فاطمی ائمہ معصومین کا سیاسی کردار اور ان سے متعلق غیر یقینی…

فاطمی ائمہ معصومین کا سیاسی کردار اور ان سے متعلق غیر یقینی معلومات

  سید تنظیم حسین

صفحہ 2 از 4

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں 

تاریخ کے طالب علم کے لئے ان واقعات میں کوئی نئی بات نہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ واقعات اس شخص کے دورِ خلافت امامت کے ہیں جس کو (نعوذ باللہ) خدا مانا گیا اور اس کی وجہ سے فرقہ دروز وجود میں آیا۔ 

مشہور مؤرخ لین پول کا بیان بڑا دلچسپ ہے وہ لکھتا ہے: 

حاکم کے آخری زمانے میں اس پر ایک نئے جنون کا دورہ پڑا اسے یہ خیال پیدا ہوا کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ اس کے جسم میں حلول کر گیا ہے اس نے اپنے مریدوں پر جبر کیا کہ وہ اسے پوجیں جب اس کا نام لیا جاتا تو اس کے مرید راستے میں یا اس کے محل میں جہاں کہیں بھی ہوتے سجدے کے لئے جھک جاتے تھے یہ شیعی باطنی تصوف کا انتہائی نتیجہ ہے۔ (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 250) 

(یہ تاثر مشہور مؤرخ لین پول کا ہے) 

ان واقعات کے پیش کرنے کے بعد ہم حاکم نے جو کچھ اہلِ سنت اور اہلِ کتاب کے ساتھ کیا اس کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے اس لئے کہ جس کا سلوک اپنوں کے ساتھ یہ تھا اس نے اغیار کے ساتھ کیا نہ کیا ہو گا البتہ اس سلسلہ میں ایک بات اور لکھتے ہیں اور وہ یہ کہ المستنصر باللہ کے بعد اس کے بیٹوں نزار اور مستعلی میں جانشینی کے لئے بالکل اسی طرح جنگ ہوئی جس طرح عام دنیاوی حکمرانوں کی اولاد میں ہوتی آئی ہے آخر کار اس تنازعہ میں فاطمی دو فرقوں میں بٹ گئے ایک نزار کے ماننے والوں کا نزاری اور دوسرا مستعلی کے ماننے والوں کا مستعلویہ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ کچھ عرصہ بعد نزاریوں نے مستعلویہ کے امام المنصور الآمر باحکام اللہ کو قتل کر دیا ائمہ کی اس بے بسی کا یہ عالم تھا کہ ایک دوسرے امام المستنصر باللہ سن 427ھ، سن 497ھ، سنہ، 1035ء، سن 1095ء کو زہر دے دیا گیا۔ 

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، اول صفحہ، 320) 

یہ کام انجام دینے والے ان کے اپنے ہی تھے۔

 فاطمی خلافت کے آخری دور کے حکمران الظافر الاعداء اللہ سن 543ھ، تا سن 549ھ کے زمانہ کے حالات کے متعلق کتب الاعتبار نصر کی سفاکی اور خون خواری اسامہ کی شرارت اور بدمعاشی یہ ایسے سیاہ کارنامے ہیں جن کی سیاہی کو زمانے کی زبردست صیقل بھی نہیں مٹا سکتی۔ 

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 40)

(کتاب الاعتبار: صفحہ، 16) 

فاطمی خلفاء کی زندگی کے دیگر پہلو:

قتل و غارت گری اور ائمہ کی بے بسی کے بعد فاطمی خلفاء کی پر تکلف زندگی کی کیفیات پیش کی جاتی ہیں: 

شاندار محل: ائمہ مستورین میں سے امام عبداللہ محمد بن اسماعیل نے سلمیہ میں ایک شاندار محل بنوایا۔ 

(تاریخِ فاطمین مصر: حصہ، دوم صفحہ، 297)

قصرِ شرقی کبیر میں سونے کا تخت اور سونے کا محل: اس قصر کی وسعت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ اس میں تقریباً چار ہزار قطعے تھے جن میں ہر قطعہ قصر یا محل کہا جاتا تھا ان محلات کے مجموعے کا نام قصرِ کبیر تھا اس میں سونے کا ایک محل تھا جسے قصر الذہب کہتے تھے اس کا دروازہ بھی سونے کا تھا اس میں ایک شامیانے کے نیچے سونے کا تخت تھا جس پر خلفاء جلوہ نما ہوتے تھے تخت کے سونے کا وزن ایک لاکھ دس ہزار مثقال بتایا جاتا ہے مستنصر کے زمانے میں اس کے سامنے ایک پردے میں ایک ہزار پانچ سو ساٹھ مختلف رنگوں کے ہیرے جڑے گئے تقریباً تین لاکھ مثقال خالص سونا استعمال کیا گیا۔ (تاریخِ فاطمیینِ مصر: صفحہ، 126، 137 حوالہ مقریزی: حصہ، دوم)

ماہِ ربیع الآخر سن 527ھ، سنہ 1172ء میں جب دولتِ فاطمیہ کے مخصوص خزانے کھولے گئے تو درہم و دینار گھڑی ہوئی اشیاء جواہرات پوشاک اثاثہ کپڑا اور طرح طرح کے ہتھیار تھے اس کا حساب وہی کر سکتا ہے جو آخرت میں خلق کا حساب کرے۔ (مقریزی) 

سبحان اللہ مقریزی کا جملہ کس قدر معنیٰ خیز ہے۔ المعز لدین اللہ کی بیٹیوں کا ترکہ: معز کی بیٹی عبدہ کے ترکہ میں پانچ زمرد کی تھیلیاں اور مختلف قسم کے قیمتی جواہرات کے علاوہ سو صندوق جن میں خالص چاندی کے کام کے تین ہزار برتن تھے تیس ہزار قطعے صقلی زر دوزی اور کار چوبی کے معز کی دوسری بیٹی کے مال و اسباب کی قیمت کا اندازہ 27 لاکھ دینار ہے اس کے علاوہ بارہ ہزار رنگ برنگ کے کپڑے کافور قیصری سے بھرے ہوئے سو صندوق سر پر ڈالنے کے جواہر روز کئی رومال برآمد ہوئے۔ (مقریزی) (تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 126، 137)

فاطمی وزرا کی دولت و ثروت: ابنِ میسر لکھتا ہے: 

وزیر افضل کے گھر میں آٹھ سو لونڈیاں اور پچاس بیویاں تھیں ہر ایک کے لئے ایوان مخصوص تھا جس محل میں یہ شراب پیتا تھا اس میں آٹھ لڑکیوں کی مورتیں، چار سفید کافوری اور چار سیاہ عنبر میں ایک دوسرے کے سامنے نصب کی گئی تھیں ان کو نہایت عمدہ پوشاک پہنائی گئی تھی اور انہیں قیمتی زیوروں سے آراستہ کیا گیا تھا ان کے ہاتھوں میں بیش بہا جواہرات رکھے گئے تھے جب وزیر افضل اپنے محل میں داخل ہوتا تو یہ مورتیں اس کی تعظیم کے لئے سر جھکا دیتیں اور جب اپنی جگہ بیٹھتا تو پھر سیدھی کھڑی ہو جاتیں جب وہ شراب پینے کے لئے بیٹھتا تو اس کے سامنے جواہرات سے بھرے ہوئے سونے کے طبق رکھے جاتے پھر اس کے حکم دینے پر ان جواہرات کو خالی کر کے ان میں شراب بھر دی جاتی تھی۔

ائمہ کے لئے سجدے اور صلوٰة:

اس دولت و ثروت کے بعد ہم فاطمی خلفاء کی زندگی کا ایک اور رخ پیش کرتے ہیں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو تمام انسانوں سے اعلیٰ سمجھتے تھے اور بعض حقوقِ الہٰی سے نہیں بلکہ خدا کے اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرتے تھے اس کا نتیجہ داعی ناصر خسرو علوی کے قلم سے سنیئے: 

ورسم ایشان آن بود کہ ہر کجا سلطان بمردم رسیدے اور اسجدے کر دندے و صلوٰت دادندے

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 126، 137)

ائمہ سے ملاقات: حکیم ناصر خسرو علوی کو جو اسماعیلیہ کا ایک نامور داعی ہے امام ال مستنصر باللہ سے ملاقات کے لئے موئد شیرازی کی طرح ڈیڑھ سال انتظار کرنا پڑا۔ 

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، دوم صفحہ، 126، 137) 

صفحہ 2 از 4