نبی ﷺ کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قراءات اور حروف سبعہ…

نبی ﷺ کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قراءات اور حروف سبعہ کی تعلیم دینا

  ڈاکٹر ناصر بن سعد القثامی

صفحہ 2 از 2
ترجمہ: جب میں نے ان کی قراءت پر غور کیا تو میں نے سنا کہ وہ متعدد ایسے حروف پر قراءت کر رہے تھے جو رسول اللہﷺ‏ نے مجھے نہیں پڑھائے تھے۔
ان الفاظ میں اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورہ فرقان کا ایک ایک حرف اور اس کی ادائیگی کا طریقہ اسی طرح ازبر تھا جس طرح انہوں نے رسول اللہﷺ‏ سے سنا تھا۔ چنانچہ جب رسول اللہﷺ‏ نے دونوں سے مختلف وجوہِ قراءۃ پر سورۃ فرقان سنی تو زبانِ نبوتﷺ‏ سے دونوں کی توثیق کرتے ہوئے فرمایا:
ھکذا أنزلت
ترجمہ: ہاں اسی طرح نازل ہوا ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب الخصومات، باب الخصوم بعضہم فی بعض: رقم، 2419)
ابنِ جزریؒ نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
اقام ائمۃ ثقات تجردوا لتصحیحہ، وبذلوا انفسہم فی اتقانہ وتلقوہ من النبی حرفا حرفا، لم یھملوا منہ حرکۃ ولا سکونا ولا اثباتا ولا حذفا ولا دخل علیہم فی شئ منہ شک ولا وہم، و کان منہم من حفظہ کلہ و منہم من حفظ اکثرہ، و منہم من حفظ بعضہ، کل ذلک فی زمن النبی صلی اللّٰه عليه وسلم 
(النشر فی القراءت العشر: جلد، 1 صفحہ، 6 ابنِ الجزری، شمس الدین ابوالخیر محمد بن محمد بن یوسف (ت 633ھ) تصحیح و مراجعۃ: علی محمد الضباع، مکتبہ التجاریۃ الکبریٰ، مصر تصویر دار الکتاب العلمیۃ)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) ایسی معتبر اور ثقہ شخصیات کو کھڑا کیا جنہوں نے اپنے آپ کو قرآن کریم کی حرف بحرف درست قراءۃ کے لیے وقف کر دیا۔ اور اس فن میں مہارت کے لیے اپنی ساری کوششیں صرف کر دیں۔ انہوں ایک ایک حرف، حرکت، سکون، اثبات اور حذف کو براہِ راست رسول اللہﷺ‏ سے حاصل کرنے کا اہتمام کیا۔ انہیں قراءتِ قرآنیہ پر اس قدر عبور تھا کہ کبھی اس سلسلہ میں انہیں کوئی وہم اور شک لاحق نہیں ہوا۔ ان میں سے بعض وہ تھے، جنہیں مکمل قرآن یاد تھا، بعض کو اکثر اور بعض کو کچھ حصہ یاد تھا۔ اور یہ سب کچھ دورِ رسالت میں وقوع پزیر ہوا۔
اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سبعہ احرف اور قراءتِ قرآنیہ کے فن میں خاصی شہرت رکھتے تھے اور قرآن کے اکثر حصہ پر انہیں عبور حاصل تھا۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِی رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَ سَبْعِينَ سُورَةً 
(صحیح البخاری، کتاب جمع القرآن، باب القراء من أصحاب النبی: رقم، 5000)
ترجمہ: میں نے70 سے زائد سورتیں براہِ راست رسول اللہﷺ‏ کی زبانِ اقدس سے حاصل کی تھیں۔
وہ مزید فرماتے ہیں:
وفات کے سال حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے دو دفعہ آپﷺ‏ پر قرآن پیش کیا۔ جب آپﷺ‏ قرآن کے دَور سے فارغ ہوئے تو میں نے آپﷺ‏ کے سامنے قرآن پڑھنا شروع کیا۔ میں پڑھ رہا تھا اور آپﷺ‏ میری تحسین فرما رہے تھے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص میری قراءۃ کے مطابق پڑھے تو نفرت میں اسے ترک نہ کرے۔ اور اگر دیگر قراءت میں سے کوئی قراءۃ پڑھے تو بھی نفرت میں اسے ترک نہ کرے۔ جس نے ایک آیت کا انکار کیا، گویا اس نے تمام آیات کا انکار کر دیا۔ 
(تفسیر الطبری: جلد، 1 صفحہ، 28 المعجم الکبیر للطبرانی: جلد، 10 صفحہ، 204 شعب الایمان للبیہقی: جلد، 3 صفحہ، 534)
امام سخاویؒ نے ابو عبید قاسم بن سلام کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب القراءت کے آغاز میں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر کیا ہے جن سے کسی قدر وجوہِ قراءت نقل ہوئی ہیں، خواہ وہ ایک حرف ہے یا اس زیادہ ہیں۔ 
(جمال القراء و کمال الاقراء، ابو الحسن السخاوی: صفحہ، 515)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بڑی محنت سے ان تمام قراءت کو امت کے سامنے پیش کیا جو انہوں نے براہِ راست رسول اللہﷺ‏ سے حاصل کی تھیں اور اپنی زندگی قراءتِ قرآنیہ کو پڑھانے کے لیے وقف کر دی۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ نے سام بن مشکم کے حوالہ سے لکھا ہے کہ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ان لوگوں کو شمار کرو جو میرے پاس قرآن پڑھ رہے ہیں۔ میں نے گنا تو ان کی تعداد 1070 سے اوپر تھی اور دس طلباء کے لیے ایک قاری مقرر تھا۔ امام ذہبیؒ لکھتے ہیں:
یہ وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے رسول اللہﷺ‏ کی زندگی میں قرآن کریم حفظ کر لیا اور پھر ان سے آئندہ نسلوں نے براہِ راست قرآن حاصل کیا۔ مشہور قراءت کی اسانید انہیں کے گرد گھومتی ہیں۔
(معرفۃ القراء الکبار الذہبی: جلد، 1 صفحہ، 20) 
اسم الكتاب: 
حدیث سبعہ احرف کا عمومی جائزہ
مترجم: ڈاکٹر محمد اسلم صدیق

صفحہ 2 از 2