قربان کرنے سے دریغ نہ کرتے تھے۔ یہ مختلف زبانیں جانتے تھے اور بڑے بڑے حکمرانوں کے خفیہ راز معلوم کرنے کے ماہر تھے سیدنا سنان نے مختلف اسماعیلی قلعوں کے مابین پیغام رسانی کے لیے کبوتروں کو تربیت دے رکھی تھی اور اس پیغام رسانی کے لیے ایک خفیہ زبان استعمال کی جاتی تھی اس طرح آپ کبوتروں سے موجودہ دور کے وائرلیس کا کام لیتے تھے اور اس ذریعہ سے چونکہ آپ کو دشمنوں کے پروگراموں کی اطلاح پہلے سے مل جاتی تھی اسی لیے دشمن کے منصوبوں کو خاک میں ملانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی۔

(تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ: حصہ، سوئم صفحہ، 68 69)

 مندرجہ بالا اقتباس صاف ظاہر کر رہا ہے کہ شام میں چھٹی صدی ہجری میں اسماعیلی فدائیوں نے جو قتل و غارت گری کی اس کا تعلق راشد الدین سنان کی تنظیم سے تھا راشد الدین سنان کو تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ میں نزاری امام حسن علی ذکرہ السلام 557ھ، 561 ہجری، 1162ء، 1266ء اور امام اعلاء محمد 561ھ، 607ھ، 1166ء، 1210ء)

 کے زمانہ میں شام میں اسماعیلی دعوت کا انچارج بتایا گیا ہے اور لکھا ہے: آپ راشد الدین سنان نے صلاح الدین ایوبی 567ھ، 607ھ، 1166ء، 1193ء والی مصر اور صلیبیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

(ایضاً: صفحہ، 67)

تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ میں حسن بن صباح کے ذکر میں کسی فدائی تنظیم کے قیام کے متعلق بالکل خاموشی اختیار کی گئی ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ الموت کی اسماعیلی ریاست سے متعلق ہمارے پاس کوئی ٹھوس اسماعیلی مأخذ نہیں ہے۔

(تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ: حصہ، سوئم صفحہ، 57)

گویا اس طرح اقرار سے کہ حسن بن صباح نے بھی کوئی فدائی تنظیم قائم کی تھی پہلو تہی کی گئی ہے لیکن قلعہ الموت سے ہدایات پر فدائیوں کی ہلاکت خیزیوں کے واقعات کسی ثبوت کے محتاج نہیں

 قریب ہے یار روزِ محشر چھپے گا کشتیوں کا خون کیوں کر  

جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستین کا 

خالص اسماعیلی ذرائع سے اقتباس پیش کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اب ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا ہے جو حسن بن صباح کی تمام ہلاکت خیزیوں کا جواز پیش کر رہا ہے اور اسماعیلیہ تو اس کو سیدنا حسن بن صباح قدس سرہ لکھنے لگے ہیں:

بہ بیں تفاوت رہ از کجا است تا بہ کجا۔

 ہمیں اس کا پورا پورا احساس ہے کہ عامتہ المسلمین کو اسماعیلی فدائیوں کی ہلاکت خیزیوں کا علم اب تک پورے طور سے نہ ہو سکا قریباً 60، 70 سال قبل مولانا عبد الحلیم شرر نے فردوس بریں اور سوانحِ عمری حسن بن صباح میں ان ہلاکت خیزیوں اور ان کے محرکات پر کافی روشنی ڈالی تھی مگر یہ کتابیں ادبی حلقوں تک محدود رہیں کوئی مستقل کتاب اردو زبان میں فدائی تنظیم سے متعلق نہیں لکھی گئی حالات کے اعتبار سے اس کی ضرورت بھی نہ تھی اب بدلی ہوئی فضاء میں جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے یہ ضرورت محسوس ہوئی لیکن ہمارا مقصد تو صرف اسماعیلیوں کا منفی کردار پیش کرنا ہے لہٰذا حسن بن صباح کی فدائی تنظیم کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

اب تک اسماعیلیوں میں صرف داعی اور رفیق ہوتے تھے داعی دعوت کے خفیہ طریق کار سے واقف ہوتے تھے ان کا کام اسماعیلی دعوت کی طرف راغب کرنا تھا جب کہ رفیق زیرِ تربیت افراد ہوتے تھے اس خفیہ جماعت میں ان دو قسم کے افراد کی اکثریت تھی حسن بن صباح نے اپنے مقاصد کے برآری کے لیے ایک تیسرے طبقہ کی ضرورت سمجھی جو بلا سوچے سمجھے اور برے سے برے انجام سے لاپرواہ ہو کر اپنے آقا کے احکامات کی تعمیل کرے قاتلوں کی اس برادری کا سربراہ سیدنا کہلاتا تھا جسے عام طور پر شیخ الجبال بھی کہتے تھے فدائی اس کے محافظ تھے اور اس کے قتل و غارت گری کے احکامات کی بے دھڑک تعمیل کرتے تھے۔

(صفحہ، 318 :A history of the saracens)

 فدائیوں کے متعلق سید امیر علی لکھتے ہیں: عیسائی حکمرانوں نے بھی الموتیٰ قاتلوں کو اپنے دشمنوں سے نجات پانے کے لیے استعمال کیا انگلستان کے ریچرڈ نے Conrad of Montserrat کو الموت کے ایک فدائی کے ذریعے قتل کرایا حتیٰ کہ ایک پوپ نے بھی Frederick Barbaross گلو خلاصی کے لیے ایک فدائی کو استعمال کیا اگرچہ وہ ناکام رہا۔

(صفحہ، 342 :The Spirit of islam) 

اسماعیلی فدائیوں کی یہ کارگزاریاں جو ان کے ائمہ معصومین کے ایماء پر ہوتی رہیں ان کے سیاہ اعمال نامہ کو لبریز کرنے کے لیے کچھ کم نہ تھیں کہ انہوں نے خلافتِ عباسیہ کی تباہی کو بھی بصدِ فخر ایک شاندار کارنامہ کی حیثیت سے اپنے ذمے لے لیا خلافتِ عباسیہ کی تباہی تو ایسی تھی کہ سعدیؒ کو کہنا پڑا:

آسمان راحق بود گر خوں بہ بارو برز میں

بر زوال ملک مستعصم امیر المؤمنین 

صفحہ 2 از 3