سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تاثرات
علی محمد الصلابیعامر بن مسعود جہنی کہتا ہے: ہم مسجد میں تھے کہ اس دوران ہمیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر ملی تو ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو وہ کھانا کھانے کے لیے دسترخوان پر بیٹھے تھے، ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے مگر ابھی تک کھانا نہیں لگایا گیا تھا۔ ہم نے کہا: ابن عباس! کیا آپ کو یہ خبر نہیں ملی؟ انہوں نے کہا: کون سی خبر؟ ہم نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے غلام کو دسترخوان اٹھانے کا حکم دیا اور پھر کچھ دیر تک سر جھکا کر خاموشی سے بیٹھے رہے۔ پھر فرمانے لگے: ایک پہاڑ نے حرکت کی اور پھر سارے کا سارا سمندر میں جا گرا۔
(تنزیہ خال المؤمنین معاویہ بن ابی سفیان: صفحہ 113)
قاضی ابو یعلیٰ نے ان کی موت کی خبر کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد لکھا: یا اللہ! معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے تیری رحمت بڑی وسیع ہے اور تو ان سے بہتر انداز میں درگزر فرما سکتا ہے۔
(ایضاً: صفحہ 113)