حسن بن صباح کی زندگی ایک مستشرق کی نظر میں
سید تنظیم حسینایک سوال:
آج بیسویں صدی کا نوجوان جب یہ پوچھتا ہے کہ کیا یہ حشیشین مسلمان تھے؟ تو جواب دیتے وقت نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور زبان سے الفاظ کی جگہ آنکھوں سے جوئے خون جاری ہو جاتی ہے۔
حسن بن صباح کی زندگی ایک مستشرق کی نظر میں:
چلتے چلتے فان ہمیر کے قلم سے حسن بن صباح کی زندگی کا نچوڑ بھی سن لیجئے:
after a blood stained reign of thirty five years during which he not only never quitted the castle of Alamunt but had never removed more than twice during this long period from his chamber to the terrace Immovable in one spot and persist- ing in one plan he meditated the revolutions of empires by carnage and rebellion or wrote rules for his order and the catechism of the secret doc trine of libertinism and impiety Fixed in the cen with the pen in his hand tre of his power
he guided the daggers of his Assasins.
ترجمہ: حسن بن صباح خون ناحق سے داغدار 35 سالہ حکومت کے بعد قدرتی موت مرا اس عرصہ میں اس نے قلعہ الموت سے پاؤں باہر نہیں نکالا حتیٰ کہ وہ اپنے حجرہ سے بھی صرف دوبار صرف ٹیریس روش تک آیا وہ اپنی جگہ سے ہلتا تک نہ تھا اور تمام وقت یا تو حکومتوں میں قتل و غارت اور بغاوت کے ذریعہ انقلاب لانے کی تدبیریں سوچتا رہتا تھا یا اپنی تنظیم کے قواعد و ضوابط مرتب کرتا رہتا تھا یا اپنے خفیہ اعتقاد رندی و سرمستی سے متعلق تنظیم کے لئے سوال و جواب ترتیب دیتا رہتا تھا وہ قلم ہاتھ میں لئے ہوئے اپنی تعلیم کے فدائیوں کے خنجروں کے لئے سینوں کی نشاندہی کرتا تھا۔
داعی حسن بن صباح اور اس کے بعد ایک امام حسن علی ذکرہ السلام کے متعلق مشہور مؤرخ امیر علی لکھتے ہیں:
یہ مجنوں انقلابی حسن الموتیٰ تاریخ میں علی ذکرہ السلام کے نام سے مشہور ہے جو بگڑ کر ذکر السلام ہو گیا اس وقت سے الموت کی تباہی تک ان دونوں حسنوں حسن بن صباح اور حسن علی ذکرہ السلام کے مریدین نے بے گناہ معاشرہ عوام سے ظلم و ستم کے لئے ذرا سے بھی پچھتاوے کے احساس کے بغیر جنگ جاری رکھی وہ حقیقت میں دنیائے اسلام کے (Nihilists زار روس کے زمانہ میں دہشت گردوں کی تحریک جس کا مقصد معاشرہ کو تلپٹ کر کے نا
انظام قائم کرنا تھا) تھے ان کے خنجروں کے عیسائی اور مسلمان دونوں شکار ہوئے۔
(spirit of islam: صفحہ، 342)
برصغیر میں نزاری امامت کا منفی کردار:
جیسا کہ گزشتہ باب میں ذکر کیا گیا ہے نزاری امامت گزشتہ صدی (1947ء) میں ایران سے برصغیر ہند و پاک میں منتقل ہوئی اس سلسلہ میں ہم Encycleopae Britannica dia سے اقتباس پیش کرتے ہیں:
آخر کار فتح علی شاه قاچار ان (امام حسن علی شاہ آغا خان اول) سے شدید طور پر ناراض ہو گیا وہ ایران سے بھاگے اور بھارتی قلمرو میں پناہ طلب کی اور یہ چاہا کہ ممبئی کو اپنا مرکز بنا کر ہندوستان میں مستقل طور پر قیام کریں ایران سے افغانستان کے راستہ آتے ہوئے ان کو برطانوی فوج کے ساتھ خدمات انجام دینے کا موقع ملا انہوں نے خود کو قطعی طور پر برطانیہ سے وابستہ کر لیا کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے تسخیر سندھ کے سلسلہ میں گراں قدر خدمات انجام دیں جب نیپیر سر چارلسن نر فاتح سندھ کو سرحدی قبائل کو زیر کرنے کے لئے ان کی مدد کی ضرورت پیش آئی کیوں کہ ان میں سے بھاری تعداد کے وہ روحانی پیشوا تھے جب وہ ہندوستان میں مستقل طور پر آباد ہو گئے تو ان کو اسماعیلیوں کے سربراہ کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا اور ان کو ہز بائنس کا خطاب دیا گیا ۔ (1842ء)
اسماعیلیوں کے امام مذکور نے ایران میں کیا کیا تھا (صفحہ، 332 جلد اول: آغا خان اول دیکھیئے)
(An Appeal to Ali soloman Khan by karim Gulamali Encyclopeadia Britanica)
جو ان کو وہاں سے آٹھ سو سال امامت کا مرکز اسی طرح چھوڑنا پڑا تھا اور افغانستان اور اس کے بعد سندھ میں کس نوعیت کی خدمات جلیلہ انجام دی ہوں گی کسی تشریح کی محتاج نہیں حکومت بر طانیہ کی ان پر الطاف و اکرام کی بارش اس کا منہ بولتا ثبوت ہے یوں بھی عقل مند را اشارہ کافی است۔ تاریخِ ائمہ اسماعیلیہ میں نزاری امامت کے ایران سے منتقلی اور ہندوستان میں اسماعیلی ائمہ معصومین کی سرگرمیوں کو کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے برطانوی غلامی سے آزادی کے بعد برطانوی اقتدار کی کامیائی اور بقاء کے لئے خدمات کا ذکر بڑی ہمت کی بات ہے اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو جن حالات میں وہ ایران سے آئے تھے ان میں ان کی سلامتی اس میں تھی کہ وہ حکومت برطانیہ کا ساتھ دیں چاہے وہ ملک جہان و پناه حاصل کرنے آئے تھے غلام ہی ہو جائے اور خود مسلمانوں کا اقتدار ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے ایسے ہی موقعوں کے لئے کہا گیا ہے:
قومے فروختند و چه ارزان فروختند۔
نزاری اسماعیلیوں کا منفی کردار اب ناظرین کے سامنے ہے اس سلسلہ میں ہمارے پاس بہت مواد ہے اس میں انتخاب بڑا مشکل رہا کہ اب بھی بہت سا میٹیریل ہے جو پیش کرنے کے قابل ہے مگر طوالت کے خوف سے اب ہم برطانیہ سے وفاداری اور اسلام دشمنی کا ایک اور ثبوت پیش کرتے ہیں:
خلافت عثمانیہ کے خلاف آغا خان سوئم کی برطانیہ نوازی:
ہم بتا چکے ہیں کہ آغا خان اوّل نے کسی طرح سندھ کو غلام بنانے میں انگریزوں کی مدد کی تھی آغا خانیوں نے برطانیہ نوازی کا سلسلہ جاری رکھا حتیٰ کہ آغا خان سوئم نے اس صدی کے شروع میں جنگِ بلقاں کے دوران ایک مضمون لکھا جس میں ترکوں کو سر زمینِ یورپ چھوڑ کر ایشیاء چلے جانے کا مشورہ دیا جس سے خلافتِ عثمانیہ اور مسلمانوں کا وقار شدید طور پر مجروح ہوا اور مسلمانانِ عالم میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی علامہ شبلی نے اس سلسلے میں دو نظمیں لکھیں (کلیاتِ شبلی اُردو: صفحہ، 57، 58) ایک اردو میں دوسری فارسی میں فارسی نظم کا مقطع جو خواجہ شیرازؒ سے مستعار ہے معنیٰ خیز ہے:
پدرم روضہ رضواں بدوگندم بفروخت
ناخلف ہاشم اگر من بہ جوے نفر و شم
ترجمہ: باپ نےجنت کو گندم کے دو دانوں کے بدلہ بیچ دیا میں ناخلف ہوں گا اگر جو کے بدلے میں نہ بیچ دوں
اس مقطع کے بعد کچھ کہنے کی حاجت نہیں رہتی ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے۔
فاطمیوں یا مغربی اسماعیلیوں کا منفی کردار:
گزشتہ باب میں ہم ذکر کر آئے ہیں کہ فاطمیوں کو 297ھ، 909ء میں دنیاوی اقتدار مل گیا اور ان کی حکومت 567ھ، 1172ء تک رہی لہٰذا ہم نے فاطمی ائمہ، خلفاء کے لئے ایک علیحدہ باب رکھا ہے جس میں ان کے دور کو شخصی حکمرانی کے مقابل پیش کیا گیا ہے یہاں پر صرف چند امور کا مختصر ذکر کیا جائے گا:
ہجر اسود کی بے حرمتی میں فاطمیوں، مغربی، اسماعیلیوں کا تعاون:
قرامطہ کی ہلاکت خیزیوں اور حجرِ اسود کی بے حرمتی کے ساتھ ساتھ حاجیوں کے قتلِ عام کا ذکر ہم گزشتہ صفحات میں کر آئے ہیں یہ ایسے کام ہیں جن کی توقع دشمنانِ اسلام سے بھی نہیں کی جا سکتی فاطمی خلیفہ المعز لدين اللہ 341ھ، 365ھ، 952ء، 976ء نے قرامطہ کے ان نازیبا و قابلِ ملامت افعال کو نظرِ استحسان سے دیکھا وہ حسن قرمطی کے نام اپنے خط میں لکھتا ہے:
تو کیوں اپنے دادا ابو سعید الجنانی اور اپنے چچا ابو طاہر سلیمان کی پیروی نہیں کرتا کیا تو نے ان کی کتابیں نہیں پڑھیں کیا تو نہیں جانتا کہ وہ ہمارے ایسے بندے تھے جس کا عزم قوی عمل نیک اور راستہ سیدھا تھا ہماری تائید اور برکت سے انہوں نے بنو عباس کا مقابلہ کر کے ملک حاصل کیا اور سردار بن گئے اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایت کی نظر رکھتا تھا یہاں تک کہ وہ دنیا سے گزر کر جنت میں جا بسے ان کی زندگی اچھی گزری ان کے مرنے کے بعد ان کے افعال مفقود ہو گئے ان کے لئے آخرت میں خوش حالی اور اچھا ٹھکانہ ہے تو نہیں جانتا تھا کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔
لیکن ہم نے اس کو ایک نور بنایا ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں اس کے ذریعہ دین کا راستہ و دکھلاتے ہیں۔
(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، اول صفحہ، 180)
حسن قرمطی جس کو یہ خط لکھا گیا او طاہر سلیمان کا جس کی سرکردگی میں 327ھ 974ء میں حجرِ اسود کی بے حرمتی کی گئی تھی اور حاجیوں کا قتل عام کیا گیا تھا بھتیجا تھا یہ خط 363ھ، 974ء میں لکھا گیا اس سے فاطمیوں اور قرامطہ میں قریبی تعلق کی تصدیق ہوتی ہے فاطمی ائمہ جن کو نہ صرف فاطمی بلکہ مامور من اللہ اور معصوم ہونے کا دعویٰ تھا ان کا حجرِ اسود کی بے حرمتی اور حاجیوں کے قتلِ عام کو نظرِ استحسان سے دیکھنا یہ کہنے کے لئے مجبور کر دیتا ہے:
چو کفر از کعبہ بر خیز و کجا ماند مسلمانی۔
مغربی اسماعیلیوں کا صلیبیوں سے تعاون:
ڈاکٹر زاہد علی تاریخ فاطمیون مصر میں لکھتے ہیں:
اسی زمانے میں صلیبیوں کے حملے شروع ہوئے بنو فاطمہ کو دوسری اسلامی ریاستوں سے اتحاد کر کے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے تھا مگر انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ صلیبوں سے مل گئے جنہوں نے ان سے بے وفائی کی اور عین وقت پر ان کی دوستی چھوڑ دی۔
(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 46، 299)
(تفصیلات تاریخِ ہذا میں دیکھی جاسکتی ہیں)
سلوسٹر ڈی ساسی کتنے کرب سے لکھتا ہے۔
One of the most illustrious most certainly of the victims of the fury of Ismailies is Saladin It is true this great prince escaped their attacks but he was twice on the spot of losing his life by these wretch's daggers. (Note D)
(The history of Assasins page: 295)
ترجمہ: یقینی طور پر اسماعیلیہ کے غیظ و غضب کے سب سے نامور شکاروں میں سے ایک صلاح الدین ہے یہ صحیح ہے کہ وہ ان کے حملوں سے محفوظ رہا۔ لیکن دو مرتبہ ایسا ہوا کہ قریب تھا کہ وہ ان بدبختوں کے خنجروں سے اپنی جان سے ہاتھ دھو نہ بیٹھتا۔