دوروزیہ مسلمانوں سے بد ترین دشمنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دوروزیہ مسلمانوں سے بد ترین دشمنی

  سید تنظیم حسین

صفحہ 3 از 3

اے محمد گر قیامت سربروں آری زخاک

سربروں آرو قیامت درمیان خلق ہیں

لیکن نزاری اسماعیلیوں نے بجائے اس کے کہ اپنا داغدار دامن چھپاتے اس کو بھی اپنے ماتھے کا ٹیکہ بنا لیا وہ اس طرح کے خواجہ نصیر الدین طوسی کو جو اس تباہی کے اہم کردار ہیں الموت کا تربیت یافتہ بلکہ نزاری امام علاؤ الدین محمد 618ھ، 653ھ، 1221ء 1255ء کا مشیر بتلایا گیا ہے۔ 

(تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ: حصہ، سوئم صفحہ، 87)

آپ نصیر الدین طوسی نے سب سے پہلے قبستان کے اسماعیلی گورنر ناصر الدین عبد الرحیم بن منصور جو خود ایک عالم و فاضل تھے کی ملازمت کی اور اسی کے نام پر اخلاقِ ناصری لکھی اس کے بعد طوسی الموت چلے گئے اور وہاں اسماعیلی امام کی زیرِ سرپرستی علم و ادب کا کام کرنے لگے آپ نے اسماعیلی عقائد پر متعدد کتابیں لکھیں جن میں سے روضت التسلیم تصورات مطلوب المؤمنین اور مرات المحققین خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ریاست الموت کے خاتمہ کے بعد نصیر الدین طوسی نے منگول سردار ہلاکو خان کی ملازمت اختیار کر لی۔

(2: تاریخ ائمہ اسماعیلیہ: صفحہ، 92، 93)

 نصیر الدین طوسی نے مسلمانوں کی تباہی کے لیے جو کردار ادا کیا ہے وہ کسی بھی ذی فہم مسلمان بلکہ انسان کے لیے باعثِ فخر نہیں ہو سکتا مگر کیا کیا جائے جب بھی مسلمانوں کی تباہی کا ذکر آتا ہے تو در و دیوار سے آواز آنے لگتی ہے:

(سعدی از دست خویشتن فریاد)


صفحہ 3 از 3