فاطمی ائمہ معصومین کا سیاسی کردار اور ان سے متعلق غیر یقینی…

فاطمی ائمہ معصومین کا سیاسی کردار اور ان سے متعلق غیر یقینی معلومات

  سید تنظیم حسین

صفحہ 3 از 4

مندرجہ بالا دولت و ثروت اور عیش کوشیوں نیز قتل و غارت گری کے واقعات ناظرین کے لئے نئے نہیں ہوں گے عباسی خلفاء کا بھی یہی حال تھا اندلس کے مسلمان فرماں رواؤں کی بھی یہی کیفیت تھی ہندوستاں کے بادشاہ بھی کچھ کم نہ تھے مگر ان میں کوئی بھی مامور من اللہ ہونے یا معصوم ہونے کا مدعی نہ تھا اور نہ ان کو معصوم بنا کر پیش کیا گیا۔

 کاش: ان ائمہ معصومین کے مفتخر معتقدین اس برگزیدہ ہستی کی زندگی پر بھی غور کرتے جس کے نام نامی سے اس خلافت کو منسوب کیا گیا اور جس کی زندگی یہ تھی:

آں ادب پروردۂ صبر و رضا آسی گردان و لب قرآں سرا اور دولت و ثروت کا یہ حال تھا: 

بہر محتاجے دلش ایں گونہ سوخت با یہودے چادر خودرا فروخت اور اس برگذیدہ ہستی کے شوہر والا گہر امیر المئومنین سیدنا علیؓ کی زندگی کو بھی دیکھ سکتے جن کے لئے کہا گیا ہے:

 پادشاه و کلبئہ احزان او یک حسام و یک ذره سامان او ہم اس تقابل پہ اس لئے زور دیتے ہیں کہ اسماعیلیہ سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا علیؓ کو بھی معصومین میں شمار کرتے ہیں تو معصومین کی زندگی میں یہ زمین اور آسمان کا فرق کیسا؟ 

الحاصل: اس تجزیہ سے ہمارا مقصد فاطمی حکمرانوں کا محاسبہ نہیں بائنہ یہ دکھلانا مقصود ہے کہ جن افراد نے مامور من اللہ اور معصوم ہونے کا دعویٰ کیا ان کی ذاتِ گرامی سے کیسے کیسے افعال سرزد ہوئے اس صورتِ حال سے متاثر ہو کر ایک عام انسان کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں: 

1: اگر ائمہ معصومین کی حکمرانی اور تعیش کی زندگی کا یہ حال ہے تو شخصی حکمرانوں غیر معصومین خواہ کوئی بھی ہوں، کسی بھی دور میں ہوں اور ان کا تعلق کسی بھی ملک و ملت سے ہو کس لئے ہدف علامت بنایا جاتا ہے؟ 

2: ایک معصوم حکمران اور ایک غیر معصوم حکمران میں کس بنیاد پر امتیاز کیا جائے؟ اگر ان سوالات کا شافی جواب نہیں جو یقیناً نہیں ہے تو اہلِ فکر و نظر کو یہ کہنے کا حق ہے کہ:

 ایک زنگی کا نام تھا کافور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا تو ذکر ہی کیا اللہ پاک کے وہ نیک بندے جو رشد و ہدایت کا فریضہ ادا کرتے ہیں وہ تو دنیا میں سراسر رحمت اور مجسم عفو و در گزر بن کر رہتے ہی ہیں بلکہ ایسے نیک افراد کی بھی کمی نہیں جن کو اگر اقتدار ملا ہے تو بنی نوع انسان نے چین کا سانس لیا ہے ہر طرف محبت و شفقت کا دور دورہ رہا ہے اسماعیلی حضرات میں سنجیدہ اور صاحبِ فہم افراد کی کمی نہیں یہ سوالات ان کو دعوت فکر دیتے ہیں اور حق و باطل میں تمیز کرنے کے لئے ایک موقع فراہم کرتے ہیں جن حضرات نے خود کو مامور من اللہ اور معصوم کہا اور اپنے آپ کو انبیاء علیہم السلام کی صف میں لاکھڑا کیا وہ تو اپنے افعال کے ذمہ دار ہیں ہی وہ بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جو فہم و فراست رکھنے اور فاطمی دعوت کی ناکامی کے باجود بالخصوص زمانہ جدید کی سیاسی فکر و نظر کی روشنی میں مامور من اللہ اور عصمتِ ائمہ کے نظریہ کے قائل ہیں۔ 

ائمہ معصومین سے متعلق دلچسپ روایات:

سیدنا اسماعیل بن جعفر الصادق رحمۃ اللہ علیہ:

سیدنا اسماعیل وہ ہیں جن کی امامت سے متعلق اختلاف پر شیعہ دو حصوں اسماعیلیہ و موسویہ میں تقسیم ہوئے آج تک ان کی موت یا حیات بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے: 

1: ایک روایت ہے کہ ان کا انتقال سن 123ھ، سن 751ء میں ہوا اور اس وجہ سے سیدنا جعفر الصادقؒ کو ان پر کی ہوئی نص بدلنا پڑی۔ 

2: ایک روایت ہے کہ وہ سن 133ھ، سن 751ء میں موت سے ہمکنار نہیں ہوئے بلکہ سن 158ھ، سن 775ء تک بقید حیات رہے۔

3: ایک روایت ہے کہ وہ شراب پیتے تھے اس لئے ان کے والد بزرگوار نے ان پر کی ہوئی نص بدل دی۔

4: ایک روایت ہے کہ وہ بڑے نیک اطوار تھے اور امام معصوم کا بیٹا شراب خور نہیں ہو سکتا۔

5: ایک روایت ہے کہ ان کی موت کے ثبوت میں ان کے والد بزرگوار میت کا منہ کھول کھول کر دکھلاتے تھے حیرت ہے کہ پھر بھی کسی کو یقین نہیں آیا۔

6: ایک روایت ہے کہ ان کو عباسیوں کے ظلم و ستم کے خوف سے ان کے والد بزرگار نے شام بھیج دیا کتنی حیرت کی بات ہے کہ جس کے نام پر ایک علیحدہ فرقہ وجود میں آیا اس کی حیات و ممات ہی ایک ہزار سال سے موضوع بحث بنی ہوئی ہے یہ صورتِ حال امامیہ، اسماعیلیہ ہی میں نہیں امامیہ، اثناء عشری میں بھی اس سے کم نہیں دیکھئے: shorter Incyclopedia of Islam مقالہ اثناء عشریہ) 

اسماعیلی ائمہ مستورین تاریکی میں:

سن 133ھ، تا سن 297ھ، سن 751ء، سنہ 909ء

سیدنا اسماعیل بن جعفر الصادقؒ کی وفات سے عبید اللہ المہدی کے ظہور تک کی مدت 164 سال ہے اس درمیان میں امامت سے متعلق جو باپ کے بعد بیٹے کو منتقل ہوتی ہے اتنی غیر یقینی کیفیت ہے کہ تاریخ میں اس دور میں ائمہ کے 9 سلسلہ ہیں عبید اللہ المہدی جو پہلا فاطمی خلیفہ امام ہے ان کا نسب اس حد تک مشتبہ ہے کہ اس سے متعلق مؤرخین بلکہ خود اسماعیلیہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے ڈاکٹر زاہد علی نے جو خود داؤدی بوہرے تھے اس موضوع پر طویل بحث کی ہے اور آخر میں لکھتے ہیں: 

بحث نسب کا خلاصہ:

بحثِ نسب کا خلاصہ یہ ہے کہ محمد بن اسماعیل بن جعفر الصادقؒ اور عبد اللہ بن میمون القداح دونوں کا وجود تاریخ سے ثابت ہے جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے ثبوت طلبِ امر حسبِ شجرہ ذیل صرف اتنا ہے کہ دولتِ فاطمیہ کا پہلا امام مہدی محمد بن اسماعیل کی نسل سے ہے نہ کہ عبداللہ بن میمون القداح کی نسل سے جو دعوتِ اسماعیلیہ کا صدر تھا۔ 

(تاریخِ فاطمیینِ مصر: حصہ، اول صفحہ، 87)

 عبید اللہ المہدی جو پہلا فاطمی خلیفہ ہوا اس کے متعلق اور بھی بہت کچھ لکھنے کے لئے ہے لیکن سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا نام عبداللہ تھا اس نے تقیہ کر کے اپنا نام عبید اللہ رکھا اور یہ راز ہی رہا حتیٰ کہ یہ خلافت خلافتِ عبیدیہ کہلائی اور اس خاندان والوں کو "عبیدیون" کہا گیا اس قسم کی باتیں تو دنیاوی غیر معصوم حکمرانوں کو بھی زیب نہیں دیتیں لیکن جو شخص دینِ حق کا داعی ہو اس کے شایانِ شان کیسے ہو سکتی ہیں اور اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس کے پیرو جن بنیادوں پر اس کو مامور من اللہ اور معصوم سمجھ رہے ہیں وہ ہی ابھی تک زیرِ بحث ہیں۔

صفحہ 3 از 4