آثار رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تبرک
علی محمد الصلابیعبدالاعلی بن میمون اپنے باپ سے ان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک قمیص پہنائی تھی جو میں نے سنبھال کر رکھی ہے، آپ نے ایک دن اپنے ناخن ترشوائے تو میں نے ان کے تراشوں کو ایک شیشی میں محفوظ کر لیا۔ جب میں مر جاؤں تو مجھے وہ قمیص پہنا دینا، اور تراشوں کا سرمہ بنا کر میری آنکھوں اور منہ میں چھڑک دینا۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے مجھ پر رحم فرمائے۔
( تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 245)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسی اور سیدنا معاویہؓ کی ذات سے منفصل آثار مبارکہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تبرک حاصل کرنا، اس کا شمار تبرک کی مشروع قسموں میں ہوتا ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور اس کے بعد بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول رہا۔
(مرویات معاویۃ: صفحہ 93)
علاوہ ازیں سلف صالحین علیہما السلام بھی اس پر عمل پیرا رہے، اس کے چند دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
ا: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، اس وقت میں بیمار تھا اور بے ہوشی کی حالت میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اس کا پانی مجھ پر انڈیل دیا جس سے مجھے ہوش آ گیا۔
(فتح الباری شرح صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 360)
ب: عثمان بن عبداللہ بن وہب کہتے ہیں:
میرے اہل خانہ نے پانی کا ایک برتن دے کر ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال تھے، جب کسی انسان کو نظر لگ جاتی یا اسے اور کوئی تکلیف ہو جاتی تو وہ ان کے پاس کوئی برتن بھیجتا۔
(ایضاً: جلد 10 صفحہ 364)
اس کی تشریح میں ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی تکلیف ہوتی تو وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس کوئی برتن بھیجتا اور وہ اس برتن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ بال ڈبو کر اسے واپس کر دیتیں۔ وہ اس پانی کو پی لیتا اور صحت یاب ہو جاتا۔
(ایضاً: جلد 10 صفحہ 365)
ج: سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جبہ کے بارے میں فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت یہ جبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، پھر جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں تو میں نے اسے اپنے پاس رکھ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے زیب تن فرمایا کرتے تھے اور ہم اس سے شفا حاصل کرنے کے لیے اسے مریضوں کے لیے دھوتے ہیں۔
(شرح نووی: جلد 14 صفحہ 43)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار سے تبرک کے مسئلہ پر نیک لوگوں کے آثار سے تبرک کو متفرع کیا گیا ہے، عروہ بن مسعود ثقفی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں قریش مکہ کو بتایا تھا کہ واللہ! میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے رفقاء اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کرتے ہیں۔ واللہ! وہ تھوکتے بھی تھے تو وہ کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ پر پڑتا تھا اور وہ اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا تھا۔ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ اس پانی کے لیے لوگ لڑ پڑیں گے۔
(زاد المعاد: جلد 3 صفحہ 290۔ السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الاصلیۃ: صفحہ 488)
اس حدیث کی تعلیق میں شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس جیسی اور بھی کئی احادیث ہیں۔ مزید فرماتے ہیں: اس قسم کا تبرک اس آدمی کے حق میں مشروع ہے جس کی ولایت اور اتباع سنت ثابت ہو۔ مگر اس جگہ ایک مشکل پیش آتی ہے اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس قسم کی کوئی چیز مروی نہیں ہے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل کسی کو نہیں چھوڑا تھا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تھے مگر انہوں نے اس قسم کا کبھی کوئی کام نہ کیا اور نہ ہی سیدنا عمر و عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے ایسی کوئی بات ثابت ہے۔ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جن سے افضل امت میں کوئی ایک شخص بھی نہیں ہے ان سے بھی کسی ایک صحابیہ کے بارے میں صحیح سند کے ساتھ یہ ثابت نہیں ہے کہ اس نے اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپﷺ کے آثار وغیرہ سے تبرک حاصل کیا ہو، یہ سب لوگ اقوال و افعال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع تک محدود رہے اور آپﷺ کے نقش قدم پر چلنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس قسم کی چیزوں کے ترک پر اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجماع ہے۔
(غزوہ الحدیبیۃ، حکمی: صفحہ 305)