فاطمی ائمہ معصومین کا سیاسی کردار اور ان سے متعلق غیر یقینی…

فاطمی ائمہ معصومین کا سیاسی کردار اور ان سے متعلق غیر یقینی معلومات

  سید تنظیم حسین

صفحہ 1 از 4

فاطمی ائمہ معصومین کا سیاسی کردار اور ان سے متعلق غیر یقینی معلومات

اس باب میں ہم مغربی اسماعیلیوں کے فاطمی خلفاء کا ذکر کریں گے جن کو مامور من اللہ اور امام معصوم کہا جاتا ہے دراصل دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان کا کردار بہ حیثیت ایک حکمران کے دنیا کے عام حکمرانوں سے مختلف رہا؟

امام خلیفہ عبید الله المہدی سن 297ھ سن 322ھ، سن 909ء سن 934ء:

1: عبید اللہ المہدی نے سن 297ھ سن 909ء میں مغربِ اقصیٰ میں اقتدار سنبھالا جس کا صدر مقام رقاده مراکش اور برقہ کے درمیان تھا اقتدار کی اس سیاسی جدوجہد میں ابو عبداللہ شیعی نے اس کا ساتھ کچھ اس سے زیادہ دیا جتنا کہ ابو مسلم خراسانی نے عباسیوں کا دیا تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ابو عبداللہ کے ساتھ بھی وہی ہوا جو ابو مسلم خراسانی کے ساتھ ابو العباس السفاح نے کیا بلکہ امام عبید اللہ نے ابو عبداللہ ہی کو نہیں اس کے بھائی کو بھی قتل کرا دیا اور طرفہ تماشا یہ کہ عبید اللہ المہدی نے ابو عبداللہ کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی (اس کا نام عبداللہ تھا تقیہ کے تحت اس نے اپنا نام عبیداللہ رکھا اور یہی مشہور ہوا۔

نوٹ: اس باب میں جو کچھ لکھا ہے وہ تاریخِ فاطمیینِ مصر: جلد اول و دوم سے لیا گیا ہے)

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ 

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

2: اپنی حکومت کے چند سال بعد عبید اللہ نے حباسہ بن یوسف کو ایک زبردست بحری بیڑہ دے کر مصر کی فتح کے لئے بھیجا مگر وہ اس میں ناکام رہا ناکام واپسی پر مہدی نے اس کو قتل کروا دیا لیکن اپنے بیٹے کو جو دوسری بار مصر فتح کرنے گیا اور ناکام واپس آیا کچھ نہ کہا گیا یہ ایک امام معصوم کا انصاف تھا۔

ان دو واقعات کے بعد ہم مقریزی کا تجزیہ نقل کرتے ہیں: 

مہدی خلفائے بنی عباس میں سفاح کی مانند تھا جس طرح سفاح حمیمہ شام سے بنوامیہ کی خلافت پر غلبہ حاصل کرتا ہوا نکلا جب کہ اس کی تلوار سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے اور ابو سلمہ خلال اس کی تائید میں مصروف تھا اس طرح عبید اللہ المہدی سلمیہ شام سے نکلا جب کہ جاسوس اس کی تاک میں تھے اور ابو عبداللہ شیعی اس کی دولت کی تمہید میں مشغول تھا ان میں سے ہر ایک نے اپنا مقصد حاصل کیا اور دولت قائم کرنے والے کو قتل کیا۔ 

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: جلد اول، صفحہ، 135)

تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ فاطمی خلافت کے قیام کے لئے جو جدوجہد کی گئی اس کی نوعیت اس سے قطعاً مختلف نہ تھی جیسی کہ عام قسمت آزما  

.Every thing is fair in love and war. 

محبت اور جنگ میں ہر حرکت روا ہے کے تحت کرتے آئے ہیں اور اس کے بعد یہ کہہ کر سکون حاصل کر لیا جاتا ہے End Justifies the means انجام کار طریقہ کار کا جواز ہوا کرتا ہے۔

امام ابو القاسم محمد القائم بامر اللہ سن 322ھ، سن 334ھ، سن 934ء، سنہ 945ء وسٹفلڈ کا بیان ہے:

 یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ابو طاہر قرمطی سے ملا ہوا تھا اور اسی کے حکم سے بحرین اور ہجر کی مسجدیں اور کلامِ مجید کے نسخے جلائے گئے۔

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: جلد، اول صفحہ، 142) 

امام ابو طاہر اسماعیل المنصور باللہ سن 334ھ، سن 341ھ، سن 945ء، سن 952ء:

 ابو یزید خارجی کی بغاوت کا سلسلہ امام ابو القاسم مندرجہ بالا کے زمانہ سے چل رہا تھا امام ابو طاہر نے کامیابی کے بعد ابو یزید کے ساتھ جو کچھ کیا وہ عیون الاخبار کے حوالہ سے پیش کیا جاتا ہے:

 دوسرے مخالفین کو عبرت دلانے کے لئے ابو یزید کے بیٹے کی کھال کھنچوائی اور اس میں گھاس بھروا کر اس کا ایک ڈھانچہ تیار کروایا یہ ڈھانچہ ایک پنجرے میں رکھا گیا جس میں دو بندر چھوڑے گئے تاکہ وہ اس ڈھانچہ سے کھیلیں۔ 

(تاریخِ فاطمین مصر، جلد اول، صفحہ، 145)

مؤرخین اس کا مقابلہ عباسی خلیفہ ابو منصور سے کرتے ہیں کیوں کہ دونوں کی حکومتوں میں بغاوت ہوئی اور ان کو سختی سے کچلا گیا۔ 

امام ابو تميم معد المعز الدین اللہ سن341ھ، سن 365ھ، سن 952ء، سن 976ء:

قیصر صقلی والی باغابہ بھی استبداد کے جرم میں قتل کر دیا گیا اس کے ساتھ مظفر والی طرابلس کا جو معز امام وقت کا معلم تھا یہی حشر ہوا کیونکہ اس نے ایک دفعہ معز کو برا بھلا کہا تھا۔ 

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: جلد، اول صفحہ، 151)

 (استاد کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ تو جاہل بھی نہیں کرتے) 

امام ابو علی الحسین الحاكم بامر اللہ:

 (الحاکم سے متعلق تمام واقعات تاریخِ فاطمیینِ مصر سے لئے گئے ہیں ڈاکٹر زاہد علی نے ان واقعات کو مختلف حوالوں سے پیش کیا ہے سند کے خواہشمند ناظرین اصل کتاب سے رجوع کر سکتے ہیں) 

(سن 382ھ، سن 411ھ، سن 996ء، سن 1020ء)

 ڈاکٹر زاہد علی تاریخِ فاطمیینِ مصر میں لکھتے ہیں: 

جملہ تعداد وزیروں، قاضیوں، عہدہ داروں اور رئیسوں کی جن کی گردنیں ماری گئیں چھبیس ہے۔

وزیروں کی تعداد آٹھ ہے جن میں سے بعض کی مدتِ وزارت چند دن ہی تھی اس کے وزراء میں سے صرف ایک ہے جو اپنی موت سے مرا گردن ماری جانے والوں میں سے قائد القواد غین اور کاتب علی بن احمد جرجرائی کے واقعات عجیب و غریب ہیں جو اختصار سے پیش کئے جاتے ہیں: 

حاکم نے جرجرائی کے ہاتھ کٹوا دئیے اور اس کے بعد قائد غین کا بھی ہاتھ کٹوا دیا اس کے تین سال بعد اس کا دوسرا ہاتھ بھی کٹوا دیا گیا تھا کہا جاتا ہے کہ جب حاکم کے پاس غین کا کٹا ہوا ہاتھ ایک طبق میں بھیجا گیا تو حاکم نے غین کے مکان پر اطباء بھیجے اور کئی ہزار دینار اور کپڑے صلے میں دیئے اور تمام اہلِ دولت نے اس کی عیادت کی دس دن بعد اس کی زبان کاٹی گئی یہ زبان بھی جب حاکم کے پاس پہنچی تو اس نے پھر غین کے پاس اطباء بھیجے اس کے بعد غین کا انتقال ہو گیا۔

ایک اور درد ناک واقعہ پیش کیا جاتا ہے: 

مارہ جودریہ یہود کا ایک محلہ تھا جس میں یہ لوگ رہتے اور گایا بجایا کرتے تھے اور ایسے شعر گاتے تھے جن سے اسلام کی توہین اور مسلمانوں کی دل شکنی ہوتی تھی حاکم نے اس محلہ کو گانے والوں کے ساتھ جلوا دیا اسلام نے تو موذی جانوروں کو بھی جلانے سے منع کیا ہے۔

حسین بن علی بن نعمان چھ سال قضا کے عہدہ پر مامور رہا اس عہدہ پر مامور داعی الدعاة بھی ہوتا تھا سن 395ھ میں حاکم نے اسے قتل کرا کے اس کی لاش آگ میں ڈلوادی۔ 

ان واقعات کے بعد سودا کا شعر ذہن میں ابھرتا ہے:  

صفحہ 1 از 4