غیر مسلم اقوام کی مذہبی آزادی
غیر مسلم اقوام کی مذہبی آزادی
اسلام اپنی سلطنت میں بسنے والی غیر مسلم اقوام کو پوری مذہبی آزادی دیتا ہے، لیکن اس میں یہ بات اصولی ہے کہ ان کی یہ آزادی سلطنت اسلامی کا مروت و احسان ہے، جو اسلام کا انسانی چارٹر ہے۔ ان انسانی حقوق پر ان کی مذہبی آزادی مرتب کی گئی ہے۔ سو اگر کوئی غیر مسلم قوم، مذہبی آزادی میں اپنی انسانی قدروں کو کھو دے تو پھر ان کی مذہبی آزادی پابندیوں کی جکڑ میں آ جاتی ہے۔
مسلمان دارالحرب میں ہوں تو انہیں جو مذہبی مراعات حاصل ہوں گی، وہ اس غیر اسلامی حکومت کا احسان اور ان کا ایک اخلاقی ضابطۂ کار ہو گا۔ اسی طرح جو غیر مسلم اقوام اسلامی سلطنت میں رہتی ہیں، انہیں جو رعایتیں دی جائیں اور ان سے جو عہد و پیمان باندھے جائیں، وہ دارالاسلام کے مسلمانوں کا مروت و احسان ہو گا، اسے اُن کا کوئی آئینی حق نہ کہیں گے۔
اسی طرح انہیں کسی ایسے کلیدی عہدے پر لے آنا کہ خود مسلمان اُن کے دست نگر ہو جائیں، درست نہیں ہو گا۔ اس کے لئے قرآن کریم کی اس آیت سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے: وَلَنۡ يَّجۡعَلَ اللّٰهُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ سَبِيۡلًا: اور ہرگز نہ دے گا اللّٰہ، کافروں کو مسلمانوں پر غلبے کی راہ :وقال تعالٰى: وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ: اور غلبہ تو اللّٰہ تعالیٰ، اس کے رسولﷺ اور مؤمنوں کے لئے ہے۔
کافروں میں سب سے زیادہ مسلمانوں کے قریب اہلِ کتاب ہیں، ان کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ صلح سے رہیں تو ماتحت ہو کر رہیں، برابر کی حیثیت سے نہیں۔ ارشاد خداوندی ہیں:
:قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوۡلُهٗ وَلَا يَدِيۡنُوۡنَ دِيۡنَ الۡحَـقِّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ حَتّٰى يُعۡطُوا الۡجِزۡيَةَ عَنۡ يَّدٍ وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ:
ترجمہ: وہ اہلِ کتاب جو نہ اللّٰہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ یوم آخرت پر اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے، اور نہ دین حق کو اپنا دین مانتے ہیں ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں (یعنی جب محکوم رعیت بن جائیں تو اُن سے جہاد کرنا ترک کر دو) ۔
حدیث شریف میں ہے: الاسلام يعلو ولا يعلى عليه: اسلام اوپر رہتا ہے، اسے نیچے نہیں رکھا جا سکتا۔ امام نوویؒ اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ: اس سے مراد اسلام کا دوسرے مذاہب سے بڑھ کر رہنا ہے۔
اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ اَزبس ضروری ہے، انہیں ان چار عنوان سے بیان کیا جا سکتا ہے:
(1) وحدت امت کا تحفظ……امت کی سالمیت اور اس کا استقلال ہر صورت میں قائم رکھنا ضروری ہے۔
(2) شعائر امت کا تحفظ……امت کے عملی زندگی اور اس زندگی کے محرکات ہر صورت میں قائم رہنے چاہیں۔
(3) افراد امت کا تحفظ……امت کے ایک ایک فرد کی ہر دینی اور دنیوی فتنے سے حفاظت کی جانی چاہیے۔
(4) حوزہ امت کا تحفظ……امت کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی پوری حفاظت کی جائے۔
(1) وحدتِ اُمت کا تحفظ
اُمت وحدت پیغمبرﷺ کے گرد قائم ہوتی ہے، وحدتِ اُمت کا سنگِ بنیاد اور مرکز و محور پیغمبر کی شخصیت ہوتی ہے، اور امت کے افراد جب تک پیغمبرﷺ کی شخصیت اور پیغمبرﷺ کے لائے ہوئے دین کی بنیادی عقائد میں جنہیں ضروریاتِ دین کہا جاتا ہے، متحد رہیں تو وحدتِ اُمت قائم رہتی ہے۔ پیغمبرﷺ جس طرح لوگوں تک اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کا پیغام پہنچاتے ہیں، اسی طرح اپنے ماننے والوں کی ایک امت بھی قائم کرتے ہیں، جب تک اس امت کی وحدت قائم رہے، اس پیغمبرﷺ کی رسالت کا اثر باقی رہتا ہے، اور جب وحدتِ اُمت قائم نہ رہے تو رسالت کا اثر جاتا رہتا ہے۔
حضور اقدسﷺ نے بھی ایک امت بنائی اور ان کے دل اپنے فیضِ محبت سے پاک کئے اور یہ سلسلۂ اُمت اب تک قائم اور باقی ہے، اور اسی کو امتِ مسلمہ کہا جاتا ہے۔ ضروریاتِ دین میں سب مسلمان متحد اور اُمت واحدہ ہیں۔ حضور اکرمﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں، اور اس امت کے بعد کوئی اُمت نہیں۔
اور اب اگر اس اُمت میں حضور اقدسﷺ کو آخری نبی ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں برابر کے شریک ہوں، وہ ایک دوسرے کو علی الاعلان اسلام کے بنیادی عقائد سے منحرف بھی قرار دیں، اور پھر ایک اُمت کہلائیں تو ظاہر ہے کہ اس التباس سے اُمت کا تشخص ختم ہو جائے گا۔ اُمت اپنے مخصوص معتقدات سے ہی پہچانی جاتی ہے، جب انہیں میں التباس ہو گیا تو اُمت کہاں رہی؟ سو اَفرادِ اُمت کو حق پہنچتا ہے کہ جو لوگ ان سے بنیادی عقائد میں منحرف ہو جائیں، انہیں اس اُمت میں شامل نہ رہنے دیں، نکال باہر کریں، ورنہ وحدتِ اُمت کا تحفظ نہ ہو سکے گا۔
اب ان باہر نکلنے والوں کا ہنوز اس اُمت میں شامل رہنے کا دعویٰ مسلمانوں کے حقِ وحدت میں مداخلت ہوگی، وہ اگر مسلمان کہلانے پر اصرار کریں تو یقیناً مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں مخل اور دخل انداز ہوں گے۔
اسلام جب تمام اقلیتوں کو اُن کی حدود میں مذہبی آزادی دیتا ہے تو یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ خود اپنی آزادی میں دوسروں کی مداخلت برداشت کر لے……؟
سو قادیانیوں (اور شیعوں) کا اسلام کا نام استعمال کرنے پر اصرار……مسلمانوں کی وحدتِ اُمت کے حق میں ایک مداخلت بے جا ہے۔ مسلمانوں کا اُن سے یہ مطالبہ کہ وہ مسلمان نہ کہلائیں، اُن کے اوپر بوجھ ڈالنا نہیں، خود اپنی ذات کی حفاظت کرنا ہے۔ کوئی اُمت دوسروں کی خاطر اپنی سالمیت کو مجروح نہیں کرتی، قوموں کی سالمیت جن چیزوں سے باقی رہتی ہے، انہیں ہی ان کے شعائر کہتے ہیں۔
(2) شعائر امت کا تحفظ
مسلم سوسائٹی جن جگہوں، جن کاموں اور ناموں سے پہچانی جاتی ہے، انہیں شعائر اسلام کہا جاتا ہے۔ یہ اسلام کے وہ نشان ہیں جن سے مسلم آبادیاں اور مسلمان لوگ پہچانے جاتے ہیں۔ جب تک کسی امت کے شعائر محفوظ رہیں اور لوگ اپنے شعائر کا پوری غیرت سے پہرہ دیتے رہیں، تو اُمت کا تشخص باقی رہ سکتا ہے، ورنہ نہیں۔
بس ان شعائر میں کسی ایسے طبقے کی مداخلت جو کچھ بنیادی عقائد میں مسلمانوں سے منحرف ہو چکے ہوں اور مسلم معاشرے سے وہ باہر بھی کیے گئے ہوں۔ مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں مداخلت ہو گی کہ جو لوگ ان میں سے نہیں ہیں، خوامخواہ ان میں گھس رہے ہیں، یہ شعائر مکانی بھی ہیں اور عملی بھی۔ پھر کچھ شعائر مرتبی بھی ہیں۔ اور اُمت کی پہچان اور تشخص میں ان سب کا دخل ہے، انہی سے اُمت قائم رہتا ہے اور مسلمان دوسری قوموں میں انہی نشانات سے پہچانے جاتے ہیں۔
پس اگر کوئی غیر مسلم اقلیت اپنی عبادت کے بلاوے کو اذان کہنے لگے اور اس کے الفاظ بھی وہی مسلمانوں جیسے ہوں، اور وہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہے تو اسے اس غیر مسلم اقلیت کی مذہبی آزادی نہ کہا جائے گا، بلکہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کی بربادی سمجھا جائے گا، کہ جن شعائر سے اس اُمت کا تشخص قائم تھا۔ اب اس میں التباس ڈال دیا گیا ہے اور اُمتِ مسلمہ کے اس تشخص کو ضائع کر دیا گیا ہے کہ ان امتیازات میں وہ لوگ بھی شریک ہونے لگیں ہیں جو یقیناً ان میں سے نہیں ہیں۔
مسجد اور آذان
مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے، اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ کے ہاں پسندیدہ دِین ہمیشہ سے اسلام ہی رہا ہے، اور سب انبیاء کرام علیہم السلام اپنے اپنے وقت میں مسلم ہی تھے، سب کا دِین ایک رہا، اور سب اپنے اپنے وقت میں مسلمان تھے، پیغمبروں میں شریعتیں تو بدلتی رہی ہیں، لیکن دین سب کا ہمیشہ ایک رہا ہے۔
آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ: سب انبیاء آپس میں اُن بھائیوں کی طرح ہیں جو مختلف ماؤں سے ہوں اور باپ ایک ہوں، دِین سب انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک رہا ہے۔
اس دِین کا نام اسلام ہے، اور ہر پیغمبر نے اسی کی طرف دعوت دی ہے۔ اور قرآن کریم میں پہلے صحیح العقیدہ انسانوں کے لیے لفظ مسلم عام ملتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی بنائی ہوئی مسجد المسجد الحرام اور حضرت سلیمانؑ کی بنائی ہوئی مسجد المسجد الاقصی کہلائی۔ معلوم ہوا کہ مسجد ابتدا ہی سے مسلمانوں کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کا نام رہا ہے۔
مشرکین نے اپنے دورِ اقتدار میں خانۂ کعبہ میں بت رکھ دیئے ،مگر یہ مسجد چونکہ مسلمانوں کی بنائی ہوئی تھی، اس لئے اُن بتوں کے باوجود اس سے مسجد کا نام جدا نہ ہو سکا۔ ایسا کرنا حدیث شریف الاسلام يعلو ولا يعلى عليه: کے خلاف تھا، سو نام مسجد کا ہی غالب رہا۔ اسے مشرکین کی عبادت گاہ کا نام نہ دیا جا سکا۔ مسجد ابتدائی طور پر مسجد ہو تو مسجدیت کا حکم اس سے قیامت تک نہیں چھین سکتا۔ اسلام کی نسبت اور کفر کی نسبت کا آپس میں ٹکراؤ ہو تو اسلام کی نسبت ہی غالب رہے گی۔
غیر مسلم کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کا نام کبھی مسجد نہیں ہوا۔ یہ شعائر اسلام میں سے ہے اور یہ مسلمانوں کے عبادت گاہ کا نام ہی ہو سکتا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ نے قرآن کریم میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ……کچھ نوجوان تھے، جنہوں نے مشرک حکومت سے بچ کر ایک غار میں پناہ لی تھی، اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ نے اُن پر ایک طویل نیند وارد کر دی، جب یہ اٹھے تو نظام حکومت بدل چکا تھا، اب حکومت عیسائیوں کی آ چکی تھی، یہ اُس وقت کے مسلمان تھے، مشرکین ماتحت تھے اور اُن کا زور ٹوٹا ہوا تھا۔ اصحاب کہف کی خبر پھیلی تو لوگوں نے چاہا کہ اس جگہ ان کی کوئی یادگار قائم کریں۔ قرآن کریم میں ہے :اِذۡ يَتَـنَازَعُوۡنَ بَيۡنَهُمۡ اَمۡرَهُمۡ فَقَالُوۡا ابۡنُوۡا عَلَيۡهِمۡ بُنۡيَانًـا ؕ رَبُّهُمۡ اَعۡلَمُ بِهِمۡؕ قَالَ الَّذِيۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰٓى اَمۡرِهِمۡ لَـنَـتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِمۡ مَّسۡجِدًا: جب وہ ان کے معاملے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے وہ کہنے لگے: بناؤ اُن پر ایک عمارت، ان کا رب ہی ان کو بہتر جانتا ہے، وہ لوگ جو غالب آ چکے تھے، ان کو کہنے لگے ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے۔
مشرکین کا یہ کہنا کہ چونکہ وہ ہماری قوم میں سے تھے، اس لئے ہم ان پر اپنے طریقے سے کوئی عمارت بنائیں گے، اصولاً درست نہ تھا، کیونکہ یہ موحد تھے، اور عیسائیوں کا (جو اُس وقت کے مسلمان تھے) کہنا کہ ہم ان پر مسجد بنائیں گے کیونکہ وہ اعتقاداً توحید پرست تھے، بے شک درست تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ مسجد ہمیشہ سے مسلمانوں کی ہی عبادت گاہ کا نام رہا ہے، اور اُس وقت کے مسلمان جو حضرت عیسیٰؑ کی اُمت تھے۔ وہاں مسجد ہی بنانا چاہتے تھے۔
حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ: مسلمانوں نے کہا: ہم ان پر مسجد بنائیں گے، جہاں لوگ نماز پڑھیں گے، کیونکہ یہ لوگ ہمارے دِین پر تھے (موحد تھے)، اور مشرکین نے کہا: ہم ان پر یادگار بنائیں گے، یہ ہماری قوم سے تھے۔
تفسیر :فتح المنان: میں ہے کہ: ہم ان پر مسجد بنائیں گے، جن میں مسلمان نماز پڑھیں گے، اور ان کے حالات سے سبق لیں گے، اور مسجد بنانے کا ذکر پتہ دیتا ہے کہ یہ لوگ جو اب ان پر غالب آ چکے تھے وہ مسلمان تھے۔
اسلام اپنی کامل ترین شکل میں حضور اکرمﷺ کے عہد میں جلوہ گر ہوا، اب مسجد انہی کی عبادت گاہ کا نام ٹھہرا، پچھلی اُمتیں جو گو اپنے اپنے وقت میں اہلِ مساجد میں سے تھیں، اس آخری رسالت پر اگر ایمان نہ لائیں تو اب اہلِ صومعہ یا اہلِ بیعہ بن گئیں، اب ان کی عبادت گاہوں کا نام مساجد نہ ہو گا۔ مساجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو ہی کہا جائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ نے قرآن کریم میں یہ فرق قائم فرما دیا، اب جائز نہ رہا کہ اس کے بعد کسی اور قوم کی عبادت گاہ کو مسجد کہا جائے۔ اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا:
:وَلَوۡلَا دَ فۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ: اور اگر نہ روکتا اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ بعض لوگوں کو بعض سے، تو ڈھا دیئے جاتے تکئے اور گرجے اور عبادت خانے اور مسجدیں۔
اب مسجدیں مسلمانوں کا شعار بن گئیں، جہاں مسجد نظر آئے یا اذان ہو، مسلمانوں کو حکم ہوا کہ وہاں کسی کو قتل نہیں کرنا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسجدیں ہیں ہی مسلمانوں کی، کسی اور قوم کی عبادت گاہ نہیں بن سکتیں، اگر ایسا ہو سکتا تو حضور اقدسﷺ مسجد دیکھنے سے ہی چڑھائی کو روک دینے کا حکم نا فرماتے اذا رايتم مسجدا او سمعتم اذانا فلا تقتلوا احدا:
اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد اور اذان مسلمانوں کے شعائر ہیں، کوئی غیر مسلم قوم ان کو اپنا نہیں کہہ سکتی۔
حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس حدیث پر لکھتے ہیں کہ مسجد شعائر اسلام میں سے ہے، چنانچہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب تم کسی مسجد کو دیکھو، یا کسی مؤذن کو اذان کہتے سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔
آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ: کسی شخص کو مسجد میں عام آتے جاتے دیکھو تو اُس کے مسلمان ہونے کی شہادت دو۔
آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جب تم کسی شخص کو مسجد میں عام آتا جاتا دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں :اِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ: اللّٰہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مساجد اسلام کے امتیازی نشان اور مسلمانوں کے شعائر ہیں، کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ مسجد کہلائے تو مسلمان کس طرح وہاں آنے جانے والوں کو مسلمان کہہ سکے گا؟ قادیانیوں (اور شیعوں) کو بھی اگر مسجد بنانے کی اجازت ہو تو اس صورت میں اس طرح کی احادیث کو کیا معطل ہو کر نہ رہ جائیں گی……؟
یہ بات صحیح ہے کہ مسجدیں ملتِ اسلامیہ کا امتیازی نشان ہیں، جب تک کسی کا مسلمان ہونا ثابت نہ ہو، اس کو مسجد میں کوئی حق ثابت نہیں ہوتا۔